Android AppiOS App

’’پائلٹس کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا‘‘ جہاز تباہ ہونےسے پہلے آخری بار3 مرتبہ کیا کہا؟ کراچی طیارہ حادثے کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

  بدھ‬‮ 24 جون‬‮ 2020  |  18:25

قومی اسمبلی میں وزیر ہوا بازی غلام سرور خان ایوان میں طیارہ حادثہ رپورٹ پیش کردی ہے،ابتدائی رپورٹ میں کراچی حادثہ میں پائلٹ کی زیادہ خود اعتمادی،کنٹرول ٹاور کی ہدایات پر عمل نہ کرنا،پائلٹ کی فیملی کورونا میں مبتلا تھی لاہور سے کراچی تک کے سفر میں کوپائلٹ کے ساتھ کورونا پر ہی بات ہوتی رہی۔ لینڈنگ

سے قبل10ناٹیکل پر لینڈنگ گئیرکھول دیے گئے اور پھر 5ناٹیکل پر گئیر اوپر کر دیے گئے۔کنٹرول ٹاور نے 3بار کہا کہ آپ کی بلندی 7220فٹ پر ہے لینڈنگ کے لیے2500فٹ پر ہونا چاہیے تھا اس کے باوجود پائلٹ نے جواب دیا کہ میں سنبھال لونگا۔گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وزیر ہوا بازی نے کراچی طیارہ حادثہ پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے یہ پہلا واقعہ نہیں ہے

،بہتر سالوں میں بارہ واقعات ہوئے ہیں،ان بارہ واقعات کی بروقت انکوائری ہوئی نہ رپورٹ سامنے آئی، ذمہ داروں کا تعین اور سزا بارے کوئی نہیں جان سکا،طیارہ حادثہ میں 97 افراد شہید ہوئے، اسی رات ایک ٹیم تشکیل دی جو سینئر ترین افراد پر مشتمل بورڈ تھا،اسی رات یہ بورڈکراچی پہنچا اور اس نے اپنی تحقیقات کا آغاز کردیا،سابق تمام حادثات کی بروقت انکوائری ہوئی نہ رپورٹ سامنے آئی نہ حقائق عوام تک پہنچے،آج تک عوام اور مرنے والوں کے لواحقین میں تشنگی جاری رہی کہ ان واقعات کے

ذمہ دار کون تھے ،وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی اور کورونا کی صورتحال کے باوجود انکوائری بورڈ نے احساس ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض منصبی ادا کئے،مذکورہ کراچی حادثہ 22 تاریخ کا واقعہ اور 26 تاریخ کو فرانسیسی ٹیم موقعہ پر آئے،دس لوگ اْنکے اور چار لوگ ہمارے تھے۔ عوام رائے سامنے آئی کہ پائلٹس کو بھی انکوائری کمیٹی کا حصہ بنایا جائے،اس پرائیر بلیو کے دو پائلٹس کو کمیٹی کا حصہ بنایا ، بحیثیت مسلمان اور پاکستانی ایک شفاف انکوائری ہو رہی ہے ، یہ ایک عبوری رپورٹ ہے مکمل انکوائری رپورٹ میں تمام تر معاوضہ جات ، محرکات اور حقائق سامنے لائیں گے،جس کمپنی نے جہاز بنایا وہ حکومت فرانس کا نمائندہ اور ایک امریکن بھی اس میں موجود تھا دس غیر ملکی افراد میں سے چار افراد ملکی افراد تھے جبکہ پائلٹ بھی سٹیک ہولڈرز تھے اس لیے اس بورڈ کو بڑھایا ۔ بین الاقوامی پائلٹ ایسوسی ایشن کو خط لکھا ایک اے تھری پائلٹ اور ٹیکنیشن بھجوایا جائے تاکہ اس کی شفاف تحقیقات ہوسکیں،اے تھری کا سب سے بڑا نیٹ ورک ترکش کمپنی کے پاس

ہے

اسے شامل کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا ،بالکل شفاف اور غیر جانبدار انکوائری ہورہی ہے اور اس کی عبوری رپورٹ آج ایوان میں پیش کررہے ہیں مکمل رپورٹ بھی اس ایوان کی سامنے پیش کی جائے گی تمام تر وجوہات، محرکات اور معاوضے کی تفصیلات اس میں شامل ہوگی ۔29 گھر اس حادثہ میں مکمل تباہ ہوئے جن کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔ متاثرہ افراد کو متبادل رہائش گاہیں بھی فراہم کی گئی ہیں،کسی کے دکھوں کا مداوا اللہ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا مگر جس حد ہم کرسکتے تھے ہم نے متبادل دینے کی کوشش کی،جو افراد جاں بحق ہوئے ان میں 19 افراد کو فی کس 10 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں ایک گھر کی بچی بھی شہید ہوئی اس کو بھی معاوضہ دیا گیا ہے اورافراد کے اہل خانہ کو فی کس دس لاکھ دئے گئے۔بین الاقوامی پائلٹ ایسوسی ایشن کو خط لکھا ایک اے تھری پائلٹ اور ٹیکنیشن بھجوایا جائے تاکہ اس کی شفاف تحقیقات ہوسکیں ، اے تھری کا سب سے بڑا نیٹ ورک ترکش کمپنی کے پاس ہے اسے شامل کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا 29 گھر اس حادثہ میں مکمل تباہ ہوئے کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔ متاثرہ افراد کو متبادل رہائش گاہیں بھی فراہم کی گئی ہیں ، جو افراد جاں بحق ہوئے ان میں 90افراد کو فی کس 10 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں ،پائلٹ کی ذمہ داری کے حوالے سے پائلٹس کو بھی انکوائری بورڈ میں شامل کیا گیا،ترکی کی ایئرلائن سے ماہرین منگوائے۔ اصل معاوضہ ورثا کو حقیقت کا علم ہونا ہے،دو اہم شواہد ڈیٹا ریکارڈر اور وائس ریکارڈر کے آخری الفاظ بھی میں نے سنے ہیں ،اس کے علاوہ مستند ریکارڈ کوئی نہیں ہوسکتا۔ یکم جون کو ریکارڈر فرانس گیا،دو جون کو دس لوگوں کی موجودگی میں سنا گیا،وہ سارا رپورٹ کا حصہ ہوگا،وائس ریکارڈر جو ہم نے سنا ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارے سوفیصد فٹ تھا ،

سات مئی تک کرونا کی وجہ جہاز رکا رہا ،چھ مرتبہ کامیاب پروازیں مکمل کی تھیں ،ایک شارجہ اور پانچ پراوزیں اندرون ملک کیں ،پائلٹ اور معاون پائلٹ تندرست تھے ،پائلٹ نے فائنل اپروچ پر کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی ،رن وے سے دوہزار فٹ پہ ہونا چاہئے تھا جہاز سات ہزار220 فٹ کی بلندی پر تھا ،وائس ریکارڈر میں موجود ایئر کنٹرولر نے پائلٹ کو کہا آپ اونچی اڑان پر ہیں ایک چکر لگا کر آئیں،دس نائیٹکل میلز پر لینڈنگ گئیر کھولے گئے پھر5ناٹیکل پر بند کرلئے گئے۔ لینڈنگ گیر کے بغیر جہاز تین بار جمپ لیتا ہے رن وے پر رگڑے کھاتا رہا،پھر جہاز کو اڑا لیا ، کنٹرول ٹاور کی بھی غلطی ہے پائلٹ کو نہیں بتایا،یہ سب کچھ ویڈیوز میں موجود ہے ،جب اس نے اڑنے کی کوشش کی تو دونوں آگ پکڑ چکے تھے،جس سے جہاز آبادی پر گر گیا ۔انہوں نے کہا کہ تین منزلوں پر سیٹ بیلٹ باندھے ایک مسافرتین منزل تک تین بار بچنے والا گیند کی طرح اچھلتا رہااور سب سے پہلے انہوں نے پہلی کال ماں کو کی کہ اس کی وجہ سے بچا۔اس حادثہ میں کوتاہی کنٹرول ٹاور کی بھی تھی۔ جہاز جب دوبارہ ٹیک اور کیا تو انجن میں خرابی پیدا ہوچکی تھی جن لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں وہ جہاز کے گرنے کے بعد ہوئیں ، پائلٹ اور کنٹرولر دونوں نے مروجہ طریقہ کار کو مد نظر نہیں رکھا، پائلٹ کی آخری آواز یااللہ یا اللہ یااللہ کی تھی اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ دونوں پائلٹ فوکس نہ تھے انکی ساری گفتگو کورونا پر تھی،کنٹرول نے تین بار کہا کہ لینڈنگ کے لیے اونچائی زیادہ ہے تو پائلٹ نے جلدی میں جواب دیا کہ سنبھال لیں گے اور پھر کورونا سے متعلق بات شروع کر دی گئی۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اب احتساب بھی شروع کر دیا گیا ہے جعلی ڈگری ہولڈرز پائلٹ کیخلاف انکوائری شروع کی جا چکی ہے اور 9 پائلٹ نے اپنا جرم قبول بھی کر لیا ہے لیکن یہ بات اٹل ہے ہم معاف کسی صورت نہیں کر سکتے۔اس معاملے کو سیاست زدہ نہیں کریں گے ،بدقسمتی سے جعلی ڈگریاں چار پائلٹس کی نکلی تھیں،سیاستدان، سرکاری اداروں میں بہت سے اداروں میں جعلی ڈگریوں کے کیس آئے ،پاکستان میں ایل ٹی وی اور ایچ ٹی وی لائسنس کے لیے کسی امتحان کی ضرورت نہین، صرف پیسے سے لائسنس مل جاتا ہے ۔ کتنے بس حادثے ہوئے، آج تک کسی ڈرائیوز کو سزا نہیں ہوئی اگر کسی کے

خلاف مقدمہ چلے تو وہ بری بھی ہوجاتا ہے ،غلام سرور نے کہا کہ پاکستان میں 860 پائلٹس ہیں جن میں 262 پائلٹس کی ڈگریاں جعلی تھیں،ہم دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہیں کہ چالیس فیصد پائلٹس کی ڈگریاں جعلی ہیں،ہم نے کارروائی شروع کردی ہے،54 میں 28 کو اظہار وجوہ کا نوٹس دیا گیا،پچاس سالہ زندگی میں کسی ڈرائیور کو سزا ہوتی نہیں سنا ،جو پائلٹ کئی سو جانوں کو لیکر اْڑتا ہے وہ کولیفائی نہیں ،اْسکا لائنسز بھی جعلی ہے ،کل آٹھ سو ساٹھ پائلٹ ہیں ۔ اداروں میں میرٹ کی دھجیاں اْڑائیں گئیں ،آٹھ سو ساٹھ میں سے دو سو باسٹھ نے امتحانات خود کلئیر نہیں کیے ،پہلے فیز میں چون کیسز میں سے اٹھائیس لوگوں کو نوٹسز دئیے ،اٹھارہ لوگوں کی پرسنل ہیرنگ کی ،9 لوگوں نے غلطی تسلیم کرلی اور کہا کہ ہمیں معاف کردیں ،ہم کسی کو معاف نہیں کریں گے سیاسی بنیادوں پر کوئی کام نہیں ہوگا ،اْن لوگوں کے خلاف ایکشن ہوگا اور بھرپور ہوگا ،غلام سرور نے کہا کہ ہم نے پی آئی اے کی نجکاری نہیں بلکہ اس کا ازسرنو بڑھائینگے اور اسے انہیں سنہری ادوار میں واپس لے کر جائینگے جہاں ایمریٹس و دیگر کو سکھایا ،ان تمام حادثات کی مکمل رپورٹ اس ایوان میں پیش کرینگے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎