Android AppiOS App

دھرنے کے دنوں میں جنرل راحیل شریف نے بلوایا اور کیا مطالبہ کیا تھا، وزیراعظم کا بڑا انکشاف

  جمعہ‬‮ 2 اکتوبر‬‮ 2020  |  19:07

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد نوازشریف کو بھرپور جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوج نے نوازشریف کو چوسنی لگا کر سیاست دان بنایا، نواز شریف کبھی جمہوری نہیں رہے،پاکستان میں سول اور فوجی تعلقات میں مسئلہ رہا ہے، اگر ماضی میں کسی آرمی چیف نے کوئی غلطی کی تو کیا ہمیشہ کے لیے پوری فوج کو برا بھلا کہیں، اگر

جسٹس منیر نے غلط فیصلہ کیا تو عدلیہ کو ساری زندگی برا بھلا کہنا ہے،ماضی صرف سیکھنے کیلئے ہوتا ہے، ہم سیکھا ہے فوج کا کام حکومت چلانا نہیں،مجھ سے پوچھے بغیر آرمی چیف کارگِل پر حملہ کرتے تومیں فارغ کردیتا، منتخب وزیراعظم ہوں کس کی جرت کہ مجھ سے استعفیٰ مانگے،پاکستان کی فوج میری پالیسی کے ساتھ کھڑی ہے،نواز شریف جو

گیم کھیل رہے ہیں وہ بہت خطرناک ہے،واضح طور پر کہتا ہوں کہ ان کے پیچھے 100 فیصد ہندوستان پوری مدد کر رہا ہے،خدا کے واسطے اپنی آنکھیں کھولو، لیبیا، عراق، شام، افغانستان، یمن اور پوری مسلم دنیا میں آگ لگی ہوئی اور اگر آج ہماری پاکستانی فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہوجاتے، سارے چھوڑ اور ڈاکو اکٹھے ہوگئے ہیں،اقتدار چھوڑنے کو ترجیح دوں گا این آر او نہیں دوں گا۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویومیں وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ پاکستان میں سول اور فوجی تعلقات میں مسئلہ رہا ہے، اگر ماضی میں کسی آرمی چیف نے کوئی غلطی کی تو کیا ہمیشہ کیلئے پوری فوج کو برا بھلا کہیں، اگر جسٹس منیر نے غلط فیصلہ کیا تو عدلیہ کو ساری زندگی برا بھلا کہنا ہے۔انہوں نے کہ کہ ماضی صرف سیکھنے کیلئے ہوتا ہے، ہم سیکھا ہے کہ فوج کا کام حکومت چلانا نہیں ہے، جمہوریت اگر ملک کو نقصان دے رہی تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کی جگہ مارشل لا آجائے، اس کا مطلب جمہوریت کو ٹھیک کریں۔وزیراعظم نے

کہا کہ اگر عدلیہ میں غلط فیصلے ہورہے ہوں، کوئی چیف جسٹس ایسا آئے جو غلط فیصلے کرے یا ملک میں کمزور کو طاقت ور سے تحفظ نہ دے سکتے تو اس مطلب یہ نہیں ہے عدلیہ کی مذمت کریں بلکہ اس کو بہتر کریں۔وزیراعظم نے کہاکہ ہمارے ملک میں عدلیہ بہتر ہوتی گئی ہے اور اسی طرح فوج بھی بہتر ہوئی ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ موجودہ سول فوجی تعلق بہتر ہے اس

کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی فوج ایک جمہوری حکومت

کے پیچھے کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج اعتماد اس لیے ہے اپنے دائرے میں کام کررہے ہیں، ایک جمہوری حکومت اپنے منشور کے مطابق کام کررہی اور فوج اس کے مطابق کام کررہی ہے۔عمران خان نے کہا کہ آج پاکستان کی فوج میری پالیسی کے ساتھ کھڑی ہے تاہم اپوزیشن کا مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف کبھی جمہوری نہیں

تھے، پہلے انہیں فوج نے پالا، جنرل جیلانی سے شروع ہوئے،جنرل ضیا الحق نے پالا، سب میرے سامنے ہے، کیسے ہاتھ پکڑ کر منہ میں چوسنی لگا کر انہیں ایک سیاست دان بنایا۔نواز شریف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک کاروباری تھے، کیسے ڈی سیز کے دفتر کے باہر پھل کے ٹوکرے رکھا، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے جنرل جیلانی کیلئے سریا لگایا اور وزیرخزانہ بنے

اور اب ایک دم سے بڑے جمہوری بنے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پہلے ان کا مسئلہ غلام اسحق سے آیا، جنرل آصف جنجوعہ، پھر جنرل پرویز مشرف کو ترقی دی لیکن مسئلہ آیا، اس کے بعد جنرل راحیل اور پھر جنرل باجوہ سے مسئلہ آیا حالانکہ خود انہوں نے منتخب کیا تھا، ہماری ایجنسیاں آئی ایس آئی اور ایم آئی ورلڈ کلاس ہیں ایجنسیاں اور چوریوں کا ان کو پتہ چلتا ہے۔وزیراعظم

نے کہا کہ نواز شریف سارے سول اداروں کو قابو کرتے ہیں، نواز شریف نے عدلیہ کو کنٹرول کیا، سجاد علی شاہ کو ڈنڈے اور باقی عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے لیے پیسوں کے بریف کیس دئیے۔انہوں نے کہا کہ فوج کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے اور جب کنٹرول میں نہیں آتی تھی تو یہ جمہوری بن جاتے تھے اور سارا وقت فوج کو برا بھلا کہتے ہیں، بیان میں کہہ رہے تھے کہ جنرل ظہیر الاسلام

نے آکر کہا کہ استعفیٰ دو، آپ وزیراعظم تھے، اس کی جرات ہے کہ آپ یہ کہنے کی، آپ سیدھے ان سے جواب طلب کریں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم ہوں اور اگر مجھے کوئی ایسا کہے تو فوری طور پر میں اس کا استعفے کا مطالبہ کروں گا، میں ملک کا وزیراعظم ہوں اور کس کی جرات ہے کہ مجھے آکر یہ کہے۔انہوں نے کہا کہ اگر میرے پوچھے

بغیر کوئی آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتا تو میں اس کو سامنے بلاتا اور میں اس کو فارغ کرتا، اتنا بزدل نہیں کہ وہ سری لنکا گیا تو فارغ کروں۔عمران خان نے کہا کہ نواز شریف جو گیم کھیل رہے ہیں وہ بہت خطرناک ہے، یہی الطاف حسین نے کیا، میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ ان کے پیچھے 100 فیصد ہندوستان پوری مدد کر رہا ہے، پاکستان کی فوج کمزور کرنے پر دلچسپی ہمارے دشمنوں

کی ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ امریکا میں ہندوستانی لابی میں کون بیٹھا ہوا ہے جو بڑا جمہوری بن کر پاکستان کی فکر میں، حسین حقانی باہر بیٹھ کر پوری مہم چلاتا ہے اور یہاں نادان لبرلز بنے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں ہم فوج کے خلاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ان سے کہتا ہوں کہ خدا کے واسطے اپنی آنکھیں کھولو اور لیبیا، عراق، شام، افغانستان، یمن اور پوری مسلم دنیا میں آگ لگی ہوئی

اور اگر آج ہماری پاکستانی فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہوجاتے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان کے تھنک ٹینک باقاعدہ طور پر کہتے ہیں کہ پاکستان کو توڑنا ہے اور ہم اس فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کی تاریخ کا واحد آدمی ہو ہوں جو 5 حلقوں سے جیت کر آیا ہوں، نواز شریف اور ذوالفقار علی بھٹو کی طرح فوج کی نرسری میں نہیں پلا، ایوب خان کی

کابینہ میں سارے جنرل تھے اور صرف ایک سویلین وزیر تھا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے پارلیمانی رہنماوں سے ملاقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھ سے پوچھ کر ملاقات کی تھی۔وزیر اعظم نے کہاکہ گلگت بلتستان کے اندر بھارت مکمل طور پر متحرک ہے کیونکہ یہ سی پیک کی روٹ ہے اور اوپر سے انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں اور مسئلہ ہے۔

عمران خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے حقوق ہوں اور ایک کش مکش میں ہیں، ہندوستان اس کا استعمال کررہا تھا اس لیے جنرل باجوہ سیکیورٹی مسئلے آگاہ کیا جو ہمارا دشمن آگے جا کر مسئلہ اٹھا رہا ہے۔عمران خان نے کہاکہ ہندوستان نے ملک میں شیعہ سنی انتشار کا منصوبہ بنایا تھا لیکن ہماری ایجنسیوں نے ناکام بنایا اور اسلام آباد میں لوگوں کو پکڑا، بی

جے پی کی موجودہ حکومت جیسی ہندوستان میں اس قدر پاکستان مخالف کوئی حکومت نہیں آئی۔اپوزیشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ مرضی چاہے کرلیں، مجھے ان کی کوئی فکر نہیں ہے، باہر بیٹھ کر فوج اور عدلیہ کو نشانہ بنارہے ہیں تاکہ دباو بڑھا کر کسی نہ کسی طرح بیٹھ کر مشرف کی طرح این آر او مل جائے۔جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو کلین چٹ دینے سے متعلق سوال

پر انہوں نے کہا کہ دو سال سے پہلے نیب کے ہوتے ہوئے کرپشن بڑھتی گئی اگر ہم نے ملک میں کمزور اور طاقت ور کیلئے قانون میں فرق کیا تو ہمارا ملک کبھی بھی آگے نہیں بڑھے گا، اگر کوئی مزید سوال کرتا ہے تو ہم ان سے تفتیش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میری نظر میں اپنے اور دوسروں کے چوروں اور کرپٹ لوگوں میں فرق کرتے ہیں تو احتساب ختم ہوجاتا ہے، اگر جنرل (ر)

عاصم باجوہ کے حوالے سے کسی نے سوال کیا تو تفتیش کریں گے اور ضرورت پڑی تو ایف آئی اے کے حوالے کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں گھر کے خرچ خود اٹھاتا اور گھر کے اندر سیکیورٹی باڑ تحریک انصاف نے اپنے پیسوں سے لگوائی اور اس کے لیے ٹیکس کا پیسہ خرچ نہیں کیا، مجھے کوئی تحفہ ملا تھا وہ توشہ خانے میں جمع کرکے جو پیسے بچے اس سے سڑک بنوائی۔اپوزیشن

کی آل پارٹیز کانفرنس کی جانب سے کیے گئے استعفے کے مطالبے پر وزیر اعظم نے کہاکہ وزیر اعظم استعفیٰ دے گا تو ان کی چوری بچ جائے گا اور باقیوں سے یہ ڈیل کریں گے جو نہیں ہوگا، ان کے پاس پرامن احتجاج کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جتنا احتجاج کرنا چاہتے ہیں کریں، جس وقت انہوں نے قانون توڑا، میں ایک،ایک کو جیلوں میں ڈالوں گا، ان کے کہنے پر استعفیٰ دینے کا مطلب

چوروں کے بلیک میلنگ پر استعفیٰ دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ مجھے پاکستان کے ایک کروڑ 70 لاکھ لوگوں نے منتخب کیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے استعفیٰ دیا تو ہم پھر سے الیکشن کرائیں گے اور اتنی بڑی نشستوں الیکشن ممکن ہے، اگر یہ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو بسم اللہ کریں اور یقین دلاتا ہوں کہ یہ جو کرنا چاہیں میں اس کے لیے تیار ہوں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ

سینیٹ انتخابات میں ہمیں قانون سازی میں آسانی ہوگی کیونکہ جو اصلاحات کرنا چاہتے ہیں وہ سینیٹ میں جا کر پھنس جاتی ہیں کیونکہ وہاں ان کی اکثریت ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا نے ہمارے پہلے دو سال میں بہت زیادہ تنقید کی جو کسی حکومت کے ساتھ نہیں ہوئی، فیک نیوز سے ہمیں نقصان پہنچایا، کئی میڈیا ہاؤسز کا کردار اچھا رہا اور کئی میڈیا ہاؤسز کا کردار اچھا نہیں رہا اور ان مجروموں

کے تحفظ کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور جو لوگ ملک کو نقصان پہنچا رہے تھے ان کو سپورٹ کیا۔صحافیوں کے اغوا اور جبری گمشدگیوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ مطیع اللہ جان کے معاملے پر ہماری حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، اس سے ہمیں کیا فائدہ ملا اور وہ ہمیں کیا نقصان پہنچا رہے تھے کہ ہم اغوا کرتے یا کسی اور کو اغوا کریں۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز

عیسیٰ کے خلاف مقدمے پر وزیراعظم نے کہا کہ ایسٹ ریکورٹی یونٹ میں ایک چیز آئی ہم نے عدلیہ کو بھیج دی، یا تو کہیں اس ملک میں کوئی مقدس گائے ہے ایسا ہوا تو احتساب نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ میں چیزیں آئیں تو شہباز شریف کے خلاف کیسز بنے اسی طرح یہاں بھی بات آئی لیکن ہم نے کچھ نہیں کیا عدلیہ کو بھیج دیا کہ آپ فیصلہ کریں۔نواز شریف کی واپسی کے

لیے حکومتی منصوبے پر انہوں نے کہاکہ ہم نے فوری منصوبہ بنایا ہے، برطانیہ کی حکومت سے کہہ رہے ہیں واپس بھیج دو، ایک جھوٹ بول کر مجرم باہر گیا، کسی مجرم کو ایسی چھوٹ نہیں دی جاتی لیکن ہم نے انسانی بنیادوں پر باہر جانے کی اجازت دی۔وزیراعظم نے کہاکہ نواز شریف

نے باہر جا کر سیاست شروع کی بلکہ سیاست شروع نہیں کی، ہمیں پتہ ہے کہ باہر کے لوگوں سے باقاعدہ مل رہا ہے اور پاکستان کے خلاف سازش کر رہا ہے، ہم ان کو واپس بلا رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ کوئی وجہ نہیں ہے اس کو واپس نہ بھیجیں، ایک مجرم خاص وجہ سے گیا تھا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎