Android AppiOS App

’’صحافت کی دُنیا میں 30سال ہوگئے مگر ۔۔۔ ‘‘ کل انٹر ویو کے دوران کیا ہوا تھا؟ سینئر اینکر پرسن ندیم ملک حقائق سامنے لے آئے

  جمعہ‬‮ 2 اکتوبر‬‮ 2020  |  19:47

سینئر اینکر پرسن ندیم ملک کا کہنا ہے کہ کیریئر کے دوران کسی وزیراعظم کو ایسے دو ٹوک جوابات دیتے نہیں دیکھا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا انٹرویو کرنے والے نجی ٹی وی چینل کے اینکر پرسن ندیم ملک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے سخت سے سخت سوال

کا براہ راست جواب دیا ، میں نے اپنے 30 سالہ صحافتی کیریئر کےد وران کسی وزیراعظم کو ایسے جوابات دیتے نہیں دیکھا۔اینکر پرسن نے نجی ٹی وی چینل سما نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے سول ملٹری تعلقات، آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کے ساتھ حکومتی معاملات جیسے براہ راست سوالات کے بھی دوٹوک طریقے سے جوابات دیئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم یا ان کے سٹاف

میں سے کسی نے بھی مجھے کسی سوال کو نہ پوچھنے کا نہیں کہا، میں نے جو پوچھنا چاہا جیسے پوچھنا چاہا پوچھا اور وزیراعظم نے کسی حیل و حجت کے بغیر اس کا جواب دیا، یہ میرے کیریئر کا بہترین انٹرویو رہا ہے۔ندیم ملک نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا انٹرویو ہے اس میں سیاسی نظام میں فوج کے ماضی اور موجودہ کردار سے متعلق واضح باتیں ہوئی ہیں، عمران خان پر اگر دباؤ آئے تو وہ کیسے ری ایکٹ کریں گے، میڈیا کی آزادی ، اپوزیشن کی عسکری قیادت سے ملاقاتوں سمیت ہر پہلو پر وزیراعظم نے کھل کر بات کی۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کا یہ انٹرویو نجی ٹی وی چینل سما نیوز پر نشر کیا گیا تھا ۔جس میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاک فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہوچکے ہوتے، نواز شریف ملک سے باہر بیٹھ کر فوج کے خلاف مہم چلار ہے ہیں، مجھ سے پوچھے بغیر آرمی چیف کارگل پر چڑھائی کرتا تو میں اسے فارغ کردیتا۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا گیا ہے

کہ نواز شریف کبھی ڈیموکریٹ نہیں رہے، اپوزیشن جماعتوں کو جمہوریت پسند نہیں۔نواز شریف امیر المومنین بنناچاہتے تھے، وہ فوجی نرسری میں پلے ہیں۔نوازشریف کی ہرآرمی چیف سےلڑائی رہی، ایجنسیوں کو نواز شریف کی چوریوں کا پتا چل جاتاتھا، یہ اقتدار میں مال بنانے کیلیے آتے ہیں۔ وزیراعظم کا مزید کہنا ہے کہ میں نواز شریف یا ذو الفقار علی بھٹو کی طرح فوج کی نرسری میں نہیں پلا۔ نواز شریف تمام اداروں پر کنٹرول چاہتے تھے۔نواز شریف دوسرے بانی ایم

کیو ایم بن گئے ہیں ، ملک سے باہر بیٹھ کر فوج کے خلاف مہم چلار ہے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کو توڑنا چاہتاہے،پاک فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہوچکے ہوتے۔نوازشریف کہہ رہا ہے کہ مجھے دھرنوں کے دوران اس وقت کے آئی ایس آئی چیف جنرل ظہیرالاسلام نے کہا کہ استعفیٰ دو، آپ ملک کے وزیراعظم ہو، اسکی جرات ہے کہ آپکو کہے کہ استعفیٰ دو ندیم ملک نے کہا کہ اگر آپ کو بھی ایسی ہی کال آئے کہ عمران خان وزارت اعظمیٰ سے استعفیٰ دو تو آپ کیا کریں گے؟جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں فورا اسکا استعفیٰ ڈیمانڈ کروں گا، میں ملک کا وزیراعظم ہوں، کس کی جرات ہے کہ مجھ سے آکر کہے کہ استعفیٰ دو، میں منتخب وزیراعظم ہوں۔ندیم ملک نے سوال کیا کہ آپ نوازشریف کو پاکستان بلارہے ہیں؟ جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جھوٹ بول کربا ہر گیا اور ملک کے خلاف سازش کررہا ہے، ہم اسکو فوری طور پر پاکستان لارہے ہیں۔ندیم ملک نے سماء ٹی وی کو وزیراعظم عمران خان سے انٹرویو کے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ 30 سال کے کیرئیر میں کسی وزیراعظم کو ایسے سوالات کے جوابات دیتے نہیں دیکھا، میں نے جو بھی سوال پوچھنا چاہا پوچھا، انہوں نے مجھے کسی سوال سے منع نہیں کیا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎