Android AppiOS App

پان میں موجود ایسی چیز جو کرونا کے پر خچے اڑا دیتی ہے ، کیا واقعی پان کھانے سے کرونا کا خاتمہ ہوتا ہے ؟ پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر

  جمعہ‬‮ 9 اکتوبر‬‮ 2020  |  14:52

رواں برس کے آغاز سے جب سے کرونا وبا نے دنیا بھر کے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے تبھی سے آئے روز کوئی نہ کوئی شخص اس مرض سے جان بچانے کے نایاب نسخے آپ کو بتاتا نظر آتا ہے۔جتنے منہ اتنی بات کے مصداق دنیا بھر سے لوگ اس مرض کے خاتمے کے مختلف مشورے دیتے نظر آتے ہیں۔ان میں سے کچھ

ایسے عجیب و غریب مشور ے بھی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ان دنوں ایک پوسٹ وائرل ہورہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پان کھانے والے افرادکرونا وائرس سے محفوظ رہتے ہیں۔کرونا سے محفوظ رہنے کے لیے پان کھانے کا مشورہ دینے کے حوالے سے فیس بک پر برمی زبان میںایک

پوسٹ شیئر کی گئی۔اس پوسٹ کے ساتھ جو کیپشن لکھا گیا اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ’پان کھانے والے بھائیوں کے لیے ایک خوشی کی خبر یہ ہے کہ پان میں موجود چونا، کتھا چربی کی اس پرت کو ختم کرتا ہے جہاں کرونا وائرس کی افزائش ہوتی ہے‘۔ دعویٰ کیا گیا کہ ’اس پرت کے ختم ہونے سے وائرس اپنی موت آپ مرجاتا ہے، اگر وائرس منہ میں داخل ہو تو پان کھانے کی وجہ سے یہ ختم ہوجاتا ہے‘۔پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ میانمار کے

کرونا کے کیسز کی شرح کم ہونے کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ پان کا استعمال کرتے ہیں۔اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ میانمار کے لوگ پان کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ دوسری جانب طبی ماہرین پان کھانے والوں کو خبردار کرچکے ہیں کہ زیادہ پان کھانے کی وجہ سے وہ منہ کے کینسر کا شکار ہوسکتے ہیں۔میانمار کے مرکز برائے ہنگامی امداد اور وبائی امراض کے ڈائریکٹر کھن کھن گئی کا کہنا تھا کہ ’پان چپانے سے کرونا کا خطرہ کم ہونے یا ٹل جانے کی بات بالکل بے بنیاد ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’یہ بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ چونا یا کتھا کرونا وائرس کو ختم نہیں کرسکتے‘۔ میانمار کے وزارت صحت اور کھیل کے حکام، طبی ماہرین اور یورپین فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے فرانسیسی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اس دعوے کی تردید کی اور اسے بے بنیاد قرار دیا۔مگر اس کے باوجود بھی سوشل میڈیا پر پان کھائیے اور کرونا بھگائیے کے جملے آپ کوکثرت سے پڑھنے اور دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎