Android AppiOS App

وہ وقت جب عمران خان سعودی عرب کے لیے ’ناقابل قبول ‘ ہو گئے ہمیں عمران خان قبول نہیں،سعودی ولی عہد کااسٹیبلشمنٹ کوواضح پیغام ،بڑادعویٰ سامنے آگیا

  ہفتہ‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2020  |  23:23

معروف صحافی عمران خان ریاض نے سعودی عرب اور پاکستان کے مابین تعلقات کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں،انہوں نے بتایا کہ ایک ایسا بھی وقت آیا جب عمران خان سعودی عرب کے لیے ’ناقابل قبول ‘ ہو گئے پاکستان،ملائشیا اور ایران الگ بلاک بنا رہے تو محمد بن سلمان نے ملاقاتوں کو ٹرانسکرپٹ حاصل کر لیا،جس میں عمران خان نمایاں

پوزیشن میں تھے،سعودی ولی عہد غصے میں آ گئے اور اسٹیبلشمنٹ سے کہا کہ ہمیں عمران خان نہیں چاہئیے۔تفصیلات کے مطابق معروف اینکر عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم ترکی،ملائیشیا،چین اور ایران کے سطح تعلقات ایک اور سطح پر کے گئے تھے۔انہوں نے کچھ ملاقاتیں کی تھیں جس میں سعودی عرب شامل نہیں تھے۔محمد بن سلمان ان ملاقاتوں کا ٹرانسکرپٹ حاصل کرنے میں

کامیاب ہو گئے جس سے یہ بات سامنے آئی کہ اس تمام معاملے میں عمران خان لیڈنگ پوزیشن میں تھے۔وہاں پر ایک نئے اتحاد کی بات ہو رہی تھی۔جب سعودی عرب کو یہ انفارمیشن موصول ہوئی تو عمران خان ان کے لیے نا قابل قبول ہو گیا،

وہ اس لیے کہ 26 لاکھ لوگ سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔16لوگ متحدہ عرب امارات میں کام کرتے ہیں۔پاکستان کو سب سے زیادہ زرمبادلہ انہی دو ممالک سے آتا ہے۔انہی ممالک نے پاکستان کو ادھار پیسے بھی دئیے تھے،پٹرول بھی ادھار دیا تھا۔دونوں ممالک نے شدید ردِعمل دیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے عمران خان پر بہت احسانات ہیں۔اس لیے انہوں نے کہا کہ یہ بندہ بطور وزیراعظم ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔سعودی عرب نے سابق آرمی چیف راحیل شریف اور اسٹیبلشمنٹ سے بھی اس حوالے سے بات کی۔اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے ہی سعودی عرب کا ایک بندہ چھوڑا،انہوں نے سعودی عرب کا غصہ ختم کرنے کے لیے نواز شریف کو ریلیف دیا

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎