Android AppiOS App

سرمد کھوسٹ کی آس امیدیں دم توڑ گئیں ، حکومت نے فلم ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز روک دی ، وجہ بھی سامنے آگئی

  بدھ‬‮ 22 جنوری‬‮ 2020  |  18:32

وفاقی حکومت نے فلم ساز سرمد کھوسٹ کی آنے والی فلم ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز کو روکتے ہوئے فلم کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے رابطہ کرنے کا اعلان کردیا۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے ٹوئٹ میں بتایا کہ ’مرکزی فلم سنسر بورڈ نے ‘‘زندگی

تماشا’’ کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے فوری طور پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ فلم بورڈ کی جانب سے فلم کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد ’زندگی تماشا‘ کے پروڈیوسر کو فلم کو ریلیز نہ کرنے کی ہدایات بھی جاری کردی گئیں۔فردوس عاشق اعوان کے مطابق ’زندگی تماشا‘ کی ٹیم کو فی الحال فلم کی ریلیز مؤخر کرنیکی ہدایات جاری

کی گئی ہیں۔انہوں نیٹوئٹ میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ فلم سینسر بورڈ اور اسلامی نظریاتی کونسل کب تک ’زندگی تماشا‘ کا تنقیدی جائرہ لیں گے تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ فی الحال سرمد کھوسٹ کی فلم کو ریلیز نہ کرنے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔وفاقی فلم سینسر بورڈ سے قبل صوبہ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے بھی ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز کو روک دیا تھا۔وفاقی فلم سینسر بورڈز اور دونوں صوبائی فلم سینسر بورڈز کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے روز آیا ہے جب کہ سرمد کھوسٹ نے اپنی فلم کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور اسے روکنے کے خلاف تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے خلاف لاہور کی سول کورٹ میں درخواست دائر کی۔سرمد کھوسٹ نے لاہور کی سول کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں عدالت کو بتایا کہ تحریک لبیک پاکستان نے ان کی فلم کی ریلیز روکنے کی کال دے دی ہے اور مذکورہ تنظیم کے کارکنان ان کے خلاف مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں۔

فلم ساز نے عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں یہ بھی کہا تھا کہ انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ان کی فلم پر غلط الزامات لگائے جا رہے ہیں جب کہ ان کی فلم کسی بھی انفرادی شخص یا کسی بھی تنظیم یا فرقے کے خلاف نہیں ہے بلکہ ان کی فلم معاشرے کو بہتر بنانے کے موضوع پر بنائی گئی ہے، دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے فلم ساز سرمد کھوسٹ کی آنے والی فلم ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز روکے جانے کے بعد مذہبی تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے فلم کے خلاف مظاہروں کی

کال واپس لے لی۔تحریک لبیک پاکستان نے ’زندگی تماشا‘ کے خلاف فلم کی ریلیز سے ایک دن قبل 23 جنوری کو ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ٹی ایل پی نے ’زندگی تماشا‘ فلم کے خلاف مظاہروں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت یقینی بنانے کے لیے پمفلیٹ بھی تقسیم کیے تھے۔تاہم اب تحریک لبیک پاکستان نے فلم کو ریلیز سے روکے جانے کے بعد فلم کے خلاف مظاہروں کی کال واپس لے لی۔’زندگی تماشا‘ کی ریلیز ابتدائی طور پر پنجاب فلم سینسر بورڈ نے روکی تھی اور بعد ازاں سندھ فلم سینسر بورڈ نے بھی فلم کی ریلیز کو روک دیا تھا۔دونوں صوبائی فلم سینسر بورڈز کے بعد وفاقی فلم سینسر بورڈ نے بھی ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز کو روکتے ہوئے فلم کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎