Android AppiOS App

یوکرینی طیارے کی تباہی ،ایران کیخلاف کارروائی کیلئے متاثرہ ممالک نے بڑا قدم اٹھا لیا

  منگل‬‮ 14 جنوری‬‮ 2020  |  18:09

ایران کے خلاف قانونی کاروائی اور دیگر اقدامات کے لیے یوکرین اور کینیڈا سمیت دیگر پانچ ممالک نے 16جنوری کوکو لندن میں اہم اجلاس طلب کرلیا ہے جن کے شہری یوکرینی طیارے واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے ۔ یوکرین کے وزیر خارجہ نے بتایا ہے کہ جمعرات کو لندن میں اہم اجلاس میں شرکت کریں گے جس میں ایران کی جانب سے مسافر طیارے کو نشانہ بنانے پر اس کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کیا جائے گا.ان پانچ ممالک میں کینیڈا بھی شامل ہے جس کے 57 شہری ہلاک ہوئے، جن میں طلبہ اور ماہرین تعلیم

شامل تھے، جو چھٹیوں کے بعد واپس کینیڈا جا رہے تھے ،برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ اگر خطے میں

کوئی کشیدگی نہ ہوتی تو طیارے میں سوار افراد اب زندہ اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھروں میں ہوتے ،کینیڈا کے ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے کہا ہے کہ ایران نے ایجنسی کو تحقیق میں سرگرم کردار ادا کرنے کی اجازت دی ہے جس کے بعد کینیڈا کے دو ماہرین طیارے کے کاک پٹ میں نصب بلیک باکس میں ریکارڈ آوازوں اور ڈیٹا ریکارڈرز کے تجزیے کے لیے تہران جا رہے ہیں.دوسری جانب ایران کی جانب سے یوکرینی مسافر طیارے کو مار گرائے جانے کے اعتراف کے بعد ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، مظاہرین طیارے کے واقعے میں ملوث اعلی حکام کی برطرفی اور ان کے احتساب کا مطالبہ کر رہے تھے،ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملک میں آزاد میڈیا پر پابندی کے باعث مظاہروں کی درست منظر کشی کرنا مشکل کام ہے ۔ تاہم سوشل میڈیا پر جاری تصویروں اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دراالحکومت تہران اور جنوبی شہر اصفہان کی جامعات کے سینکڑوں طلبہ اور دیگر شہری مختلف مقامات پر حکومت

مخالف مظاہروں میں شریک ہیں احتجاج کے دوران تہران اور اصفہان کی جامعات کے باہر انسداد شورش پولیس کو سڑکوں پر پوزیشن لیے دیکھا جا سکتا ہے۔ گذشتہ دو روز کے دوران مظاہروں کے دوران لی گئیں تصاویر میں خون میں لت پت زخمی افراد کو زمین سے اٹھا کر کہیں منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیوز میں بھی گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔ تاہم پولیس کی جانب سے مظاہروں کے دوران فائرنگ کے کسی بھی واقعے کی تردید کی گئی ہے.3جنوری کو امریکی حملے میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم

سلیمانی کی ہلاکت کے ردعمل میں ایران نے 8 جنوری کو عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے بعد تہران کے امام خمینی ہوائی اڈے سے اڑنے والے ایک یوکرینی طیارے کو غلطی سے مار گرایا تھا، جس میں عملے کے ارکان سمیت تمام 176 مسافر ہلاک ہوئے تھے. ایرانی حکام پہلے پہل واقعے کو حادثہ قرار دیتے رہے تاہم عالمی دبائو پر تسلیم کیا کہ اس نے غیر ارادی طور پرغلطی سے طیارے کو امریکی کروز میزائل سمجھ کر نشانہ بنایا تھاایرانی حکومت کے اعتراف کے بعد ملک میں ہزاروں مظاہرین اعلی عہدے داروں کی برطرفی اور ان کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے سٹرکوں پر نکل آئے۔اطلاعات کے مطابق ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اور مظاہرین کے علاوہ برطانوی سفیر کو بھی گرفتار کر لیا تھا تاہم انھیں بعد میں رہا کر دیا گیا.

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎