Android AppiOS App

7 دن یہ استعمال کریںاور جوڑوں کا درد جڑ سے ختم

  جمعہ‬‮ 17 جولائی‬‮ 2020  |  18:33

چِکُن گنیا ایک وائرل انفیکشن ہے جو ایڈیس ایگپٹی مچھروں کے کاٹنے سے ہوتا ہے . اس وائرل کے سبب بخار، شدید جوڑوں کا درد اور جسم پرریشزپر جاتےہیں . تمام علامات میں سے جوڑوں کا درد چِکُن گنیا کی سب سے مختلف علامت ہے.عموماً چِکُن گنیا کے سبب ہونے والا جوڑوں کا درد ایک یا دو ہفتوں تک رہتا ہے،تاہم

بعض صورتوں میں یہ درد مہینوں یا اس سے بھی زیادہ رہ سکتا ہے. جبکہ جوڑوں کے درد کیلئے کوئی مخصوص علاج نہیں ہے، ماہرین مریضوں کو چِکُن گنیا کے بخار کے دوران اور بعد میں تیزی سے صحتیاب ہونے کیلئے باقاعدہ اور صحت مندغذا تجویز کرتے ہیں . پھل اور سبزیوں پر مبنی صحت مند غذا کھائیے.ادرک کی چائے اور سبز چائے پی جیئے، یہ

سوجن کو آرام دینے میں مددگار ثابت ہوگی.خوب پانی پی جیئے تاکہ ڈی ہائیڈریشن سے پچ سکیں.اس بات کو یقینی بنائیے کے آپ مطلوبہ مقدار میں نیند لے رہے ہیں تاکہ آپ کا جسم آرام کر سکے اور جوڑوں کے درد سے تیزی سے صحتیاب ہو.جوڑوں پر ناریل کے تیل کا ہلکا مساج ، جوڑوں کے درد میں آرام بخشتا ہے.جوڑوں پر تولیے میں برف لپیٹ کر لگانے سے سوجن اور درد میں کمی واقع ہوتی ہے.ریشز کیلئے زیتون کے تیل اور وٹامن ای کو ملاکر متاثرہ جگہ پر لگایا جا سکتا ہے. دنیا بھر میں دمے کے کیسز ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے بڑھتے جا رہے ہیں. دمہ پھیپڑوں کی ایک بیماری ہے جس میں سانس کی نالیاں سوج جاتی ہیں اور سکڑ جاتی ہیں جس کے سبب سانس لینے میں دقت ، سینے میں تکلیف اور کھانسی ہوتی ہے.کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں 30 کروڑ سے زائد لوگ دمہ کے مرض میں مبتلا ہیں جس میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں.

دمہ کا مریض مکمل طور پر علاج نہیں ہو سکتا لیکن تحقیقات کا دعویٰ ہے کہ اپنے طرز زندگی میں تبدیلیاں لا کر بشمول صحتمند غذا جو پھلوں ، سبزیوں ، میوے، اناج اور انسیچوریٹڈ فیٹی ایسڈزمریض کے اندر موجود دمے کی علامات کو بہتر کرنے میں مدد دے سکتا ہے.تاہم، کچھ غذائیں ایسی ہیں جن سے دمے کے مریض کو اجتناب برتنا چاہیئے. وہ غذائیں درج ذیل ہیں.وہ غذائیں جو الرجی کا سبب سمجھی جاتی ہیں جیسے کہ انڈہ، مونگ پھلی، دودھ، سویا، شیلفش اور دیگر اقسام کے مچھلیاں.وہ غذائیں جو سلفائیٹ رکھتےہیں مثلاً اچار، لیموں کا رس، خشک میوہ جات اور

سبزیاں.ہائی سالٹ ڈائیٹ( فاسٹ فوڈ اور پروسیسڈ فوڈز) ان غذاؤں کے دمے پر بد تر اثرات ہوتے ہیں. ہائی سالٹ کا لینا سانس کی نالی کی سوزش اور خون میں آکسیجن کے بہاؤ میں تبدیلی کا سبب بھی پایا گیا ہے.

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎