Android AppiOS App

پروگرام دیکھو یا نہ دیکھو ، بس ٹی وی آن رکھنا تین ٹی وی چینل جو اپنی ریٹنگ بڑھانے کےلئے ناظرین کوکروڑوں روپے دے رہے ہیں

  جمعہ‬‮ 9 اکتوبر‬‮ 2020  |  15:50

بھارتی میڈیا لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کےلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ پروپیگنڈے اور جھوٹ پر مبنی رپورٹنگ تو بھارتی میڈیا کا طرہ امتیاز رہا ہی ہے ۔اب یہ بھی انکشاف ہوا ہےکہ بھارتی میڈیا وویورشپ اورریٹنگ حاصل کرنے کےلئے لوگوں کو پیسے بھی دے رہا ہے بھارت کے معروف ٹی وی چینل ری پبلک ٹی وی

سمیت 3 ٹی وی چینلز کے خلاف ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹ (ٹی آر پی) میں گڑبڑ کرنے کے الزامات کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔بھارتی میڈیاکے مطابق ممبئی پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ری پبلک ٹی وی اور مراٹھی زبان کے دو ٹی وی چینلز کے خلاف ثبوت ملے ہیں کہ انہوں نے اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے ٹی آر

پی میٹرز والے گھروں کو پیسے دیے تاکہ وہ ان کے چینلز کو مسلسل ٹی وی پر آن رکھیں۔پرم بیرسنگھ کے مطابق ٹی آر پی میں ہیر پھیر کرکے اشتہارات کی مد میں کروڑوں روپے اضافی کمائے جاتے ہیں، ان الزامات پر دونوں مراٹھی چینلز کے مالکان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جب کہ ری پبلک ٹی وی کے ڈائریکٹر اور پروموٹر کو تحقیقات کے لیے طلب کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ بھارت کے معروف ٹی وی میزبان

ارناب گوسوامی ری پبلک ٹی وی کے سربراہ اور اس کے شریک مالک بھی ہیں۔ممبئی پولیس کمشنر کے مطابق ممبئی شہر میں ریٹنگ کی جانچ کے لیے 2 ہزار میٹرز لگائے گئے ہیں اور ان چینلز کے نمائندے ان میٹرز وال گھروں میں جاکر ان لوگوں کو ہرماہ 400 سے 500 روپے دیتے تھے تاکہ وہ جعلی طریقے سے ٹی آر پی بڑھانے میں مدد کریں۔واضح رہے کہ ٹی آر پی ٹی وی چینلز کی مقبولیت اور اس کے ناظرین کی تعداد بتانے کا پیمانہ ہے اور اس کے ذریعے طے ہوتا ہے کہ کونسا ٹی وی چینل عوام میں زیادہ معروف اور پسندیدہ ہے اور اسی بنیاد پر انہیں اشتہارات دیے جاتے ہیں۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎