Android AppiOS App

گھر کو الرجی اور بیماری پیدا کرنے والے جراثیم سے محفوظ بنانے کے 10 آسان گھریلو ٹوٹکے

  جمعہ‬‮ 9 اکتوبر‬‮ 2020  |  17:49

الرجی اور وائرل بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم ہمیں دیکھائی نہیں دیتے اور نہ ہی انہیں پُوری طرح ختم کیا جاسکتا ہے لیکن ان سے محفوظ رہنے کے لیے اگر ہمیں اپنے گھروں میں چند احتیاطی تدابیر استعمال کریں تو جہاں ہم ان جراثیموں کے حملے سے محفوظ رہ سکتے ہیں وہاں بلا وجہ کی ڈاکٹر کی فیس اور ادویات پر اُٹھنے والا خرچہ بھی بچا سکتے ہیں

۔اس آرٹیکل میں گھر کو الرجی پیدا کرنے والے اور وائرل جراثیموں سے محفوظ رکھنے کے 10 طریقے ذکر کیے جائیں گے جو ہمارے اور ہمارے بچوں کے ماحول کو صحت مند بنانے میں ہمارے مددگار ہوں گے۔ نمبر 1 دروازوں پر ڈور میٹ استعمال کریں ڈورمینیٹ گھر کے دروازوں پر خاص طور پر داخلی درازوں پر 2 ڈورمیٹ

ایک اندر کی طرف اور ایک باہر کی طرف استعمال کریں تاکہ جُوتوں کے ساتھ گھر میں داخل ہونے والی پولن اور دوسرے جراثیم کا داخلہ بند ہو سکے اسکے ساتھ ساتھ گھر کو جُوتا فری زون بنائیں اور جُوتوں کے ساتھ گھر میں داخل نہ ہوں یا گھر میں چلنے پھرنے کے لیے الگ جُوتا رکھیں۔

نمبر 2 گھر میں پودے لگائیں پودےالرجی اور جراثیم ہوا کے ذریعے ہمیں متاثر کرتےہیں اور پودے ہوا کو صاف کرتے ہیں، اپنے گھر کے اندر اور گھر کے کمروں میں گملوں میں پودے لگائیں، پودے آپ کے گھر کے ماحول کو خوبصورت بھی بنائیں گے اور ہوا کی صفائی بھی کریں گے۔ ہوا صاف کرنے والے چند انڈور پلانٹس جیسے،

بوٹل پام، پام، ایروکیریا، سپائیڈر پلانٹ، گارڈن ممز، کلیوں کے پودے، نیاز بو، ایلیفینٹ پلانٹ وغیرپودوں کی نرسری سے عام مل جاتے ہیں۔ نمبر 3 ایر پیوریفائر خرید لیں ایر پیور ایک اچھاایر پیور فائرسے 10 ہزار روپیے میں مل جاتا ہے، یہ تھوڑا مہنگا ہے مگر ایک دفعہ خرید لیں تو یہ بڑے کام کی چیز ہے جو آپ کووائرل انفیکشنز اور الرجی انفیکشنز سے بچاتا ہے اور ان انفیکشنز کے علاج کے لیے آپ سالانہ کئی ہزار روپیے ڈاکٹر اور ادویات پر خرچ کرتے ہیں۔ گھر کے بیڈ روم ، بچوں کے روم اور مین لیوینگ روم میں ایر پیورفائر کا استعما ل کریں۔

نمبر 4 گھر کے پردے دھوئیں یا تبدیل کریں کپڑا پردے گھر کو خوبصورت بناتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ مٹی کے ذرات، ڈسٹ اور دوسری الرجی پیدا کرنے والی دھول کو اپنے اندر جذب کرتے رہتے ہیں لہذا پردوں کو مہینے

میں کم از کم ایک سے دو دفعہ گرم پانی سے دھوکر لٹکائیں

نمبر 5 کارپٹ سے نجات حاصل کریں کارپٹ کارپٹ بہت سے الرجی اور وائرل انفیکشن کرنے والے جراثیم کو ہمارے جسم کا راستہ بتاتا ہے اور اگر گھر میں ہم اس سے نجات حاصل کرلیں تو آپ نوٹ کریں گے کہ سارے گھر والوں کی قوت مدافعت اچھی ہوگئی ہے۔ کارپٹ کا استعمال بند کردیں خاص طور پر سونے والے کمرے میں اور اُن مقامات پر جہاں آپ بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گُزارتے ہیں اور کارپٹ کی جگہ آپ چٹائی استعمال کر سکتے ہیں یا کوئی وقتی بچھونا ڈال سکتے ہیں جسے بعد میں آسانی سے دھویا جاسکے۔

نمبر 6 گھر کے فرش کو فنائل سے دھوئیں یا پوچا لگائیں فنائل گھر کے فرش کو روزانہ دھوتے وقت اور پوچا لگاتے وقت فنائل کا استعمال لازمی کریں یہ جہاں جراثیم کو مار دے گی وہاں کیڑے مکوڑوں کو بھی گھر میں رہنے نہیں دے گی اور آپ کو بہت سے بیماریوں سے بچائے گی۔ نمبر 7 گھر کی جھاڑ پونجھ کریں دروازے کھڑکیاں اور روشن دانوں کی اچھی طرح صفائی رکھیں اور انہیں کسی ایسے کپڑے سے صاف کریں جو مٹی کو اچھی طرح نکال دے۔

نمبر 8 ویکیوم کلینر ہیپا فلٹر کیساتھ استعمال کریں عام طور پر ویکیوم کلینر فلٹر کے ساتھ ہی آتے ہیں مگر چند دفعہ کے استعمال کے بعد ان کا فلٹر گندہ ہوجاتا ہے اور ان ویکیوم سے صفائی کرنے کے دوران آپ کو نظر نہیں آتا مگر فلٹر سے نکلنے والی ہوا پولن اور کئی طرح کے دوسرے ذرات وغیرہ کو ہوا میں پھیلا دیتی ہے جو سانس کے راستے ہماری صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں لہذا ویکیوم کلینر کو بہتر ہے کے HEPA فلٹر کے ساتھ استعمال کریں اور ویکیوم کے فلٹر کو صاف کرنے کے بعد ویکیوم کا استعمال کریں۔

نمبر 9 بیڈ شیٹس اور تکیہ کؤرز کو دھوئیں ھر میں استعمال ہونے والی بیڈ شیٹس خاص طور پر تکیہ کؤرز تو ہفتے میں ایک دفعہ لازمی دھوئیں اور ان کو کسی ایسے صابن یا صرف سے دھوئیں جو جراثیم بھی مارتا ہو۔ Air Humidifier نمبر 10 ایر پیوریفائر اور ایر ہومیڈیفائر میں بڑا فرق یہ ہے کے پیورئفائر ہوا کو ڈسٹ، پولن اور دوسرے الرجی پیدا کرنے والے ذرات سے صاف کرتا ہے مگر ہوا میں نمی پیدا نہیں کرتا، ہومیڈیفائر ہوا میں نمی کا تناسب برقرار رکھتا ہے اور یہ تناسب خاص طور پر سردیوں میں جب ہو اخُشک ہوجاتی ہے ہمیں بہت سے بیماریوں سے بچا کر رکھتا ہے۔ ائر ہومیڈیفائر کوئی اتنا مہنگا نہیں ہے مگر انتہائی کارآمد چیز ہے جو ڈاکٹر اور ادویات پر آنے والا بہت سا خرچہ بچاتا ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎