Android AppiOS App

ایک ساتھ 130 استعفے! اپوزیشن کی تحریک نے زور پکڑ لیا، ملکی سیاست میں ہلچل ، حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

  جمعہ‬‮ 9 اکتوبر‬‮ 2020  |  21:46

مسلم لیگ (ن)کے مرکزی رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ استعفوں کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے،کب اورکیسے دینے ہیں یہ طے ہونا باقی ہے، جب 130 استعفے آئیں گے تو حکومت کیلئے نئے انتخابات کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا،آئین اور قانون میں ضمنی انتخابات کرانے کی گنجائش موجود ہے لیکن حکومت اتنی زیادہ نشستوں

پر انتخاب کرانے کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے 84 ممبرز ہیں اور اگر پیپلزپارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی ملائیں تو130 ممبر بن جاتےہیں،جب 130 استعفے آئیں گے تو حکومت کیلئے نئے انتخابات کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بھی ہو چکا ہے جب 1971 ء میں عوامی لیگ نے

ضمنی انتخاب کرایا تھا۔کیا پیپلزپارٹی استعفوں کے معاملے میں ساتھ دے گی؟ سوال کے جواب خواجہ آصف نے کہا کہ پیپلزپارٹی بھی اے پی سی کے فیصلوں میں شریک تھی اور وہ ان پر قائم رہے گی، استعفوں کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے لیکن یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے کہ دینے کب ہیں۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی تحریک اتنا زور پکڑے گی جو ہر چیز کو اپنے ساتھ بہا لے جائے گی۔اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ جلسوں، ریلیوں اور اسلام آبا د کی جانب مارچ کے بعد استعفوں کا فیصلہ ہو گا،ہمیں مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات کی ہرگز کوئی

فکر نہیں ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک دو فیصد اراکین نظریاتی نہیں ہیں تو ہوسکتا ہے کہ وہ استعفے نہ دیں تاہم انہوں نے دعوی کیا کہ جب لیڈر شپ نے استعفوں کا فیصلہ کیا تو ہمارے 99 فیصد اراکین استعفے دیں گے۔(ن) لیگ اور جے یو آئی (ف)کے اراکین استعفے دیں گے،اگر پیپلزپارٹی والے استعفے نہیں دیتے تو ہم زبردستی نہیں کریں گے۔انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی نے ہمارے دور میں استعفوں کا اعلان کیا تو بہت سارے اراکین استعفے نہیں دینا چاہتے تھے۔ایاز صادق نے کہاکہکیا کوئی ایس ایچ او اپنے طور پر غداری کا مقدمہ درج کرسکتا ہے؟۔مریم نوازکی جانب سے پارٹی قیادت کا فیصلہ بھی پارٹی کرے گی۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎