Android AppiOS App

بھائی وہ سوال نہ کریں جس کے جواب کا بوجھ آپ کا چینل نہ اٹھا سکے ۔۔ مریم نواز نے کس سوال کے جواب میں ایک صحافی کو ٹوک دیا ؟

  جمعہ‬‮ 9 اکتوبر‬‮ 2020  |  21:55

اب وزیر اعظم کے خلاف گیارہ جماعتی پی ڈی ایم وجود میں آیا، تو لگتا ہے اس میں نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن باہم قریب ترہیں۔ اسے دونوں جماعتوں کی قربت کا نام بھی دیا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنے قائد کے سیاسی ویژن کو ہی اپنا ڈاکٹرائن قرار دے رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کے

بقول، میاں صاحب کا ایک ایک لفظ ان کی جماعت کے لیے کسی بھی چیز سے زیادہ مقدم ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی قیادت، اس کے ووٹر اور ورکر کو مریم میں میاں صاحب ہی کا چہرہ نظر آتا ہے لیکن اس کا مطلب جناب شہباز شریف (اور ان کے خاندان) کی سیاسی حیثیت کو کم تر کرنا نہیں۔ دونوں بھائی، یک جان

دوقالب ہیں، مریم شہباز صاحب کو اپنے والد سے کم درجہ نہیں دیتیں‘ اور شہباز صاحب کے لیے بھی وہ ”گڑیا بیٹی‘‘ ہے۔ مریم اور حمزہ میں بھی بہن بھائیوں جیسا معاملہ ہے۔بات میاں صاحب اور مولانا فضل الرحمن میں (دوسروں کی نسبت) زیادہ ذہنی قربت کی ہورہی تھی۔ نوزائیدہ اتحاد کی سربراہی کے لیے مولانا کا نام بھی میاں صاحب نے تجویز کیا تھا جس کی خوش دلانہ تائید میں بلاول نے لمحہ بھر کی تاخیر نہ کی۔ منگل کی شب مولانا لاہور پہنچے۔ وہ یہاں اپنی جماعت کے صوبائی عہدیداران اور مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی وصحافتی حلقوں میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وہ پی ڈی ایم کی قیادت سنبھالنے کے بعد پہلی بار لاہور آئے ہیں تو کیا مریم نواز سے بھی ملاقات کریں گے؟ یہ تجسس زیادہ دیر جاری نہ رہا۔

مریم اورنگ زیب نے بدھ کی دوپہر، بریکنگ نیوز دیدی، مولانا، مریم نواز سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات مسلم لیگ (ن) کے ہیڈ کوارٹر 180-H ماڈل ٹائون میں بھی ہوسکتی تھی‘کھانے کا اہتمام بھی یہاں ہوسکتا تھا، لیکن مریم نواز کے خیال میں جاتی امرا میں اپنی رہائش پر عشائیے میں مہمانوں کی عزت وتوقیر زیادہ تھی۔ (میاں صاحب نے بھی لندن سے یہی تجویز کیا تھا) مولانا شب آٹھ بجے کے قریب جاتی امرا پہنچے۔ جمعیت علمائے اسلام کے قائدین کے علاوہ، جمعیت علمائے پاکستان میں مولانا شاہ احمد نورانی (مرحوم) کے جانشین اویس نورانی بھی ہمراہ تھے۔ اِدھر شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ آصف، ایاز صادق، پرویز رشید، محمد زبیر اور مریم اورنگ زیب بھی موجود تھے۔ پرتکلف

عشائیے کے ساتھ پی ڈی ایم اے کے آئندہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اندرون و بیرون ملک لاتعداد لوگوں کی نظریں ٹی وی سکرینوں پر لگی ہوئی تھیں۔ گیارہ بجے مولانا اور مریم کیمروں کے روبرو تھے۔ مریم شکریہ ادا کررہی تھیں کہ مولانا نے ان کی دعوت قبول کی۔

وہ مولانا کو اپنا شفیق بزرگ اور اپنے والد صاحب کا ساتھی قرار دے رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں، میاں صاحب کو اور مسلم لیگ کوکسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ ان کے بقول، بیساکھیوں پر کھڑی، سلیکٹڈ حکومت 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ سے شروع ہونے والی تحریک کے سامنے زیادہ دیر کھڑی نہیں رہے گی۔سول نافرمانی کے حوالے سے ایک سوال پر مولانا کا کہنا تھا، اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ اس سے پہلے ہی گھر چلے جائیں گے۔ مولانا کا کہنا تھا، پی ڈی ایم کے قیام کے بعد اب کسی سے کوئی گلہ شکوہ نہیں رہا۔مولانا سے ایک دلچسپ سوال تھا، آپ پریشان نظر آرہے ہیں۔ مولانا نے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، پریشان نہیں پرُعزم ہوں۔ مریم نے گرہ لگائی، مولانا پریشان نہیں، انہیں پریشان کرنے آئے ہیں۔ایک اور سوال پر مریم نے کہا: وہ سوال نہ کریں جس کے جواب کا بوجھ آپ کا چینل نہ اٹھا سکے… نصف شب گزر چکی تھی، طلوعِ سحر میں ابھی کچھ دیر تھی۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎