Android AppiOS App

اسرائیل اور امریکا نے مل کر گیم ڈال دی۔۔۔ قطر کو 440وولٹ کا جھٹکا دے دیا گیا

  پیر‬‮ 12 اکتوبر‬‮ 2020  |  19:08

اسرائیل نے امریکا کو جدید اسٹیلتھ لڑاکا طیارے ایف 35 قطر کو دینے کی شدید مخالفت کردی ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس سربراہ نے کہا ہے کہ وہ امریکا سے قطر کو ایف 35 جدید لڑاکا طیارے دینے کی مخالفت کرے گا، کیوں کی اسرائیل خطے میں اپنی فوجی برتری چاہتا ہے۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی امریکا سے جدید اسٹیلتھ لڑاکا طیارے ایف 35 خریدنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اسرائیل کی انٹیلی جنس کے وزیر ایلی کوہن نے اتوار کو اسرائیلی آرمی ریڈیو کو بتایا کہ اسرائیل کیلئے اس کی سلامتی اور خطے میں برتری اہم ترین ترجیحات ہیں اور اس کیلئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطی

سوئٹرزرلینڈ جیسا پرسکون خطہ نہیں، اس لیے یہاں قومی سلامتی کی بہت اہمیت ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے حال ہی میں اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ قطر نے باضابطہ طور پر امریکا سے جدید لڑاکا طیارے خریدنے کی درخواست کی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خطے میں سرد مہری اور ایران کیساتھ بگڑتے تعلقات کے باعث اسرائیلی نے ہمیشہ مسلم ممالک کے فوجی معاہدوں کی مخالفت کی ہے۔ اسرائیل کے تحفظات کی ایک بڑی وجہ قطر کے ایران اور فلسطین کی اسلامی

تنظیم حماس کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، جس کے ساتھ اسرائیل غزہ میں 3 لڑائیاں بھی لڑ چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خطے میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے اُصول کے تحت مشرقِ وسطیٰ یا کسی بھی عرب ملک کے ساتھ دفاعی سودے سے قبل امریکا اسرائیل کے ساتھ مشاورت کرتا ہے، تاہم اس نوعیت کے بعض معاہدوں میں امریکا نے اسرائیل کے تحفظات کو نظر انداز بھی کیا۔ رائٹرز’ کے مطابق امارات، اسرائیل معاہدے کے بعد بعض اسرائیلی عہدے داروں نے امکان ظاہر کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ قطر بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لے۔ تاہم قطر نے اسرائیل- فلسطین امن معاہدے تک اسے کسی بھی امکان کو رد کر دیا تھا۔ قطر کے علاوہ خطے کا ایک اور اہم ملک متحدہ عرب امارات بھی امریکہ سے طیارے خریدنا چاہتا ہے۔ امارات نے حال ہی میں امریکا کی حمایت سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے معاہدہ کیا تھا۔ اس کے بدلے امریکا نے امارات کی اس درخواست پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم سفارتی تعلقات

بحال ہونے کے باوجود اسرائیل نے اس معاہدے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎