Android AppiOS App

’ شادی اس سے کروں گی جو مجھے باپردہ رکھے گا‘

  جمعرات‬‮ 13 فروری‬‮ 2020  |  18:59

ایک گاؤں میں ایک باپردہ خاتون رہتی تھیں جن کی ڈیمانڈ تھی کہ شادی اس سے کریں گی جو انہیں باپردہ رکھے گا،وہ بولتی ہے کہ تم ساتھ والے کمرے میں چھپ جاؤ میں تمہیں پردے اور بے پردگی کا فرق سمجھاتی ہوں،ایک گاؤں میں ایک باپردہ خاتون رہتی تھیں جن کی ڈیمانڈ تھی کہ شادی اس سے کریں گی جو انہیں باپردہ رکھے گاایک نوجوان اس شرط پر نکاح کے لیے رضامند ہوجاتا ہے، دونوں کی شادی ہوجاتی ہے ۔ وقت گذرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک بیٹا ہوجاتا ہے ۔ ایک دن شوہر کہتا ہے کہ میں سارا

دن کھیتوں میں کام کرتا ہوں ۔ کھانے کے لیے مجھے گھر آنا پڑتا ہے جس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے تم مجھے کھانا کھیتوں

میں پہنچادیا کرو ،بیوی راضی ہوجاتی ہے ۔۔وقت گذرتے گذرتے ایک اور بیٹا ہوجاتا ہے جس پر شوہر کہتا ہے کہ اب گذارا مشکل ہے تمہیں میرے ساتھ کھیتوں میں ہاتھ بٹانا پڑے گا ،یوں وہ باپردگی سے نیم پردے تک پہنچ جاتی ہے ،اور تیسرے بیٹے کی پیدائش پر اس کا شوہر مکمل بے پردگی تک لے آتا ہےوقت گذرتا رہتا ہے یہاں تک اولاد جوان ہوجاتی ہے،ایک دن یونہی بیٹھے بیٹھے شوہر ہسنے لگتا ہے،بیوی سبب پوچھتی ہےتو کہتا ہے کہ بڑا تو پردہ پردہ کرتی تھی آخر کار تیرا پردہ ختم ہوگیا ۔۔ کیا فرق پڑا پردے اور بے پردگی کا زندگی تو اب بھی ویسے ہی گذر رہی ہےوہ بولتی ہے کہ تم ساتھ والے کمرے میں چھپ جاؤ میں تمہیں پردے اور بے پردگی کا فرق سمجھاتی ہوںشوہر کمرے میں چھپ جاتا ہے،

عورت اپنے بال بکھیرے رونا پیٹنا شروع کردیتی ہےپہلے بڑا بیٹا آتا ہے ۔ رونے کا سبب پوچھتا ہے ،کہتی ہے تیرے باپ نے مارا ہے ،بڑا بیٹا ماں کو سمجھاتا ہے کہ اگر مارا ہے تو کوئی بات نہیں وہ آپ سے محبت بھی تو کرتے ہیں آپ کا خیال رکھتے ہیں ۔وہ سمجھا بجھا کر چلا جاتا ہے،عورت پھر سے رونے کی ایکٹنگ کرتی ہے اور منجھلے بیٹے کو بلا کر بتاتی ہے کہ تیرے باپ نے مجھے مارا،منجھلا بیٹا کو غصہ آتا ہے وہ باپ کو برا بھلا کہتے ہوئے ماں کو سمجھا بجھا کر چپ کروا کر چلا جاتا ہےآخر کار عورت یہی ڈرامہ چھوٹے بیٹے کے سامنے کرتی ہے چھوٹا بیٹا تو غصہ سے آگ بگولہ ہوجاتا ہے اور زور زور سے گالیاں بکتے ہوئے ڈنڈا اٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ ابھی باپ کی خبر لیتا ہوں پھر عورت شوہر کو بلا کر بولتی ہےکہ پہلا میرے پردے کے وقت پیدا ہوا، تو اس نے تیرا پردہ رکھا،دوسرا نیم پردے کے زمانے میں پیدا ہوا ،تو تیری آدھی لاج رکھ لی ،جبکہ تیسرا جو مکمل بے پردگی کے زمانے میں ہوا تو وہ مکمل طور پر تیرا عزت کا پردہ اتارنے گیا ہے۔۔حاصل کلام:پردہ عورت کا فطری تقاضا ہےجو خالق مرد وزن کی طرف سے قاعدہ بھی ہے ۔۔

جس کی بے شمار حکمتیں خالق ہی جانتا ہے اور یہ دنیاوی قاعدہ بھی ہے کہ اگر آپ کسی مشین کو چلانے کے لیے کمپنی کی ہدایات چھوڑ کر عقل سے چلانے کی کوشش کریں گے تو مشین کی بربادی یقینی ہےیہی وجہ ہے کہ جو لوگ (مغربی دنیا) یہ تجربہ (عورت کی آزادی) کرچکے ہیں ؟ ان کے معاشرے میں ماں بہن بیوی بیٹی کو کیا مقام حاصل ہےوہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ؟ اور پھر وہاں کی اولادیں اپنے والدین کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اور مشرقی معاشرے میں آج بھی ماں بہن بیوی بیٹی کو کیا مقام حاصل ہے ؟اور ہمارے معاشرے میں عورت کس قدر محفوظ ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیںاور جس قدر ماں باپ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کرتے ہیں اسی قدر بچوں سے خدمت کا لطف اٹھاتے رہتے ہیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎