Android AppiOS App

افغانستان نے عمران خان کے ساتھ ہونے والی ڈیل سامنے رکھ دی

  ہفتہ‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2020  |  19:05

پاکستان نے talban کو لڑائی بندی پر قائل کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔افغان مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبد اللہ نے تین روزہ دورہ پاکستان کے اختتام پر عرب خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ talban کی جانب سے لڑائی بندی اور سیز فائر کے معاملے پر افغانستان

اور پاکستان ایک لائن پر ہیں، اور ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سول اور ملٹری لیڈر شپ کو افغان امن عمل کے حوالے سے کسی قسم کے تحفظات نہیں ہیں، اور پاکستان نے talban لڑائی بندی پر قائل کرنے کے لیے اپنااثر و رسوخ استعمال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔سربراہ افغان مصالحتی کونسل کا کہنا تھا کہ اگر talban کولڑائی بندی سے متعلق تحفظات ہیں تو

اور بھی بہت سے راستے ہیں، جیسے انسانی بنیادوں پر سیز فائر او ر ما ؐرپیٹ کارروائیوں میں نمایاں کمی بھی لڑائی بندی کا ایک راستہ ہے۔ talban کے ساتھ دوحا مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ کیوں اس ڈیل کو اتنا بڑا مسئلہ بنایا جا رہا ہے کہ ہم اس میں پھنس پر رہ جائیں، ہم نے اپنی ٹیم کو لچک دکھانے کی ہدایت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر talban سنجیدہ نہیں ہوں گے اور لچک نہیں دکھائیں گے تو اس سے ہماری ٹیم کے رویے پر بھی اثر پڑے گا اور پھر شاید ہم ایک اور ڈیڈ لاک کی طرف چلے جائیں۔عبداللہ عبداللہ نے خبردار کیا کہ اگر Talban کے ساتھ مذاکرات کے راستے میں حائل مسائل جلد حل نہیں ہوتے تو بین الاقوامی کمیونٹی کی امن مذاکرات سے دلچسپی ختم ہو جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ آج کے افغانستان کو ماضی کی طرف دیکھتے کی ضرورت کیا ہے، کیا ہم اپنی قوم کی مختلف اکائیوں، مختلف عقائد، مختلف زبانوں، مختلف علاقوں اور سماجی معاشی صورتحال کو ہمیشہ حکمرانوں سے لڑنے کیلئے بطور ہتھیار استعمال کرتے رہیں یا پھر ملک کو مستقبل میں طاقتور اور خوبصورت بنانے کے راستے تلاش کرنے کے بجائے ماضی میں ہی پھنسے رہیں۔یاد رہے کہ افغان مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ حال ہی میں پاکستان کا تین روزہ دورہ کر کے وطن لوٹے ہیں۔دورہ پاکستان کے دوران عبداللہ عبداللہ نے صدر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقات کی۔ان ملاقاتوں میں افغان

امن مذاکرات اور پاک افغان تعلقات کو بہتر بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎