Android AppiOS App

حکمران نہ آئین ،نہ کسی اصول اور نہ ہی کسی تہذیب کو مانتے ہیں،ہر چیز توڑ پھوڑ دینا چاہتے ہیں‘ آصف زرداری کا طویل عرصے بعد دھماکہ خیز بیان،حکومتی صفوں میں کھلبلی مچ گئی

  منگل‬‮ 23 جون‬‮ 2020  |  17:22

سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پنجاب میں جیالے متحد رہیں جلد اچھا وقت آنے والا ہے ،مقدمات کا کوئی خوف نہیں، پہلے بھی عدالتوں میں مقابلہ کیا اب بھی کریں گے،موجودہ حالات میں حکومت نے لوگوں کے لئے کچھ نہیں کیا تو خوفناک صورتحال جنم لے سکتی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم نے وفاق کو جوڑا،

این ایف سی ایوارڈ نے اس اورمضبوط کیا،حکمران نہ آئین ،نہ کسی اصول اور نہ ہی کسی تہذیب کو مانتے ہیں بلکہ ہر چیز توڑ پھوڑ دینا چاہتے ہیں اگر اختر مینگل سے بات کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں موجود ہیں،پیپلز پارٹی آج بھی بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔ان خیالات کا

اظہار انہوں نے پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ اور جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد سے ٹیلیفونک رابطے میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔آصف علی زرداری نے پنجاب کی قیادت سے تازہ ترین صورتحال اور پارٹی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 2008 کے عالمی بحران میں کسانوں اور مزدوروں کو سپورٹ کیا،کسانوں اور محنت کشوں کیلئے سپورٹ پروگرامز سے ملکی معیشت واپس آئی۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے وفاقی حکومت صوبوں کو مضبوط بنانے کی بجائے انہیں مزید کمزور کررہی ہے ،وفاق میں بیٹھے لوگ سیاسی ادراک نہیں رکھتے، ہر بحران کو مزید گہرا کر دیتے ہیں ۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ میں نے ٹڈی دل کی سال پہلے وارننگ دی تھی لیکن ان کو سمجھ ہی نہیں آئی تھی، سیلابوں کے باوجود ہم نے

خوراک کی کمی نہیں ہونے دی۔ آج خوراک کی شدید قلت کا خطرہ ہے،ہم گندم،چینی اور کپاس کو برآمد کر رہے تھے یہ درآمد کر رہے ہیں،ٹڈی دل سے کسان کو اور ملک کو جو نقصان ہوگا وہ کئی سالوں تک پورا نہیں ہوسکے گا۔آصف علی زرداری نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم نے وفاق کو جوڑا، این ایف سی ایوارڈ نے اس اورمضبوط کیا،حکمران نہ آئین ،نہ کسی اصول اور نہ ہی کسی تہذیب کو مانتے ہیں بلکہ ہر چیز توڑ پھوڑ دینا چاہتے ہیں۔آصف علی زرداری نے کہاکہ میں نے کوئی ذاتی جرم نہیں کیا تھا لیکن میں نے بلوچستان سے معافی مانگی تھی ۔

میں سمجھتا تھا ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں واپس لانا میری ذمہ داری ہے،2008 کے انتخابات میں بلوچستان کی تمام قوم پرست جماعتوں نے

بائیکاٹ کیا تھا،ہماری کوششوں سے 2013 کے انتخابات میں بلوچستان کی تمام جماعتیں قومی دھارے میں واپس آئیں۔انہوں نے کہاکہ آج اگر اختر مینگل سے بات کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں موجود ہیں،پیپلز پارٹی آج بھی بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے ،شرط یہ ہے کہ بلوچ نوجوان مسلح جدوجہد کو ترک کر کے سیاسی جدوجہد میں واپس آئیں،ریاست کو بھی بلوچستان میں اب زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے ، اگر اکبربگٹی جیسا کوئی دوسرا واقعہ ہوگیا تو حالات کو سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎