Android AppiOS App

سنتا سنگھ ڈاکٹر سے : میں نے غلطی سے 2 پینا ڈول اکٹھی کھا لی ہیں ، اب کیا کروں ۔۔۔ ڈاکٹر نے کیا دلچسپ جواب دیا ؟ چٹکلوں سے سجی ایک سیاسی تحریر

  پیر‬‮ 12 اکتوبر‬‮ 2020  |  15:01

اے میرے ”اچیاں شاناں تے پٹھے دھیاناں“ والے کپتان مہنگائی آج ہے اور آپ اس کے خلاف اقدامات کل سے شروع کرنے اعلان کر رہے ہیں۔میں تو سمجھتا تھا کہ اس دنیا میں میر سے سادہ کوئی نہیں آپ کہتے ہیں ہمیں شک ہے کہ مہنگائی کے پیچھے سازش ہے۔شکر ہے دو ڈھائی سال میں

آپ کو یہ شک تو ہوا امید ہے کہ اگلے ڈھائی سال میں آپ کو یقین بھی ہو جائے گا۔نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اس زلف کے سر ہونے تک ہم اور ہمارے بچے اگر بھوک سے لڑتے زندہ رہے تو یقیناً آپ کے منہ سے اس یقین کو بھی سن لیں گے۔فی الحال تو ”اساں جان کے اکھ میچ لئی“ ہے اور آنکھوں میں نئے

پاکستان کا جھوٹی موٹی کا ککھ بھی ڈال لیا ہے ”ہور دسو ساڈے لائق کوئی حکم ہے تے“۔بندہ یہ بنداس ہے،سنتا سنگھ نے ڈاکٹر بنتا سنگھ کو فون کیا،ڈاکٹر صاحب غلطی سے دو پینا ڈول کھا گیا ہوں کیا کروں؟،بنتا سنگھ بولا اب سر درد کا بندوبست کرو تا کہ گولیاں ضائع نہ جائیں۔تو میرے دیو مالائی سحر رکھنے والے کپتان شکر ہے ”نئے پاکستان“کی پینا ڈول کھانے کے بعد آپ نے اتنے سر درد مہیا کر دیئے ورنہ گولیاں ضائع جانی تھیں۔اپوزیشن نے نجانے جلسے کرنے بھی ہیں یا نہیں انکی تحریک کرونا کے شور شرابے میں نہ دبا دی جائے آپ نے گوجرانوالہ میں جلسہ کھڑکا کر کھڑک سنگھ کی یاد تازہ کر دی جس کے کھڑکنے سے کھڑکیاں کھڑک جاتی تھیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کے اور اپوزیشن کے جلسوں سے آٹا تلاش کرتے،چینی ڈھونڈتے،بجلی اور گیس کے بلوں کی رقم ادھار مانگتے،دو روٹی کو ترستے عوام کو کیا ملے گا؟۔میاں نواز شریف نہ میر ہیں،نہ اتنے بھولے کہ وہ اپنا ترب کا پتہ کھیل چکے ہوں۔مجھے لگتا ہے وہ مرلی دھرن کی طرح بہت کیلکولیٹڈ بولر ہیں اور سوچ سمجھ کر اپنی گیند بازی کر رہے ہیں۔

لیکن مرلی دھرن کی اس بولنگ سے آپ کا دھڑن تختہ ہو نہ ہو عوام کا بستر گول ہو جائے گا۔آپ دو سے ایک روٹی پر تو لے آئے ہیں میاں صاحب کی تحریک نے جڑ پکڑی تو عوام ایک سے آدھی پر آجائیں گے۔ویسے میری اپوزیشن سے درخواست ہے کہ اگر وہ اپنی تحریک کامیاب کرنا چاہتے ہیں تو اس میں کسی طرح عمران خان کو بھی اپنے ساتھ کر لیں۔دو سال سے عمران

خان کو پوری اپوزیشن نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا خود عمران خان نے خود کو پہنچایا ہے۔آپ اسے عقیدت سمجھیں،چاہت سمجھیں یا اطاعت ہم اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ پی ٹی آئی کو پانچ سال پورے کرنے دیئے جائیں۔لیکن جانتے ہیں ہماری اس معصوم خواہش کا ککھ مُل نہیں پرے گا۔کیونکہ پنچوں کا کہا سر آنکھوں پر لیکن پرنالہ وہیں بہے گا جہاگبھر چاہے گااور ریس کے سارے گھوڑے گبھر کے ہیں۔بلکہ اس ریس میں کچھ گدھے بھی گبھر کے ہی ہیں۔بقول وزیر اعظم عمران خان،نواز شریف فوج کو پنجاب پولیس بنانا چاہتے تھے۔ہماری ان سے درخواست ہے زرا اپنی”منجھی تھلے ڈانگ سوٹا“پھیر لیں ان کے سی سی پی او پولیس کو فوج بنانا چاہتے ہیں وہ بدعنوان افسروں کا کورٹ مارشل کریں گے۔بس دعا ہے بات کورٹ مارشل تک ہی رہے پولیس کے ہاتھوں مارشل لاء تک نا جائے۔شیخ صاحب جس”شبھ شبھا“سے آئے ہیں اور جو کرنا چاہتے ہیں بظاہر وہ کلے بندے کا کام نہیں لگتا۔یہی وجہ ہے کہ چار وفاقی وزراء اور ایک شہزاد اکبر کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی خدمت میں پیش ہونا پڑا کہ ”باؤجی تسی وی گٹے گوڈیاں نوں تیل مل لو“

آنے والے دنوں میں پنجاب میں بڑی سیاسی ”پجھ نس“ ہونے والی ہے۔وزیر اعلیٰ بندے شریف اور سادہ ہیں انہوں نے ساری زندگی شرافت سے گذاری ہے۔پتہ نہیں انہیں وزراء کی بات کی سمجھ آئی یا نہیں۔مسجد میں لڑکے نے نمازی سے کہا انکل یہاں کی وائی فائی کا کوڈ کیا ہے،نمازی غصے سے بولا استغفراللہ،سادہ اور سیدھا،معصوم لڑکا بولا انکل استغفراللہ کا اے کیپٹل ہے یا چھوٹا؟۔خیر ہمارے وزیر اعلیٰ اتنے سیدھے بھی نہیں وہ چھوٹی وڈی گنتی ساری لکھ بھی لیتے ہیں اور پڑھ بھی۔یہی وجہ ہے کہ ہم ان کی ونجھڑی کی کومل مٹھڑی تانوں پہ قربان ہو ہو جاتے ہیں۔مولانا شرقپوری کے ساتھ جو ہوا کوئی نیا نہیں ہے اور جو انہوں نے کیاوہ بھی کوئی نیا نہیں ہے سیاست کے میدان میں دوڑ اپنی اپنی ہوتی ہے۔پھر وڈے میاں صاحب جب یہ کہتے ہیں کہ نکلو باہر جمہوریت کے لئے سڑکوں،میدانوں میں آؤ اگر شرقپوری یہ کہہ دے کہ بھائی جان ”سانوں کلیاں کیوں مرواتے ہو تسی وی“لندن سے آجاؤ تو آپ ان کے سر پہ لوٹا رکھ دیتے ہیں۔چندا میرے وہ ایک منتخب وزیر اعلیٰ سے ہی تو ملے تھے وہ بھی دن کی روشی میں،کیا لیگی قیادت کے سر پر موٹی ایڈی والے جوتے رکھیں جو رات کے اندھیروں

پنڈی کے گیٹ نمبر 4 پر اپنی باری کا انتظار کر تے ہیں یا شیخ زرا اپنے ول وی ویکھ۔ یہ کیا بات ہوئی آپ اپنی بقا ء کے لئے ”بوہے باریاں تے نالے کنداں ٹپ کے“ ملاقاتیں کرتے پھریں۔شرقپوری ملیں تو وہ لوٹے کے حقدار بن جائیں۔سنتا سنگھ نے اپنے دوست بنتا سنگھ کو میسج کیا میری بیوی شدید بیمار ہے دعا کرو،بنتا سنگھ نے جواب میں میسج کیا،دعا کی کرنی اے اے تے دس دیو۔میں بھی اس نظام کیلئے دعا کرنا چاہتا ہوں یہ سمجھ نہیں آتی کیا دعا کروں۔یہ نظام ختم ہوتا ہے تو جمہوریت کی موت ہے اور چلتاہے تو عوام کی موت۔ بہتر سال سے ہم تو جمہوریت کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔اور اپنی آنکھوں سے جمہوریت کے دیوی،دیوتاؤں اوتاروں اور ان کے بچوں کو سرخ و سپید سونے،جواہرات میں لت پت کیکلی ڈالتے دیکھ رہے ہیں اور میرے آنگن میں اگر ویرانی اور اداسی بال کھولے سوتی ہوئی اٹھ بھی جائے تو وحشت کا، بر بادی کا،بھوک اور فاقوں سے اکتا کر مر جانے کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔لیکن سادگی یہ ہے کہ یہ ادھ مری مخلوق ہر بار نئے آنے والے کے سامنے جھومر ڈالتی ہے کہتی ہے ”ماہی میریا روندھ نہ ماریں،میں دا لایا جند جان دا“۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎