Android AppiOS App

حکومت نے نجی آئل کمپنیوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے‎ راتوں رات پیٹرول قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ سامنے آگئی

  ہفتہ‬‮ 27 جون‬‮ 2020  |  14:38

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے دعویٰ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول نہ صرف برصغیر بلکہ جنوبی ایشیا کے مقابلے سستا ہے۔قومی اسمبلی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ریکارڈ اضافے پر وضاحت دیتے ہوئے وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ انٹرنیشنل مارکیٹ

میں پیٹرول کی قیمتوں میں 112 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 41 روپے کا اضافہ ہونا تھا تاہم حکومت نے اسے 25 روپے 58 پیسے تک محدود رکھا۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 24 روپے 31 پیسے کا مجموعی اضافہ ہونا تھا لیکن اسے 21 روپے تک اضافہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ حکومت کی مجبوری

ہے اس کے باوجود گزشتہ ماہ کے دوران نہ صرف برصغیر بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں پیٹرول کی قیمت سب سے سستی ہے۔انہوں نے کہا کہ یکم جنوری کو پیٹرول کی قیمت 116 روپے 60 پیسے اور ڈیزل کی 127 روپے 26 پیسے تھی، ہم نے پیٹرول کو 45 روپے اور ڈیزل کو 47 روپے سستا کیا اور قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باوجود بھی پیٹرول کی قیمت جنوری کے مقابلے 17 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 26 روپے فی لیٹر کم ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں پیٹرول 100 روپے

فی لیٹر جبکہ بھارت میں اس وقت پیٹرول کی قیمت 180 روپے، بنگلہ دیش میں 174 اور چین میں 138 روپے فی لیٹر ہے۔اسی طرح جنوب مشرقی ایشیا میں دیکھا جائے تو فلپائن میں 153 روپے، تھائی لینڈ 159 روپے اور جاپان میں پیٹرول 196 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ حقائق جن سے ہم نظر نہیں چرا سکتے جس وقت بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی آئی ہم نے عوام تک اس کے ثمرات پہنچائے اور ہم تقریباً 30 روز کے وقفے پر کام کرتے ہیں اور جب اضافہ ہوا تو اسے بھی ایک حد تک کیا۔وزیر توانائی نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے 46 فیصد اور 48 فیصد ٹیکسز اور جی ایس ٹی نہیں رکھا بلکہ ایک مناسب سطح پر رکھا جبکہ ان مصنوعات پر نئے ٹیکسز بھی نہیں لگائے۔ عمر ایوب نے کہا کہ حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے مطابق اضافہ اور کمی کی جائے جبکہ سابقہ ادوارِ حکومت میں جب پیٹرول کی قیمت کم ہوتی تھی تو

اس کا فائدہ حکومت خود اٹھاتی تھی لیکن ہم نے یہ نہیں کیا۔بجلی کے بارے میں وزیر توانائی نے کہا کہ

جب ہماری حکومت اقتدار میں آئی اس وقت بجلی کے ترسیلی نظام کی صلاحیت صرف 8 ہزار میگا واٹ تھی جس کی وجہ سے 5 سو میگا واٹ کی ٹرانسمیشن لائنز میں تعطل آتا تھا تاہم ہم نے اس صلاحت کو ساڑھے 26 ہزار میگا واٹ تک پہنچا دیا۔انہوں نے کہ ہائی لاس فیڈرز کے علاوہ سب فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ ختم کردی گئی ہے اور ترسیلی نظام اور تقسیم کار نظام میں مزید سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں اس کے علاوہ ہماری توجہ کلین اور گرین انرجی، قابل تجدید توانائی پر مرکوز ہے۔انہوںنے کہاکہ توانائی کے جو معاہدے گزشتہ حکومتوں نے کیے وہ مہنگے تھے اور درآمدشدہ ایندھن پر منحصر بجلی کی قیمت بھی زیادہ تھی لہذا اس وقت ہماری تمام تر توجہ ہم انڈیجنیئس فیول، قابل تجدید توانائی، ہائیڈل انرجی، جوہری توانائی پر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ انرجی مکس بہتر کیا جائے کیوں کہ ہمیں معلوم ہے کہ جب ہماری توانائی کی قیمت بین الاقوامی مقابلے پر آئے گی اس سے ہماری صنعت مسابقت کے قابل ہوگی اور ہمیں فائدہ ہوگا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎