Android AppiOS App

عمران خان ، نوازشریف کی زبان بند کروانے کے لیے کیا کارروائی ڈالنے والے ہیں ؟ برطانیہ میں ہی کس طاقت کو استعمال کیا جانے والا ہے؟ ناقابل یقین انکشاف

  ہفتہ‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2020  |  18:59

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے نواز شریف کی تقاریر کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے برطانیہ میں ہی قانونی طریقے سے ان کی زبان بندی کرانے کے اعلان کا انکشاف ہوگیا ۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں تجزیہ کار عمران یعقوب خان نے بتایا کہ وزیر اعظم کا کہنا ہے

کہ نوازشریف کی واپسی کے لئے برطانوی حکومت کیے ساتھ تمام آئینی و قانونی آپشنز استعمال کی جائیں اور اگر حکومت نواز شریف کو واپس نہ لا سکی تو برطانیہ میں ہی قانونی طریقے سے ان کی زبان بندی کرائی جائے ، اور برطانیہ کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ نواز شریف کی ملک اور اداروں کے خلاف تقاریر پرسخت ایکشن لیں اور ان کی تقاریر

پابندی لگائیں ۔تجزیہ کار کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی پولیٹیکل کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم عمران خان نے دھواں دار تقریر کی اور نواز شریف کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا ااعلان کیا ، جب کہ اس موقع پر وزراء سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نواز شریف مودی کا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں ، وہ اداروں اور عوام کے درمیان نفرت پھیلانا چاہتے ہیں ، میں نواز شریف کے خلاف

سخت ایکشن چاہتا ہوں ۔دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نواز شریف واپس نہ آئے تو 8 ارب روپے دینے پڑیں گے ، عدالت نے نواز شریف کو شخصی ضمانت پر بیرون ملک جانے کی اجاذت دی ۔ تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے انسانی بنیادوں پر سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی ، جس کیلئے وفاقی حکومت کی طرف سے نواز شریف سے شورٹی بانڈز لینے کی شرط رکھی ، جب کہ وزیراعظم نواز شریف کا کیس سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، اور نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز کے کیس سے مختلف ہے ، نواز شریف سزا یافتہ ہے ، جبکہ اسحاق ڈار ، حسین نواز کو سزا نہیں ہوئی ۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎