Android AppiOS App

تمام سرکاری عہدے ختم۔۔۔عاصم باجوہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی بھی نہ رہے،بڑادعویٰ کردیاگیا

  منگل‬‮ 13 اکتوبر‬‮ 2020  |  17:45

سینئر صحافی انصار عباسی نے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ، لیکن اب وہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین بھی نہیں رہے کیونکہ سی پیک اتھارٹی کو جس آرڈیننس کے تحت قانونی تحفظ حاصل تھا وہ اب ختم ہو

چکا ، اگرچہ انتظامی لحاظ سے عاصم باجوہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی ہیں لیکن قانونی لحاظ سے یہ ادارہ بغیر کسی قانونی مینڈیٹ کے کام کر رہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق انصار عباسی نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ اتھارٹیاں پارلیمانی قانون سازی کے ذریعے قائم کی جاتی ہیں ، ان کے قیام کیلئے انتظامی ہدایت نامے جاری نہیں کیے جاتے ، اسی طرح عاصم باجوہ کو

آرڈیننس کا قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے چیئرمین سی پیک اتھارٹی لگایا گیا تھا تاہم اب اس آرڈیننس کی معیاد ختم ہو چکی ہے ، جب کہ اس وقت کوئی ایسا قانون بھی موجود نہیں جو سی پیک اتھارٹی کے قیام کو تحفظ دے سکے۔انصار عباسی نے سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کو چیئرمین سی پیک لگانے کیلئے جو قانونی طریقہ استعمال کیا گیا وہ اب ختم ہو چکا ،

جس کی وجہ سے ان کا تقرر قانونی طور جائز نہیں اور وہ کام جاری نہیں رکھ سکتے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں وزیراعظم عمران خان کے دورۂ چین سے ایک دن پہلے حکومت کی طرف سے سی پیک اتھارٹی آرڈیننس جاری کیا گیا، جس کا مقصد چین کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان سنجیدہ ہے اور اس نے سی پیک کیلئے قانونی میکنزم تشکیل دے دیا ، تاہم اب آرڈیننس کی معیاد ختم ہوچکی ہے اور پارلیمنٹ نے اسے تاحال منظور نہیں کیا ، جب کہ آئین کے تحت کسی بھی جاری کردہ آرڈیننس میں صرف ایک مرتبہ ہی توسیع کی جا سکتی ہے ، گزشتہ ماہ حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران ایف اے ٹی ایف سے متعلق چند اہم قانون منظور کیے لیکن سی پیک اتھارٹی کو قانونی تحفظ دینے کیلئے کسی بھی قسم کی قانون سازی نہیں کی گئی۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎