Android AppiOS App

پاکستان میں ایک اور اَنہونی ہوگئی! پنجاب پولیس نے پہلی مرتبہ کیا کر دکھایا؟ جس نے سُنا اس کے لیے یقین کرنا مشکل

  پیر‬‮ 5 اکتوبر‬‮ 2020  |  21:17

عام طور پر غداری کے مقدمے میں حکومت پاکستان مدعی بنتی ہے، یہ پہلی دفعہ سنا ہے کہ پولیس نے خود مقدمہ درج کرلیا، تاہم نوازشریف کی تقریر یقینی طور پر اداروں پر حملے کی طرز پر تھی ، ان خیالات کا اظہار صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کیا۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں انہوں نے

کہا کہ غداری کے مقدمے میں مزید ملزمان کو بھی نامزد کردیا گیا، معلوم نہیں انہوں نے بھی ایسی ہی تقریریں کی ہیں، یا صرف نوازشریف کی تقریر سنی ہے،دیگر رہنماؤں کو اس مقدمے میں نامزد کرنے والوں کے پاس شاید ایسا کوئی مواد ہو کہ جس سے وہ غداری کے مرتکب ہوئے،تاہم غداری کے مقدمات کا سیاستدانوں کے خلاف اندراج ہونا کوئی اچھا شگون نہیں،

ان معاملات کو سیاسی طور پر ہی حل کیا جاناچاہیئے تھا، لیکن کسی بھی سیاستدان کو پاکستان کی سلامتی کے اداروں پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔سینئر تجزیہ کار نے بتایا کہ عام طور پرآئین کے آرٹیکل 6کی خلاف ورزی کی وجہ سے غداری کے مقدمات ہوتے تھے، ہم نے دیکھا ہے کہ آرٹیکل 6 کا مقدمہ درج کرنے سے ہمیشہ سیاسی حکومتیں گریز کرتی ہیں، بشرطیکہ کسی نے پاکستان کے خلاف بہت بڑا زہر اگلا ہوا، تو اس کے خلاف شواہد کی روشنی میں مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ، نواز شریف کے

خلاف لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں مقدمہ درج کیا گیا ، جہاں مسلم لیگ( ن) کے دیگر رہنماﺅں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ، نواز شریف کے خلاف مقدمہ شہری بدر کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمے کے متن کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف نے تقریر میں عوام کو اکسایا اور نواز شریف نے تقاریر میں بھارت کی ڈکلیئر پالیسی کی تائید کی ، مقدمے میں مسلم لیگ( ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، خرم دستگیر، احسن اقبال، شیخ آفتاب، پرویز رشید اور راجہ ظفر الحق کو بھی نامزد کیا گیا ، مقدمے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، امیر مقام، ذکیہ شاہ، طلال چودھری اور دیگر رہنما بھی نامزد کیے گئے ہیں ، سابق وزیراعظم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر راہنماﺅں کے خلاف درج ایف آئی آر میں 120 اے اور بی 121 اے اور

بی ، 123 اے اور بی ، 124 اے اور بی و دیگر دفعات لگائی گئی ہیں۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎