Android AppiOS App

کراچی کی تاریخ میں پہلی بار بڑا فضائی حادثہ، ملکی تاریخ میں اس سے قبل بدترین فضائی حادثے اور ان میں ہونے والی اموات، پاکستان کی تاریخ میں کتنے حادثے ہو چکے ہیں؟

  ہفتہ‬‮ 23 مئی‬‮‬‮ 2020  |  7:13

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں 22 مئی کی سہ پہر کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے آنے والا پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جو کراچی میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑا حادثہ تھا۔لاہور سے کراچی آنے والا طیارہ پی کے 8303 کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترنے سے کچھ

منٹ قبل ہی تکنیکی خرابی کے باعث قریبی آبادی میں گر گر تباہ ہوا۔ ابتدائی رپوٹس کے مطابق طیارے میں 90 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے جن میں کم عمر بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔طیارے میں سوار افراد میں سے کچھ کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حادثے میں کتنے افراد جاں بحق ہوئے۔اگرچہ

مذکورہ حادثے سے قبل بھی کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں کے قریب فضائی حادثات رونما ہوچکے ہیں، تاہم بد قسمتی سے 22 مئی کی سہ پہر ہونے والا حادثہ اب تک کا کراچی میں ہونے والا بڑا اور بدترین حادثہ سمجھا جا رہا ہے۔اس حادثے سے قبل اگرچہ کراچی سے اڑان بھر کر دوسرے شہروں کے لیے روانہ ہونے والے طیارے پہلے بھی تباہ ہوچکے ہیں، تاہم پہلی بار دوسرے شہروں سے

کراچی والی پرواز لینڈنگ سے کچھ منٹ قبل ہی گر کر تباہ ہوئی۔ملکی تاریخ کا سب سے بدترین فضائی حادثہ ایک دہائی قبل جولائی 2010 میں دارالحکومت اسلام آباد کے قریب مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں طیارے کے گرنے سے پیش آیا تھا۔جولائی 2010 میں کراچی سے ہی اسلام آباد کے لیے جانے والے نجی ائیر لائن اییئر بلو کا طیارہ اے 321 مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں کر تباہ ہوگیا تھاجس سے 152 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔اس بدقسمت طیارے نے بھی اگرچہ کراچی سے اڑان بھری تھی تاہم اس کے ساتھ حادثہ کراچی کی حدود میں پیش نہیں آیااسی طرح ملکی تاریخ کے دوسرے بڑے فضائی حادثے میں تباہ ہونے والے بدقسمت طیارے نے بھی کراچی سے اسلام کیلئے اڑان بھری تھی اور وہ بھی اسلام آباد کی حدود میں کر گر تباہ ہوگیا تھا۔ ملکی تاریخ کا دوسرا بڑا فضائی حادثہ بھوجا ایئر کے 2012 میں ہونے والے حادثے کو سمجھا جاتا ہے جس میں 121 مسافر اور عملے کے چھ ارکان جاں بحق ہو گئے تھے۔بھوجا ایئر کا طیارہ بوئنگ 737 کراچی سے اسلام آباد روانہ ہوا تھا مگر وہ بھی مارگلہ پہاڑوں کے قریب حادثے کا شکار ہوا اسی طرح اگرچہ

ملک کی 74 سالہ تاریخ میں اور بھی بڑے فضائی حادثے پیش آ چکے ہیں مگر یہ 22 مئی کو پہلی بار کراچی میں بڑا فضائی حادثہ پیش آیا۔ 22 مئی کی سہ پہر کو طیارے کے گر کر تباہ ہونے کے فوری بعد امدادی کارروائیاں فراہم کرنے والے ادارے

جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے اور انہوں نے امدادی سرگرمیاں شروع کردی تھیں۔پاکستان کی تاریخ میں اب تک تیرہ فضائی حادثے ہوچکے ہیں جن میں تقریبا875افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی بھی ہوئے۔تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کی تاریخ کا گیارہواں بڑا حادثہ، اب تک مجموعی طور پر تیرہ جہاز منزل پر نہ اتر سکے، اہم شخصیت سمیت 875 افراد اپنے پیاروں سے جدا ہو گئے۔20مئی1965کو پی آئی اے کا طیارہ قاہرہ ائیرپورٹ پر دوران لینڈنگ تباہ ہونے سے 124 افراد جاں بحق ہوئے، اگست1970 میں راولپنڈی کے قریب روات میں فوکر طیارہ گرنے سے 30 جبکہ دوسال بعد 8 دسمبر 1972ء کو راولپنڈی کے قریب فوکر گرنے سے 26 مسافر جاں بحق ہوئے۔نومبر1979ء کو حاجیوں کو واپس لاتے پی آئی اے کا طیارہ طائف جبکہ اکتوبر1986 کو پشاور کے قریب فوکر تباہ ہوا دونوں حادثات میں 200 کے قریب افراد جاں بحق ہوئے،اگست1989 کو پی آئی اے کا فوکر طیارہ گلگت کے قریب پہاڑوں میں لاپتہ ہوا، آج تک ملبہ ملا نہ ہی لاشیں ملیں، ستمبر1992 کو پی آئی اے کا طیارہ کھٹمنڈو میں پہاڑوں سے ٹکرا گیا، 155 مسافر جاں بحق اور جولائی 2006 کو پی آئی اے کا

فوکر طیارہ ملتان کے قریب تباہ ہواجس میں 41مسافر جاں بحق ہوئے۔جولائی 2010 میں ایئر بلیو کی پرواز اسلام آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا گئی،152افراد جاں بحق ہوئے دو سال بعد اپریل2012 کو بھوجاائیرلائن کا طیارہ اسلام آباد کے علاقہ لوئی بھیر کے قریب گر کر تباہ ہوا اور127جاں بحق ہوئے۔نومبر 2010 کو چھوٹا طیارہ کراچی کے قریب گر کر تباہ ہونے سے 12 افراد جبکہ ہری پور کے علاقہ حویلیاں میں دسمبر2016 طیارہ گر نے 48 افراد جاں بحق ہوئے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎