Android AppiOS App

برطانیہ میں ایک پاکستانی نوجوان ہر روز ہم وطن لڑکی کی تصویر ایک شعر کے ساتھ فیس بک پر اپلوڈ کرتا ۔۔۔ بعد ازاں کیا حیران کن واقعہ پیش آیا ؟ آپ بھی جانیے

  پیر‬‮ 12 اکتوبر‬‮ 2020  |  14:22

موجودہ حکومت نے اس خوفناک مسئلہ پرسنجیدگی سے غور کیا۔ فیس بک اور یو ٹیوب والوں سے بھی بات کی مگر قانون کے نفاذ کا فیصلہ نہیں کیا۔میں حیران ہوں کہ بات ان کی سمجھ میں کیوں نہیں آرہی۔ یہاں کسی کو کوئی سزا نہیں ملتی۔ کسی پر جرمانہ ہوتا تو

لوگ سوچتے مگریہاں توالٹا گالیوں دینے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سیاسی پارٹیوں نے اپنے اپنے سوشل میڈیا کے ونگ بنا رکھےہیں جہاں گالیاں کی نشریات جاری رہتی ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طورپرایک بل قومی اسمبلی میں لائے جس کے تحت میڈیا اور سوشل میڈیا پرگالی دینے ،جھوٹ بولنے یا لکھنے والے کے خلاف عدالت ایک ماہ کے اندر اندر

فیصلہ سنانے کی پابند ہواور جرمانہ کم ازکم پچاس لاکھ ہو۔جوشخص جرمانہ ادا نہ کر سکے ،اُسے ایک سال قید با مشقت کاٹنا پڑے۔ پھر دیکھیں کہ کون سوشل میڈیا پر کیسے جھوٹا پروپیگنڈا کرتاہے؟ جہاں تک جعلی آئی ڈیز کی بات ہے تو سائبر کرائم والوں کےلئے ان تک پہنچنا قطعاً مشکل نہیں۔جرمنی میں سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی اور غیر قانونی مواد ڈالنے والوں پرپانچ کروڑ یورو تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ترکی کی پارلیمان نے بھی چند دن پہلے ایسا ہی ایک قانون منظور کیا ہے۔ تقریباً تمام ممالک میں ایسے قوانین موجود ہیں۔ سب سے سخت قوانین روس،

چین اور سنگاپور کے ہیں۔ برطانیہ میں تو 2010 سےسوشل میڈیا کے قوانین پر سختی سےعمل کیا جارہا ہے۔ 2011 کی بات ہے،برطانیہ میں ایک پاکستانی نوجوان روزانہ ایک لڑکی کی تصویر فیس بک پر کسی خوبصورت جملے کے ساتھ شیئر کردیتا تھا۔ لڑکی نے پولیس کو اطلاع دی۔ نوجوان کو گرفتار کرلیا گیا۔ پاکستانی نوجوان کے وکیل نے اسے کہاکہ ’’تمہیں کم سے کم ایک سال قید کی سزا ضرور ہوگی‘‘۔ جس پر بیچ کا راستہ تلاش کیا گیا۔ بڑی مشکل سے لڑکی نے درخواست واپس لی مگردرخواست واپس لینے پر لڑکی سے اخراجات کی مد میں پولیس نے پانچ ہزار پونڈ وصول کئے جو لڑکے کے والد نے ادا کئے۔ تب کہیں جاکر وہ کیس ختم ہوا۔بہر حال میرے نزدیک پاکستان میں سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎