Android AppiOS App

لائسنس جعلی طریقے سے حاصل کیا، کتنے پائلٹس نے تسلیم کر لیا، تہلکہ خیز انکشاف

  ہفتہ‬‮ 27 جون‬‮ 2020  |  14:13

وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے کل 860پائلٹ ہیں،جن میں سے262کے لائسنس مشوک تھے،ان میں سے28پائلٹس کی انکوائری مکمل ہوچکی ہے اور 9پائلٹس نے تسلیم کرلیا کہ ان کا لائسنس جعلی طریقے سے حاصل کیا گیا،ان28پائلٹس کو نوکری سے فارغ کرنے کیلئے کابینہ سے منظوری

لینی ہے۔سول ایوی ایشن کے لائسنس جاری کرنے والے ملازمین کو بھی برطرف کیا گیا ہے، ان میں آصف الحق،سینئر ڈائریکٹر فیصل منصور انصاری،عبدالرئیس،خالد جاوید،سید عدیل اور ان کی انکوائری ایف آئی اے کے حوالے کردی ہے۔ان کے علاوہ جعلی لائسنس جاری کروانے میں تین غیر متعلقہ سائیڈر لوگ ہیں جو ملازم نہیں،ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان

ائیرلائن کے کل 753پائلٹس ہیں اور 107پائلٹس غیر ملکی ائیرلائن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔پی آئی کے 450پائلٹس ہیں،ائیربلیو کے87،سیرین ائیرلائن کے47،سابق شاہین ائیر لائن کے 68 اور پرائیویٹ ودیگر ائیرلائنوں کے 101پائلٹس ہیں۔ان میں سے 262پائلٹس ایسے ہیں جن کے لائسنس مشکوک ہیں،ان میں پی آئی اے کے 141،ائیربلیو کے9،سیرین ائیرلائن کے10،سابق شاہین ائیر لائن کے 17 اور پرائیویٹ ودیگر ائیر

لائنوں کے 85پائلٹس شامل ہیں۔تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ 121پائلٹس ایسے ہیں جنہوں نے امتحانات میں ایک پیپر غلط طریقے سے پاس کیا،39پائلٹس نے2پیپر،21پائلٹس نے3پیپر،15پائلٹس نے4پیپر،11پائلٹس نے5پیپر،11پائلٹس نے6پیپر،10نے7اور34پائلٹس ایسے تھے جنہوں نے تمام 8کے8پیپر جعلی طریقے سے پاس کئے۔انہوں نے کہا کہ 119پائلٹس جن کے کمرشل پائلٹس لائسنس ہیں،جو مشکوک ہیں اور ائیرٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس153پائلٹس ہیں جو مشکوک ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر 648لوگوں کو پہلے ہی نکالا گیا تھا،جن میں کیبن کرو119،کاک پٹ16،انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے98اور جنرل ایڈمنسٹریشن کے415لوگ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ 2010 سے 2018 تک بھرتی ہوئے تھے اور ہم سابقہ ادوار کے گند کی صفائی کر رہے ہیں۔ 2021ء تک پی آئی اے 1960سے1980والی پوزیشن میں آجائے گا۔ 2023ء تک ہم پی آئی اے جہازوں کی تعداد45تک لے کر جائیں گے۔غلام سرور خان نے کہا کہ گزشتہ10سالوں میں پی آئی اے کے 7چیف ایگزیکٹو تبدیل ہوئے ہیں اور موجودہ چیف ایگزیکٹو کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔اس میں کسی قسم کی کوئی سیاسی انتقام نہیں ہے،یہ بالکل میرٹ پر انکوائری کی گئی ہے اور یہ 22گریڈ کے افسر رضوان کی سربراہی میں پرائیویٹ سروسز حاصل کرکے ثبوتوں کے ساتھ عمل میں لائی گئی ہے۔اس سے پہلے چار حادثے ہوئے ہیں،ان میں سے تین

حادثوں میں پائلٹ قصوروار ٹھہرے ہیں،ہم جو پائلٹس کے خلاف کارروائی کررہے ہیں اس کی عالمی ادارے تعریف کریں گے۔ایمرٹس ائیرلائن نے850پائلٹس کو فارغ کیا ہوا ہے،ابھی کنٹریکٹ پر پائلٹس کو رکھنے کا کوئی پلان نہیں ہے،اگر ضرورت پڑی تو ضرور رکھیں گے،اس کا باقاعدہ طریقہ کار ہے جس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎