Android AppiOS App

لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کے مرکزی ملزم عابد علی ملہی کو کس قریبی رشتہ دار نے گرفتار کرایا؟ اس کے ساتھ کتنے لوگ حراست میں لئے گئے؟ تہلکہ خیز انکشافات

  منگل‬‮ 13 اکتوبر‬‮ 2020  |  12:21

لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کے مرکزی ملزم عابد علی ملہی کی گرفتاری میں اس کے چچا خالد نے اہم کردار ادا کیا، نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ مرکزی ملزم کے ساتھ دو اور لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیاہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خالد کا اپنا بیٹا عابد کے ساتھ رابطے کی وجہ سے گرفتار ہوا تھا۔ مرکزی ملزم عابد علی ملہی کا خالد کے بیٹے کے ساتھ سب سے زیادہ رابطہ تھا، کچھ روز پہلے اس کا موبائل فون لے لیا گیا تھا جس کی وجہ سے تحقیقات

میں اہم پیشرفت سامنے آئی اور حساس اداروں کی مدد سے گرفتار کر لیاگیا۔ واضح رہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے کیس کا مرکزی ملزم عابد ایک ماہ تک فرار رہنے کے بعد

فیصل آباد سے گرفتار ہوگیا۔پولیس کے مطابق موٹروے کیس کے مرکزی ملزم عابد کو فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا، شریک دوسرا ملزم شفقت پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے، مرکزی ملزم عابد علی ملہی کا ڈی این اے کیا جائے گا۔ اس سے قبل 4 مرتبہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عابد کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا تاہم اب اسے پکڑ لیا گیا۔ملزم کی گرفتاری میں پنجاب پولیس کی دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی

معاونت کی اور سائنٹفک طریقے بھی استعمال کیے گئے۔ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کے ساتھ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر افسوسناک واقعہ رونما ہوا۔ ایف آئی آر کے مطابق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے اپنی کار میں اپنے دو بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ واپس جا رہی تھی کہ رنگ روڈ پر گجر پورہ کے نزدیک اس کی کار کا پیٹرول ختم ہو گیا۔کار کا پیٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر خاتون شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔جب گاڑی بند تھی تو خاتون نے موٹروے پولیس کو بھی فون کیا مگر موٹر وے پولیس نے

مبینہ طور پر کہا کہ

کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔ایف آئی آر کے مطابق اتنی دیر میں دو مسلح افراد موٹر وے سے ملحقہ جنگل سے آئے اور کار کا شیشہ توڑ کر زبردستی خاتون اور اس کے بچوں کو نزدیک جنگل میں لے گئے اور اس سے طلائی زیورات اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔ خاتون کی حالت خراب ہونے پر اسے ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا، خاتون کے رشتے دار کی مدعیت میں پولیس نے مقدمہ درج کر لیا گیا تھا، اب پولیس کو بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور انہوں نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎