Android AppiOS App

بجلی چوری میں خیبر پختونخواہ سرفہرست ،پنجاب دوسرے ،سندھ تیسرے نمبر پر حکومت نے خامیاں دور کرنے کیلئے زبردست پروگرام کا آغاز کردیا

  ہفتہ‬‮ 18 جولائی‬‮ 2020  |  18:17

وفاقی حکومت بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور نقصانات کم کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے ،وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے ملک میں 12 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا اعتراف کرلیا جبکہ بجلی کی چوری اور نظام کی خرابی کو لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ قرار دیدیا ۔گزشتہ سال خیبر پختونخواہ بجلی چوری کرنے میں سرفہرست

جبکہ صوبہ پنجاب دوسرے نمبر پر رہا ۔ خبر رساں ایجنسی کے پاس دستاویزات میں وزارت پانی و بجلی کی جانب سے اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں 12 گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے ، ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ بجلی چوری ،نظام کی خرابی اور لوڈ مینجمنٹ کو قرار دیا دیا گیا ہے دستاویزات کے مطابق ،474 فیڈرز پر 8 سے 12

گھنٹے تک کی لوڈمینجمنٹ کی جارہی ہے جبکہ 623 فیڈرز پر 6گھنٹے جبکہ 390 فیڈرز پر 4 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے، دستاویزات کے مطابق نظام کی خرابی اور چوری کے باعث گزشتہ سال 16 ارب یونٹ سے زائد بجلی ضائع ہوئی ہے ،16 ارب یونٹ بجلی موسم سرما میں 2 ماہ کے لیے ملکی ضرورت پوری کرتی ہے ،سال2018-19 میں پیدا شدہ بجلی میں سے 14.72 فیصد ضائع ہوئی ۔

دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ بجلی چوری خیبر پختونخواہ میں ہوئی ،پیسکو5 ارب یونٹس بجلی ضائع کرنے کے ساتھ سرفہرست رہا ہے جبکہ بجلی چوری میں پنجاب کا دوسرا نمبر ہے ، میپکو میں 2 ارب 70 کروڑ یونٹ چوری ہوئے ، لیسکو نے ایک ارب 60 کروڑ یونٹس بجلی چوری کی ۔،فیسکو میں ایک ارب 21 کروڑ یونٹس چوری کی نظر ہوئے ۔بجلی چوری میں سندھ کا تیسرا نمبرہے ،حیسکو میں ایک ارب 42 کروڑ یونٹس بجلی ضائع ہوئی ہے،دستاویزات کے مطابق پاور ڈویژن نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کیلئے نئی اصطلاح پاور مینجمنٹ متعارف کرا دی ہیں جس سے بجلی کی چوری کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ پرانے نظام کی درستگی کیلئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس حوالے سے مزید اصطلاع کی جارہی ہیں۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎