Android AppiOS App

”اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والے سعودی عرب نہیں آسکتے“سعودی عرب کا دوٹوک بیان

  منگل‬‮ 28 جنوری‬‮ 2020  |  18:59

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ اسرائیلی پاسپورٹ کے حامل افراد کو سعودیہ میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا. سعودی نشریاتی ادارے کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری پالیسی طے شدہ ہے،ہمارے ریاست اسرائیل سے تعلقات استوار نہیں ہیں اور موجودہ صورت حال میں اسرائیلی

پاسپورٹ کے حاملین مملکت میں نہیں آسکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ جب فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن معاہدہ طے پاجائے گا تو میرے خیال میں اسرائیل کو خطے کے امور میں شریک کار کرنے کا معاملہ بھی زیرغور آئے گا.ان کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی اسرائیل نے مذہبی اور کاروباری مقاصد کے لیے اپنے شہریوں کو سرکاری طور پر سعودی عرب جانے کی اجازت دینے کا اعلان کیا

تھا.اسرائیلی وزیر داخلہ الریح دیری نے اتوار کو اپنے شہریوں کے سعودی عرب جانے کے لیے حکم نامے پر دستخط کردیے تھے ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس اقدام کی سکیورٹی اور سفارتی خدمات کے محکموں کے ساتھ رابطے کے ذریعے منظوری دی گئی ہے اب مسلمان عازمین حج وعمرہ کو مذہبی مقاصد کے لیے سعودی عرب جانے کی اجازت ہوگی.بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسرائیل اپنے دوسرے شہریوں کو بھی کاروباری اجلاسوں میں شرکت یا سرمایہ کاری کے مقاصد کے لیے نوے روز تک سعودی عرب میں جانے کی اجازت دے گا.تاہم وزارت داخلہ نے وضاحت کی تھی کہ تجارتی ویزے پر سفر کرنے والوں کے پاس سعودی عرب میں داخلے کے لیے وہاں کے کسی سرکاری ذریعے کا جاری کردہ دعوت نامہ ہونا چاہیے. واضح رہے کہ اس وقت اسرائیل کے صرف دو عرب ممالک اردن اور مصر کے ساتھ الگ الگ امن معاہدوں کے تحت سفارتی تعلقات استوار ہیں لیکن اس کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر قبضے کی وجہ سے باقی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات استوار نہیں ہیں اور وہ اس سے 1967کی جنگ سے قبل کی سرحدوں میں واپس جانے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں. دریں اثناامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاس طویل عرصے سے التوا کا شکار اپنے مشرقِ وسطی امن منصوبے کا آج اعلان کرے گا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎