Android AppiOS App

کورونا کیسز میں ہوشرباء اضافے کی وارننگ ۔۔۔۔پنجاب کے کن دو شہروں میں زیادہ کیسز کا خطرہ ہے ؟ تازہ ترین خبر

  جمعہ‬‮ 9 اکتوبر‬‮ 2020  |  16:22

ملک بھر میں کرونا کیسز کی تعداد میں اچانک اضافے کے بعد کرونا وائرس کی دوسری لہر کے خوف سے سندھ کے بعد حکومت پنجاب نے بھی وائرس کا پھیلائو روکنے کے لیے صوبے کے تمام36 اضلاع میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈان نافذ کردیا۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مزید 655 افراد

میں کرونا کی تصدیق ہوئی اور 11 مریض انتقال کر گئے جبکہ ایک ہزار87 مریض صحتیاب ہوگئے۔ جس کے بعد فعال کیسز کی تعداد8 ہزار 385 ہے۔ بلوچستان کے گزشتہ روز کے 21 اور خیبرپختونخوا کے34 کیسز شامل ہیں۔ ملک میں 3 لاکھ 17 ہزار310 افراد متاثر،3 لاکھ 2 ہزار375 صحتیاب جبکہ 6 ہزار550 انتقال کر چکے ہیں۔ سندھ میں کرونا کے376 کیسزاور6 اموات سامنے آئیں۔ مجموعی اموات2541 ہوگئں۔ پنجاب میں مزید 124 افراد متاثر ہونے

کی تصدیق ہوئی جبکہ 2 مریض انتقال کر گئے، مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 247 ہوگئی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مزید 73 کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ 3 مریض انتقال کر گئے۔

اموات کی مجموعی تعداد 187 تک جا پہنچی ہے۔ گلگت بلتستان میں مزید2 افراد وائرس کا شکار ہوئے۔ جبکہ اموات کی تعداد 89 ہے۔ آزاد کشمیر میں مزید25 افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ اب تک 77 مریض انتقال کرچکے ہیں۔ 24 گھنٹوں میں مزید ایک ہزار87 افراد شفایاب، مجموعی تعداد 3 لاکھ 2 ہزار375 ہوگئی۔ پنجاب کی کابینہ کمیٹی برائے انسداد کرونا نے خبردار کیا ہے کہ چند روز سے کرونا کے مریض اور اموات بڑھ رہی ہیں۔کابینہ کمیٹی برائے انسداد کرونا کا اجلاس وزیر قانون پنجاب راجا بشارت کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں اسلم اقبال اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گوجرانوالہ، ننکانہ صاحب اور گجرات ہائی رسک اضلاع ہیں، لوگوں نے احتیاط نہ کی تو متاثرہ علاقوں میں دوبارہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا جا سکتا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنجاب میں حفاظتی اقدامات سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ اجتماعات اور شادی ہالز میں ماسک اور سماجی فاصلے کی پابندی نظر نہیں آ رہی۔ انسداد کرونا کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ محکمہ صحت پنجاب نئے ایس او پیز بنائے جن پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے۔ عوام کی آگاہی کے لیے تشہیری مہم بھی چلائی جائے۔ صوبائی وزیر قانون راجا بشارت کا کہنا تھا کہ کرونا کو شکست دینے کے قریب ہیں، عوام ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر نے دنیا میں

کرونا وائرس کی دوسری لہر کے باجود پاکستان میں عوام کی طرف سے احتیاط کا دامن چھوڑ دینے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وبا سے نمٹنے کے لئے نئی حکمت عملی ترتیب دینے کا اعلان کر دیا۔ اجلاس میں عوام کی طرف سے وبا سے بچاو کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے

پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ عوام کو صحت کی پرواہ نہیں ، ہاتھ ملانا معمول بن چکا ہے۔ این سی او سی نے تمام فریقین سے نئی صورتحال پر فوری مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر جلد آئندہ کی حکمت عملی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ مثبت کیسسز میں تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے۔ معاشرتی دوری اور لوگوں کے ماسک نہ پہننے اور ایس او پیز سے متعلق صحت کے رہنما خطوط پر عمل میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔خاص طور پر ریستوران ، شادی ہالوں میں ہونے والی تقریبات اور بڑے بڑے اجتماعات میں اس وائرس کے زیادہ پھیلائو کے خطرات ہیں۔ حکمت عملی آئندہ چند روز میں جاری کردی جائے گی۔ وزیر منصوبہ بندی، ترقیات و خصوصی انتظامات اسد عمر شو، نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں اور اقدامات کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎