Android AppiOS App

کورونا وائرس سے ایک پاکستانی کی ملاقات کا انتہائی دلچسپ اور سبق آموز احوال، ضمیر جھنجھوڑ دینے والی تحریر

  جمعہ‬‮ 17 جولائی‬‮ 2020  |  19:53

کورونا وائرس سے ایک پاکستانی کی ملاقات، جی ہاں ایک معروف صحافی اختر صدیقی نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ کورونا وائرس کی ایک پاکستانی سے ملاقات ہوئی ہے اور اس نے اپنے پاکستان آنے کاجومدعابیان کیاہے وہ یقینی طورپر ہمارے لیے ایک سبق بھی ہے اورعبرت بھی۔آئیے ملاقات کااحوال پڑھتے ہیں۔ووہان چین سے آنے والے کورونا وائر س کا سامنا جب ایک پاکستانی سے ہوا تو وہ بہت ہی پریشان ہوگیا

کیونکہ ان کے نزدیک وہ تو پاکستان میں پہلی مرتبہ آرہا تھا مگر یہ کیا پاکستانی اس سے پہلے سے واقف تھا اور اس سے ایسے مل رہا تھا کہ جیسے برسوں سے ان کی آشنائی ہو جس سے کورونا وائرس کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا کیونکہ جب اسے بتایا گیا کہ بچو

ہمارے پاس پہلے ہی ڈینگی موجود ہے اس کی آمدآمد بھی قریب ہے ایسے میں لوگ تجھے بھول جائیں گے اس لیے جو بھی تو کر سکتا ہے جلد سے جلدکر لے کیونکہ سب لوگ کہیں گے کہ فلاں کو ڈینگی ہے فلاں متاثر ہو سکتا ہے ایسے میں تیری کیا وقعت رہ جائیگی اس پرکورونا وائرس بہت زیادہ پریشان ہوا اور کہنے لگا صبرکریں ابھی میرے بھائی ایران میں کام کر رہے ہیں وہ بھی آتے ہوں گے دیکھنا پھر ہم کیا کرتے ہیں،اس پر پاکستانی نے کہاکہ اس سے تم ہماراکیا بگاڑ لوگے ہم کوئی بھی چیز نہ ہی خالص بناتے ہیں اور نہ ہی کھاتے ہیں ایسے میں جب تمہیں پاکستانیوں کے اندرکے زہرکا سامنا کرنا پڑیگا تو لگ پتہ جائیگا۔ اس پر کورونا نے کہاکہ آپ اتنے بھی شیر نہ بنیں ہم نے بھی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں ہم نے اٹلی، چین اور امریکہ اور ایران میں تباہی مچا دی ہے دوسرے ممالک بھی ہم سے ڈر رہے ہیں، مسجدالحرام اور مسجدنبوی ؐ بھی ہماری وجہ سے بندکر دی گئی ہیں ایسے میں طواف بھی رکا ہوا ہے، ایران میں زیارتوں کا سلسلہ بھی ہم نے روک دیا ہے مغربی ممالک میں ہم نے نائٹ کلب اور ڈانس کلب تک بندکرا دیے ہیں اور یہ جو آپ کے بچے رنگ برنگی ٹافیاں،گولے کھاتے ہیں وہ بھی بندکیے جا رہے ہیں ہم کچھ بھی نہیں کرنے دیں گے دیکھنا پاکستانیوں کو بھی ہمارے آگے گھٹنے ٹیکنا پڑیں گے۔

باتیں تو اس کی بجا تھیں مگر پاکستانی نے ہار ماننا کب سیکھی تھی وہ مزیدگفتگوکے لیے تیار ہوگیا۔پاکستانی کہنے لگا دیکھو آپ کورونا ہو یا

جوکچھ بھی ہو سن لو ہمیں تیری کوئی فکرنہیں ہے ہم بہت ڈھیٹ قسم کی منتشر قوم ہیں ہمیں کسی سے کوئی ڈر نہیں لگتا، ہمیں ہر پانچ سال بعد نت نئے وعدے وعید دیے جاتے ہیں ہرسال ہم کسی نہ کسی مسئلے سے دوچار ہوتے ہیں کبھی ہم سیلاب میں مرتے ہیں توکبھی ہمارے لوگ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کرتے ہیں ہمارے ہاں ہرچیز میں موت چھپی ہے ہم تو والدین تک کو اپنی مفادکے لیے قتل کردیتے ہیں،

تم کیا چیز ہو؟ ہمارے لاکھوں لوگ مرگئے مگر ہمارے سروں پرجوں تک نہیں رینگی بہتر ہوگا کہ تم اور کوئی راستہ لو ہم تجھ سے ڈرنے والے نہیں۔ ہمارے ملک آ تو گئے ہو مگر یاد رکھنا ہمیں تم سے ابھی بھی ڈر نہیں لگ رہا ہمارے لوگوں نے منافع کے لیے پہلے ہی فیس ماسک چھپا دیے ہیں کئی مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں یہاں تو پولن الرجی شروع ہونے کے دن بھی شروع ہو چکے ہیں ایسے میں تیری دال کہیں بھی جلنے والی، ابھی بھی وقت ہے بھاگ جاؤ یہاں سے ہم جب اپنوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے تو سوچو تمہارے ساتھ کتنا برا ہو گا؟ اس پر کورونا وائرس پہلے تو بہت ہنسا اور پھرکچھ سنجیدہ ہونے کی کوشش کرتے ہوئے کہنے لگا

تیری باتیں میری سمجھ سے بالاتر ہیں جیسے بھی سوچ لو ہم نے اب اس ملک کے لوگوں کو نہیں چھوڑنا ہے، ابھی تک آپ کے پاکستانی بھائی ہمارے ساتھ بہت جگہوں پر چھپے ہوئے ہیں وہ جب سامنے آئیں گے تو آپ کو آپ کی نانی یاد آجائے گی۔ کورونا وائرس کی بات سن کر پاکستانی اتنا ہنسا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، پاکستانی کہنے لگا، دیکھو ہمیں ہمارے سیاستدانوں نے قیام پاکستان سے اب تک پریشان کیا ہوا ہے ہمیں مسلسل لوٹ رہے ہیں دیہاتوں میں ہمارے کسان گندم اورگنا اگاتے ہیں ان سے یہ گندم اور گنا اونے پونے داموں خرید لیا جاتا ہے اور پھر اس سے آٹا، سوجی، میدہ اور دوسری طرف چینی بنا کر مہنگے داموں ان کسانوں کو ہی فروخت کردیا جاتا ہے

ہمیں کبھی اس سے کوئی الجھن نہیں ہوئی ہم آج بھی سیاست کے نام پرلوٹے جا رہے ہیں ہمیں کسی کورونا وارونا سے ڈر نہیں لگتا۔ہم نے ہمیشہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ہے ایسے میں تم ہمیں وائرس سے مت ڈراؤ، ہم نے آج تک کوئی بھی کام ٹھیک طریقے سے نہیں کیا، ہم مساجد میں بھی ریاکاری کرتے ہیں، ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے، ہم جھوٹ بولتے ہیں، ہم وعدہ خلافی کرتے ہیں، ہم اپنی بہنوں، بیٹیوں اور دیگر خواتین کی جائیدادیں تک ہڑپ کر جاتے ہیں، ہم یتیموں کا مال کھاتے ہیں سود تک کھا جاتے ہیں، ماں باپ کا احترام نہیں کرتے ہیں ہم کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اپنی بیویوں کے۔اس پر کورونا وائرس بہت حیران ہوا اور کہنے لگا آپ لوگ تو مسلمان ہیں اور کام مسلمانوں والے کیوں نہیں کرتے ہیں

اس پر پاکستانی کہنے لگاکہ ہم پہلے پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان ہیں اور پھر پاکستانی اور اس کے بعد ہی مسلمان ہونے کا نمبر آتا ہے اس لیے اس نمبر تک پہنچتے پہنچتے ہم اس دنیا فانی سے کوچ کر جاتے ہیں باقی کام ہمارے بچے کرتے ہیں ہماری قبریں پختہ بنواتے ہیں ہماری غلطیوں کو وہ اس اندازسے پیش کرتے ہیں کہ ساری دنیا ہی ہماری راست بازی کی قائل ہو جاتی ہے۔بھائی وائرس جی ہم تو پہلے ہی مرے ہوئے لوگ ہیں ہمیں تم نے کیا مارنا ہے ہم کبھی بھی ایک ایشو پر جمع نہیں ہوئے، ہماری اپنی اپنی ڈیڑھ انچ کی مساجد ہیں، ہمارے مقدمات سالوں چلتے ہیں ہماری آئندہ آنے والی نسلیں بھی انصاف کے لیے عدالتوں کے دھکے کھاتی رہتی ہیں ایسے میں رازکی بات بتاؤں پچھلے دنوں سپریم کورٹ نے سو سال بعد اپردیرکے ایک مقدمے کو

ایک بار پھر نچلی عدالت کو بھجوا دیا اور اس دوران مقدمے بازی میں فریقین کی تیسری نسل پیروی کرتی نظر آئی، زمین کی اتنی قیمت نہیں تھی جتنی اس مقدمہ بازی پر اب تک اخراجات آ چکے ہیں ہمیں تو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ جیل میں قیدی مر چکا ہے اور ہم اس کی موت کے واقعے سے لاعلم ہوکراس کی رہائی کے پروانے جاری کر رہے ہوتے ہیں اور پتہ بعد میں چلتا ہے کہ وہ بے چارہ تو عدالتی فیصلے سے کئی سال پہلے ہی زندگی کی قید سے آزاد ہو چکا ہے۔جس کے بارے میں نہ تو لواحقین کو پتہ ہوتا ہے اور نہ ہی جیل انتظامیہ عدالتوں کو بتا پاتی ہے، وائرس جی ہمارے حالات بہت ہی عجیب ہیں ہم نے انٹرنیٹ پر کوئی فلٹر نہیں لگا رکھا اس لیے جو عریانی فحاشی دنیا بھر سے پھیلتی ہے، جس سے زینب اور اس جیسے واقعات ہوتے ہیں، ہمارے بچے آزادانہ اندازسے دیکھتے ہیں

ظاہرسی بات ہے کہ جب ہمارے بچے اس طرح کے گندگی والے سین دیکھیں گے تو پھر انھوں نے معاشرے میں وہی کام توکرنا ہے اب تو آپ کی وجہ سے ہم مساجد میں بھی نہیں جا سکتے ہیں گریہ و زاری تک نہیں کر سکتے ہیں۔ اسی طرح سے ہمارے معاشرے میں نکمے مردوں کی ایک بڑی تعداد اپنا وقت گزارنے کے لیے اس طرح کے فحش پروگراموں کا سہارا لیتی ہے بیروزگاری کی وجہ سے ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے وہ کریں تو آخر کیا کریں؟ یہ باتیں سن کر وائرس بھی اپنے گریبان میں منہ چھپا کر رہ گیا اور کہنے لگا کہ بھائی پاکستانی آپ جیتے میں ہارا، جو لوگ اللہ پاک سے نہیں ڈرتے وہ بھلا مجھ سے کیا ڈریں گے، جو اپنے سجدوں میں ایک دوسرے کی برائی سوچتے ہیں انھیں ہم نے کیا پریشان کرنا ہے۔ زیادہ تر لوگ مساجدکا رخ پہلے ہی نہیں کرتے ہیں، موبائل فونز ہی ان کا اوڑھنا بچھونا بن کر رہ گیا ہے،

ماں باپ کی شفقت اور دعاؤں سے بھی کوسوں دور یہ نئی نسل کیا کر پائے گی واقعی پاکستان میں ہماری کوئی ضرورت نہیں ہے ہم یہاں سے جلد چلے جائیں گے، یہاں ایک دوسرے کو مارنے والے پہلے ہی کافی موجود ہیں وہاں ہماری کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ اس پر پاکستانی نے کہاکہ ہاں تمہیں تو جانا ہی ہو گا کیونکہ ہم نے بھی اب بحیثیت قوم سوچنا شروع کر دیا ہے اور ہم نے اللہ کے حضور بھی توبہ کا آغازکر دیا ہے اس پر وائرس نے ہنس کرکہا کہ ہاں ہمیں جانا ہی ہوگا کیونکہ پاکستان میں گرمیاں شروع ہونے والی ہیں اور ہم تیس درجہ حرارت میں زندہ نہیں رہ سکتے ہیں اس لیے ہم جا رہے ہیں کچھ نہ کچھ نقصان ہم بھی کر جائیں گے، برداشت کر لینا اور اپنے بچوں بوڑھوں اور کمزور عورتوں کو سمجھا دو وہ بار بار ہاتھ دھوئیں، ایک دوسرے کے ساتھ معانقہ اور ہاتھ نہ ملائیں، الرجی والے مریض ہمارے خلاف زیادہ سے زیادہ احتیاط کریں، چیزوں کو صاف رکھیں، ایک دوسرے کی مددکریں اور قوم بن کرکریں، اور کچھ نہیں تو اپنے اللہ اور رسول? کا کہنا ہی مان لو جنہوں نے حکم دیا ہے کہ جہاں وباء پھیلی ہو ایسے علاقے میں کوئی نہ جائے اور جو وہاں موجود ہیں وہ وہاں سے نکل کر کسی اور علاقے میں نہ جائیں تاکہ یہ وباء مزید نہ پھیلے، اس کے بعد وائرس نے کہا کہ اوکے ہم جا رہے ہیں۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎