Android AppiOS App

خادم رضوی کا فلم ’’زندگی تماشا‘‘کی نمائش ملتوی کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم، قوم کو کیسے ڈرامے دکھانے کا مشورہ دیدیا؟

  جمعرات‬‮ 23 جنوری‬‮ 2020  |  18:24

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم رضوی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے فلم "زندگی تماشا" کی نمائش ملتوی کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں ،ٹی ایل پی فلم سینسر بورڈ کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جس نے ایک بہت حساس مذہبی معاملے کو سنجیدہ لیتے ہوئے ایکشن لیا،فلم سینسر بورڈ نے بروقت کاروائی

کی اور فلم کی رونمائی کو روکتے ہوئے اپنے نوٹیفکیشن میں بڑے واضح انداز میں کہا ہے کہ اس فلم کے بارے میں مذہبی حلقوں میں بہت تشویش پائی جاتی ہے اور فلم کی رونمائی ملکی امن وامان کی موجودہ صورتحال کی خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم رضوی نے مزیدکہا ہے کہ آج کل میڈیا کا دور ہے اور ہر

شخص اس نیٹ ورک سے وابستہ ہے لہذا آنے والے وقت میں اگر کوئی اسلامی اقدار یا مذہبی معاملات پر کام کرنا چاہتا ہے کہ جس سے نوجوان نسل اسلام کا تشخص سمجھے اور جو معاشرے میں اصلاح کے پاسبان ہوں جس کی ایک مثال ترک ڈرامہ سیریل ارتغل غازی ہے تو اسکے لئے کوئی ایسا بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں علمائے کرام موجود ہوں۔ کیوں کہ ہر شعبے میں انکے ماہرین سے مشاورت کی جاتی ہے جبکہ مذہبی معاملات انتہائی حساس ہوتے ہیں ایسے معاملات میں اگر ڈراموں یا فلموں کی ترویج کے حوالے سے کام کرنے کی ضرورت پیش آئے بھی تو تمام مسالک کے علماء موجود ہیں ان کی خدمات حاصل کی جائیں اور

تاریخ اسلام کے روشن باب کے حوالے سے موجودہ دور کی طاقت یعنی میڈیا کو اچھے انداز میں استعمال کرکے انکو واضح کیا جائے۔ تاکہ میڈیا کے ذریعے لوگوں میں اسلام اور پاکستان سے محبت بڑھے ناکہ وہ ایسے اداکاروں کے پیروکار بنیں جنکے کردار پر کلام کرنے پر بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ فلم زندگی تماشا کی نمائش میں اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ فلم پروڈیوسر نے بتایا کہ اس نے اپنی فلم سنسر بورڈ سے کلئیر کروالی ہے حالانکہ دی موشن پکچرز آرڈیننس 1979 جو کہ 3 ستمبر 1979 کو جاری کیا گیا اس آرڈیننس کے باب 2 کی شق نمبر 6 میں یہ بات واضح طور پر موجود ہے کہ کسی بھی ایسی فلم کو تشہیر کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا جاسکتا کہ جس کی عکاسی (کوئی ایک حصہ یا مکمل حصہ یا فلم) اسلام کی شان و شوکت کے خلاف ہوں یا پاکستان کے دفاع کے بارے

میں متعصبانہ رائے ہموار کرے۔تو ایسی صورت میں ایک اہم ترین سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا واقعی اس نے سرٹیفیکٹ حاصل کیا ہے؟ اگر ہاں تو اس فلم میں موجود اسلام مخالف کنٹینٹ کس نے کلیئر کیے؟ اور اگر نہیں تو آئین پاکستان کے اس قانون کے تحت یہ فلم تو بنیادی طور پر ہی غیر قانونی ہے جس پر ذمہ داران کے خلاف سخت ایکشن اور قانونی کاروائی کی ضرورت ہے۔ٹی ایل پی وطن عزیز پاکستان اور بیرون ملک رہنے والے ہر اس شخص کا شکریہ ادا کرتی ہے جس نے اس اہم معاملے میں اسلام کا ساتھ دیتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎