Android AppiOS App

پنجاب کی تباہی دیکھ کر خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے ن لیگ نے بڑی دھمکی دیدی

  ہفتہ‬‮ 18 جولائی‬‮ 2020  |  18:15

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ پنجاب کی تباہی دیکھ کر خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے،پنجاب سے کس بات کابدلہ لیاجارہا ہے؟،پنجاب بچائو تحریک شروع کرنا پڑے گی ،حکومت کی گڈ گورننس نہیں بلکہ ڈیزاسٹر گورننس ہے ،اپوزیشن جماعتیں اے پی سی کر رہی ہیں جس میں ملک کے اندر

احتجاج کا مربوط لائحہ عمل مرتب کیاجائیگا۔ وفاق اور صوبے کی سطح پر نیشنل ہیلتھ چارٹر کو بل کی صورت میں پیش کریںگے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں ڈاکٹروں کے وفد سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ا س موقع پر سائرہ افضل تارڑ، خواجہ سلمان رفیق سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان

تحریک انصاف نے ہماری پنجاب میں کی گئی ترقی کو تباہ کردیا ہے اور پنجاب کو 50 سال پیچھے لے گئی ہے،پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب جس تباہی اور مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے پاکستان کا کوئی اور صوبہ اتنی بد انتظامی کا شکار نہیں۔پنجاب سے کس بات کا انتقام لیا جارہا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں پنجاب بچا ئوتحریک شروع کرنی پڑے گی اور وہ پنجاب کہ جس میں شہباز شریف کی قیادت میں 10 سال میں مثالی خدمت کی گئی آج اس پنجاب کو پاکستان کا پسماندہ ترین صوبہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا صحت اورتعلیم کا بجٹ ختم ہوگیا ہے، یونیورسٹیز کو گرانٹ نہیں مل رہی، اساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جارہی، پنجاب کا سارا انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے، کسی ضلع میں چلیں جائیں سڑکوں کی مرمت پر پچھلے 2 سالوں میں ایک روپیہ خرچ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہ پورے پنجاب میں جو تباہی پی ٹی آئی نے مسلط کی ہے اب وقت ہے کہ پنجاب کے حقوق اور اس کے مینڈیٹ کی آواز کو بلند کیا جائے، پنجاب نے مسلم لیگ (ن)کو مینڈیٹ دیا گیا تھا جو ہم سے چھینا گیا ہے لیکن پنجاب کو یہ 50 سال پیچھے لے گئے ہیں اور جو ترقی ہم نے کی تھی اور جو ادارے ہم نے بنائے وہ سب ایک ایک کر کے ان کے ہاتھوں تباہ ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب کی تباہی پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے کیونکہ ہم نے 10 سال اس پر محنت کی ہے اور عمران نیازی کو پنجاب کی گورنس کی تباہی پر جواب دینا پڑے

گا ۔ گزشتہ 2 سال میں ہائیر ایجوکیشن میں 9 سیکرٹریز تبدیل ہوئے، ایک ڈویژن میں 6 کمشنر، ایک ضلع میں 5 ڈپٹی کمشنرز، ایک صوبے میں 5 آئی جی، 4 چیف سیکرٹریز بدلے جاتے ہیں یہ گڈ گورننس نہیں بلکہ ڈیزاسٹر گورننس ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ عالمی وبا ء نے صحت کے شعبے کو قومی سلامتی کا مسئلہ بنا دیا اور دنیا میں جدید ترین ہتھیار رکھنے والی عالمی طاقتیں بھی اس صورتحال میں بے بس نظر آئیں اور پوری دنیا وینٹی لیٹرز کی تلاش میں سرگرداں رہی۔یہ انسانیت کو بہتر بنانے کا اشارہ ہے کہ اپنے اپنے ملکوں میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنایا جائے تا کہ آئندہ کسی ایسی وبا کی صورتحال میں ہم بہتر طور پر اس کا سامنا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں سے ملنے والی معلومات انتہائی تشویشناک ہے کہ جو ڈاکٹر صف اول میں اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر لوگوں کی صحت کے لیے اپنی فرائض سرانجام دے رہے ہیں ان کے بنیادی مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔وہ شعبہ جو پوری دنیا کی اولین ترجیح بن چکا ہے اس کی ریگولیٹری باڈی کو فٹ بال بنا دیا گیا ہے، پی ایم ڈی سی جو اس شعبے کی ریگولیشن کا ادارہ ہے اس کی تباہی کا آغاز سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ہاتھوں شروع ہوا اور عمران نیازی کے ہاتھوں نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ انہوں نے کہا اس تباہی کی قیمت ہمارے ڈاکٹرز اور شعبہ صحت ادا کررہا ہے،

آج پورے پاکستان میں ہیلتھ کیئر کا شعبہ بدترین بحران کا سامنا کررہا ہے کیوں کہ یہ حکومت پی ایم ڈی سی کو قبول کرنے سے انکار کررہی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو قبول نہیں کیا اور بدستور یہ اپنی ضد اور انا پر قائم ہے اور اب کوشش یہ ہے کہ جوائنٹ سیشن کے ذریعے پی ایم سی کا ادارہ قائم کرے تا کہ پاکستان میں وہ نظام لایا جائے جو ہمارے حالات و واقعات سے مطابقت نہیں رکھتا۔انہوں نے کہ پنجاب میں یہ قانون بنا کر ہیلتھ کیئر شعبے کو پرائیویٹائز کررہے ہیں جس سے غریب آدمی کے لیے سرکاری ہسپتالوں سے علاج کروانا نا ممکن ہوجائے گا۔ یہ پاکستان امیروں کا پاکستان نہیں 22 کروڑ پاکستانیوں کا ہے جن کی اکثریت سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ایک ملک جس کی اقتصادی ترقی پہلے ہی پسماندگی کا شکار ہے جہاں زیریں متوسط طبقہ اور غریبوں کی اکثریت ہے وہاں مہنگا علاج فراہم کیا جائے گا اور پرائیویٹ سیکٹر والے نرخ دئیے جائیںگے تو لوگ مہنگا علاج کس طرح کروائیں گے۔احسن اقبال نے کہا کہ ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے تحفظات حقیقی ہیں اور حکومت کا فرض ہے کہ ان پر غور کریں اور پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن)حکومت کی اس بلڈوز قانون سازی کے خلاف بھرپور آواز اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا قومی اسمبلی میں بھی پی ایم سی کے قانون پر تحفظات کا اظہار کیا جائے گا، اہمیں یہ سن کر دکھ ہوا کہ 6 جن ہزار پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کے لیے حکومت نے میڈیکل یونیورسٹیز بنا کر اعلی تعلیم این ڈی ایم ایس کا پروگرام شروع کیا تھا اس حکومت کو

ڈس اون کررکھا ہے اور ان ڈاکٹرز کو تسلیم نہیں کیا جارہا ہے جبکہ یہ سب سرکاری ہسپتالوں میں اپنی تربیت مکمل کرچکے ہیں۔انہوں نے 6 ہزار پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ بیرونِ ملک سے ڈگری لے کر آنے والے وہ ڈاکٹر جو پی ایم ڈی سی کا امتحان پاس کرچکے ہیں انہیں بھی فوری لائسنس دیا جائے یہ صرف حکومت کی بیوروکریٹک غفلت ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ اس حکومت کی صرف ایک ترجیح ہے کہ نیب کے جھوٹے کیسز کس طرح بنانے ہیں، مجھے ڈر ہے کہ جس طرح پائلٹس کے لائسنس پر حکومت نے ڈرامہ کیا کہیں ڈاکٹرز کے حوالے سے کوئی ڈرامہ نہ کردیں جس سے پوری دنیا میں ہمارے ڈاکٹر مشکل میں پھنس جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ڈاکٹرز بہترین صلاحیتوں کے حامل ہیں ہمارا ہیلتھ کیئر سسٹم پوری دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے اس لیے ان ڈاکٹروں کے سرٹیفکیٹس جاری کریں تا کہ یہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرسکیں۔احسن اقبال نے کہا ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن)ملک کے بہتری ہیلتھ پروفیشنلز کی مشاورت سے نیشنل اور صوبائی ہیلتھ چارٹر تیار کریں گے جسے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں بل کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران احسن اقبال سے جب پنجاب بچائو تحریک کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم وفاق کی جماعت ہیں، آپ اپنے الفاظ میرے منہ میں نہ ڈالیں ۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎