Android AppiOS App

سنتا سنگھ نجومی کے پاس بولا اور کہا ، بابا جی مجھے ساری رات خواب میں خوبصورت حسینائیں اور گوری لڑکیاں نظر آتی ہیں

  پیر‬‮ 5 اکتوبر‬‮ 2020  |  19:59

کی حال سناواں دل دا، کوئی محرم راز ملے تو بات کروں۔ زرا الٹا ہو کر دیکھو تو سب سیدھا نظر آئے گاہم کو نسے مجنوں ہیں کہ ہمیں ہر رنگ میں لیلیٰ ہی لیلیٰ نظر آئے۔بس ایک بار زرا اسے بھینگا یعنی ٹیرا بن کر دیکھیں بہت کچھ سیدھا نظر آئے گا۔پہلی بار ہمارے دل میں میاں شہباز شریف کے لیئے ممتا بھری ہچکی آئی ہے اپنے

سینے میں پدرانہ شفقت کا سونامی امڈ آیا ہے۔یار اگر اسٹیبلشمنٹ جسے شہباز شریف کہہ رہے تھے کہ ”اپنا بنا کے دل لا کے نس جائیں نہ میرے ہانیاں“تو اسٹیبلشمنٹ بھی اتنی بے مروت نہیں کہ وعدے وعید کر کے کسی اور کے ساجن کی سہیلی بن جائے۔ وہ قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر،بیٹا ان کا پنجاب اسمبلی میں

اپوزیشن لیڈر دونوں اندر ہیں۔عدالتیں ان کی بیگم،بیٹی کو طلب کر رہی ہیں،یار ”اے کیہڑی“مفاہمت ہے۔دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے والے میاں صاحب اور ان کی بیٹی ”ہن موجاں ای موجاں“ گاتے پھر رہے ہیں۔بڑے بھائی خود لندن میں، ان کے بیٹے لندن،بیٹی گھر پر”ایزی موڈ“میں۔اور شہباز شریف مفاہمت کے وکھرے مزے لوٹ رہے ہیں۔سیاستدان شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے عبرت حاصل کریں نئے سلیبس کے مطابق چمکارنے والااندر اور للکارنے

والا باہر موجیں کرتا ہے۔اپوزیشن کی تیاریاں عروج پر ہیں مائیں اپنے جوان بیٹوں کو اپنی چھاتیوں سے چمٹا لیں تحریک میں غریبوں کے بچے کام آتے ہیں یہ نصیبوں وارے ماڑے بچے امیر بچوں کی حفاظت کرتے ہیں جو لندن میں،جاتی عمرہ میں،نوڈیرو میں پراڈوز کے اندر کافی پیتے ہوئے گنگنا رہے ہوتے ہیں ”ڈی جے والے بابو زرا گانا تو لگا دو“۔سنتا سنگھ نجومی کے پاس پہنچا اور بولا باوا جی خواب میں کئی روز سے گوریاں نظر آرہی ہیں،نجومی بولا،پترا لنڈے دی جرسیاں خریدن دا ٹائم آگیا ہے۔یاد رکھیں جمہوریت کا عین تقاضہ ہے کہ امیر راہنماؤں کوخواب میں چھیچھڑے اور غریبوں کو میمیں نظر آئیں۔لہٰذا مائیں اپنے جوان بچوں کو رج رج کے چم لیں پتہ نہیں کس کی زندگی جمہوریت کی ریل کی چھکاچک کے ایندھن کے کام آجائے۔ شاہراہ جمہوریت کی ایک ایک اینٹ انہی ماؤں کے بیٹوں کے لہو سے رنگین ہے جن پر قدم رکھ کر ہمارے بے تاج بادشاہ ایوان اقتدار تک پہنچتے ہیں۔سنا ہے بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمن کو پی ایم ڈی کی سربراہی دینے کی مخالفت کی لیکن باقی تمام جماعتیں مولانا کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔عقلمند کو اشارہ اور مولانا کو ایک آدھ

جلسے کا سہارا کافی ہوتا ہے۔ہتھیلی پر سرسوں کیا وہ گندم،کپاس حتیٰ کہ تربوز بھی اگا سکتے ہیں۔ایک آدھ استعفیٰ تو وہ کہیں نہ کہیں سے لکھوا ہی لیں گے۔تاہم پیپلز پارٹی کی مخالفت ”اور جو“ فیم خواجہ آصف کی بات ثابت کرتی ہے کہ اپوزیشن اتحاد میں آصف

زرداری کی جانب سے کچھ نا کچھ گڑ بڑ ضرور ہے۔سنتا سنگھ کی بیگم سے لڑائی جا ری تھی اچانک بیگم زور زور سے رونے لگی،سنتا سنگھ ہاتھ ملتے ہوئے بولا،لو جی ”ڈگ ورتھ لوئس میتھڈ“کے تحت بیگم جیت گئیں۔اگر بلاول بھٹو کے مشیر اچھے ہوتے تو نہ شیخ رشید ان کے خلاف پھوکے مداریوں کی طرح کڑے میں سے نکل کے دکھاتے آنکھوں پر پٹی باند ھ کر پنڈی میڈ رسے پہ کرتب دکھاتے نہ ان کے نہ ان کے بیانات ”صرف بالغوں کے لئے“ہوتے۔کاش بلاول اجلاس کے دوران ”ڈگ ورتھ لوئس میتھڈ“ کی طرح رونے لگتے اور کہتے ”مینوں نئی پتہ میں نوں چیئرمین لینا اے“۔پھر چند لوگ کہتے چلو یار بچہ ہے لیکن پاکستان کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی کا چیئرمین ہے لے دو اسے صدارت۔لیکن وہاں نہ مریم بی بی تھیں نہ شہباز شریف جو ان کا ہاتھ بلند کر کے کہتے ”جوانا اپوزیشن دی ضد سیر اے تے تیری خواہش سوا سیر اے“مجھے تو یہ ہانڈی آغاز میں ہی لیک ہوتی نظر آ رہی ہے۔پریشر ککر کی سیٹی اوپر اور اس ہانڈی کی نیچے نظر آرہی ہے۔سنا ہے اپنے ڈونلڈ ٹرمپ میاں کو بھی کرونا ہو گیا اور انہوں نے دوہفتوں کے لئے پردہ فرما لیا ہے۔اب جو بائیڈن گاتے پھر رہے ہیں ”عاشقاں توں سوہنا مکھڑا لکان لئی سجنا نے بوہے اگے چک تان لئی“۔سنتا سنگھ سے کسی نے پوچھا یار سنا ہے آپ کی بیوی کو جن چمڑ گیا ہے،وہ بولا میں کی کراں جن دا قصور اے۔کرونا کو بھی اپنے ہونے پر پہلی بار دکھ ہو گا۔

چند دنوں بعد اگر کرونا الٹیاں کرتا وائٹ ہاؤس سے نکلتا نظر نہ آئے تو ہمارا نام میاں شہباز شریف کی طرح بدل کے کچھ اور رکھ دیجئے گا۔مجھے تو امریکہ کے انتخابات میں گوالمنڈی،راجہ بازار،قصہ خوانی بازار جیسے انتخابات کی خوشبو آرہی ہے جس مہذب قوم کے لیڈر اپنی پہلی ”ڈیبیٹ“میں شٹ اپ،جھوٹے،فراڈیئے کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں آگے جا کے تیری۔۔۔۔تے تیر۔۔۔والا ماحول پیدا ہونا ہے۔لیکن لگتا ہے ایسا ہے کہ

ٹرمپ میاں کو اپنی شکست کا احساس ہو گیا ہے اور ان کی بیماری الیکشن ملتوی ہونے کا بہانہ بنے گی۔جو بائیڈن لاکھ چلائیں کہ ”ساڈی واری آئی تے گھگو رو پیا“لیکن وہ ڈونلڈ کی ٹرمپیوں سے بھی واقف ہیں۔آنے والے دنوں میں صرف امریکہ نہیں پوری دنیا امید نا امید کی لہر میں ”من ڈولے میرا تن ڈولے میرا“ گاتی نظر آئے گی۔بیماری زرا لمبی ہوگئی تو امریکہ کی معیشت کو آپ جلد ایدھی کے جھولے میں اوں آں کرتے پائیں گے۔مجھے ٹرمپ بھی گورباچوف نظر آرہے ہیں اور مجھے امریکہ کا حشر بھی سوویت یونین جیسا نظر آ رہا ہے۔گو ہماری قریب کی نظر کمزور ہے لیکن یقین کریں ہمیں دور کا منظر زیادہ صاف نظر آتا ہے۔(تحریر: ایثار رانا)

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎