Android AppiOS App

آخری لمحات کی درد ناک صورتحال بیان کرنا پائلٹوں کے اہلخانہ کیلئے بہت تکلیف دہ اور زندگی بھر کا روگ بن سکتا ہے،ماہرین نے بڑااعتراض اٹھادیا

  جمعہ‬‮ 26 جون‬‮ 2020  |  21:57

طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے پر ماہرین نے اعتراض اٹھادیا۔تفصیلات کے مطابق وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی میں ہوئے پی آئی اے طیارہ حادثے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی۔ انہوں نے کھلے عام حادثے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے یہاں تک بتا دیا کہ حادثہ سے

پہلے دونوں پائلٹ آپس میں کورونا وائرس کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے اور آخری لمحات میں پائلٹ کے منہ سے یا اللہ نکلا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ماہرین نے رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ غلام سرور خان نے طیارے کے کاک پٹ وائس ریکارڈر میں محفوظ پائلٹوں کی باہمی گفتگو عام کرکے شہری ہوا بازی کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی

کی جس کے منفی نتائج آسکتے ہیں۔شہری ہوا بازی کے قوانین کے ماہرین کے مطابق حادثہ کے شکار طیارے کے کاک پٹ وائس ریکارڈر میں محفوظ پائلٹوں کی باہمی گفتگو کو انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے اور اس گفتگو کو عام نہیں کیا جاسکتا۔شہری ہوا بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آخری لمحات کی درد ناک صورت حال بیان کرنا پائلٹوں کے اہل خانہ کیلئے بہت تکلیف دہ اور زندگی بھر کا روگ بن سکتا ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎