Android AppiOS App

لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس، 2 روز مرکزی ملزم عابد علی ملہی اپنے سسرال میں رکا، چھاپہ مارنے پر فرار ہو گیا، پھر کہاں سے پکڑا گیا؟ حیران کن انکشاف

  منگل‬‮ 13 اکتوبر‬‮ 2020  |  12:17

لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کے مرکزی ملزم عابد علی ملہی کو مانگا منڈی سے گرفتار کیا گیا، پولیس ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم عابد علی ملہی کی تاندلیانوالہ میں اپنے سسرال میں موجود ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی، جب وہاں ریڈ کی گئی تو ملزم وہاں سے فرار ہو گیا۔پولیس نے ملزم کا پیچھا جاری رکھا، تاندیانوالہ سے وہ سیدھا مانگا منڈی گیا اور اپنے والد کے گھر جا کر چھپ گیا جہاں سے اسے گرفتار کر لیا گیا، پولیس ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم دو روز سے اپنے سسرال میں چھپا ہوا تھا۔

یاد رہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کے مرکزی ملزم عابد علی ملہی کی گرفتاری میں اس کے چچا خالد نے اہم کردار ادا کیا، نجی ٹی وی چینل نے

دعویٰ کیا ہے کہ مرکزی ملزم کے ساتھ دو اور لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیاہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خالد کا اپنا بیٹا عابد کے ساتھ رابطے کی وجہ سے گرفتار ہوا تھا۔ مرکزی ملزم عابد علی ملہی کا خالد کے بیٹے کے ساتھ سب سے زیادہ رابطہ تھا، کچھ روز پہلے اس کا موبائل فون لے لیا گیا تھا جس کی وجہ سے تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی اور حساس اداروں کی مدد سے گرفتار کر لیاگیا۔ واضح رہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے کیس کا مرکزی ملزم عابد ایک ماہ تک فرار رہنے کے بعد فیصل آباد سے گرفتار ہوگیا۔پولیس کے مطابق موٹروے کیس کے مرکزی ملزم عابد کو فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا، شریک دوسرا ملزم شفقت پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے، مرکزی ملزم عابد علی ملہی کا ڈی این اے کیا جائے گا۔ اس سے قبل 4 مرتبہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عابد کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا تاہم اب اسے پکڑ لیا گیا۔ملزم کی گرفتاری میں پنجاب پولیس کی دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی معاونت کی اور سائنٹفک طریقے بھی استعمال کیے گئے۔ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کے ساتھ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر افسوسناک واقعہ رونما ہوا۔ ایف آئی آر کے مطابق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون

رات کو

تقریباً ڈیڑھ بجے اپنی کار میں اپنے دو بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ واپس جا رہی تھی کہ رنگ روڈ پر گجر پورہ کے نزدیک اس کی کار کا پیٹرول ختم ہو گیا۔کار کا پیٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر خاتون شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔جب گاڑی بند تھی تو خاتون نے موٹر وے پولیس کو بھی فون کیا مگر موٹر وے پولیس نے مبینہ طور پر کہا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔ایف آئی آر کے مطابق اتنی دیر میں دو مسلح افراد موٹر وے سے ملحقہ جنگل سے آئے اور کار کا شیشہ توڑ کر زبردستی خاتون اور اس کے بچوں کو نزدیک جنگل میں لے گئے اور اس سے طلائی زیورات اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔ خاتون کی حالت خراب ہونے پر اسے ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا، خاتون کے رشتے دار کی مدعیت میں پولیس نے مقدمہ درج کر لیا گیا تھا، اب پولیس کو بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور انہوں نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎