Android AppiOS App

ملاعمر کی کراچی میں انتقال کی خبر جھوٹی ،ان کی وفات کہاں ہوئی اور انہیں کہاں دفنایا گیا تھا؟ اپنے گھر میں 12سال پناہ دینے والے طالبان رہنما کے اہم انکشافات

  پیر‬‮ 13 جنوری‬‮ 2020  |  20:33

افغان طالبان کے ایک سینئر رہنما ملاعبد الجبار عمری، جس نے تحریک کے بانی ملا محمد عمر کو ان کی وفات تک تقریبأ 12 سال تک اپنے گھر میں پناہ دی تھی،نے کہا ہے کہ ان کے گھر پر غیر ملکی اور افغان فورسز نے 10 چھاپے مارے تھے تاہم ملا عمر گرفتاری سے بچ گئے تھے۔ ملا جبار، جو کہ طالبان کی حکومت

میں شمالی صوبے بغلان کے گورنر اور طالبان کے ایک اہم فوجی کمانڈر تھے کا کہنا ہے کہ ملا عمر اور چند اور لوگوں کے ساتھ غیر ملکی افواج کے کندھار پر حملوں کے بعد وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور اپریل 2013 میں وفات تک جنوبی صوبہ زابل کے عمرزو گاوں میں اس کے گھرمیں موجود رہے۔ طالبان نے 2015

میں ملا عمر کی وفات کی تصدیق کی تھی لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ کہاں اور کیسے فوت ہوئے تھے۔ افغان خفیہ ادارے ’’این ڈی ایس ‘‘کے اہلکاروں نے اس وقت دعوی ٰکیا تھا کہ طالبان کے بانی کراچی کی ایک ہسپتال میں علاج کے دوران وفات پا گئے تھے لیکن ملا جبار عمری نے ایک پشتو اڈیو میں کہا ہے کہ ملا عمر12 سال تک صوبہ زابل میں ان کے گھرمیں موجود رہے اور کبھی اس گھر سے باہر نہیں گئے تھے۔ طالبان کے دو رہنمائوں نے اڈیو میں ملا جبار کے اوازکی تصدیق کی ہے۔ ملا جبار نے ملا عمرکو اپنے گھر میں پناہ اور ان کی موت تک کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ دسمبر 2001میں کندھار پر امریکی حملوں کے بعد میں اور چند اور طالبان کندھار سے نکل کر جنوبی صوبے زابل کے عمرزو گائوں میں میرے گھر آئے اور میں نے ملا عمر کیلئے ایک خصوصی کمرہ بنایا تھا اور 12 سال تک وہ گھر سے باہر نہیں گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ

میرے گھر پر 10 چھاپے مارے گئے تاہم ملا عمر گرفتاری سے بچ گئے تھے۔ ایک مرتبہ چھاپہ مار ٹیم ملا عمر کے کمرے سے تقریبأ ادھ میٹر دور تھے لیکن پھر بھی وہ ملا عمر تک نہیں پہنچ سکے۔ ملا عمر پشتو ریڈیو سنتتے تھے اور کبھی کبھی خبروں پر تبصرہ بھی کرتے تھے۔ میرے گھر میں پناہ لینے کے بعد ملا صاحب نے اپنا گھر، بیوی اور بچے نہیں دیکھے تھے۔ملا صاحب کے وفات کے 3 دن بعد ان کے بیٹے ملا یعقوب اور بھائی ملا عبد المنان عمرزو گائوں ائے تھے اور ان

کے لئے قبر کھود کر میت دکھائی گئی تھی اور انہوں نے شناخت کی تصدیق کی تھی۔ وہ میت کو دیکھ کر اپنا اطمینان کر چکے تھے۔ 17 دن بعد ملا عمر کی دوبارہ قبر کشائی کرکے ان کی میت کسی مصلحت کی وجہ سے مٹی سے اٹھا کر تابوت میں رکھ کر اسی جگہ دفنا دی تھی۔ ملا جبار نے کہا کہ ملاعمر اکثر قران کی تلاوت، احادیث کے کتابوں کا مطالعہ اور ذکر کرتے تھے۔ میرے دو بیٹے چھوٹے محمد اور عبد اللہ اور بیٹیاں ملا صاحب سے ملتے تھے اور ملا صاحب انہیں کبھی کبھی چاکلیٹ دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 12 سال میں کبھی بھی میرے بچوں نے بھی گھر سے باہر کسی کو نہیں بتایا کہ ہمارے گھر میں ایک سفید ریش مہمان رہائش پذیر ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ کسی نے میرے بچوں کے منہ پر پٹی ڈالی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ملا صاحب کی کئی کرامات تھیں۔ جب کئی عرب ممالک میں عوامی تحریک ’’عرب سپرینگ‘‘یا عرب بہار شروع ہوگئی تھی تو میں نے ملاصاحب سے کہا کہ تحریک تو شام تک پہنچ گئی لیکن انہوں نے مجھے کہا کہ ان کی یہ پیشن گوئی ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت ختم نہیں ہوگی اور اج یہ بات سچی ثابت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان کا قندھار خالی کرنے کے بعد عام طالبان کے گھروں پر امریکی اور ان کے افغان حامیوں کے چھاپے معمول بن گئے تھے اور چونکہ میں گورنر بھی رہ چکا تھا تو میرا گھر طالبان کے ایک مرکز کی طرح تھا۔ ملا عمر ظہر اور عصر کے درمیان وفات پاگئے تھے اور وفات کے بعد میں اور ایک اور شخص نے رات کی تاریکی میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔ میں نے کپڑے خریدنے کے بہانے دکان سے کفن خریدا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملا عمر کی وفات کے 6 دن بعد میں پاکستان چلا گیا اور میںآرام کی زندگی گزارنا چاہتا تھا

لیکن وہاں حالات زیادہ اچھے نہیں اور اس دوران مجھے افغان حکومت کی جانب سے واپسی اور حکومت سے صلح کرنے کے پیغامات ملتے رہے لیکن طالبان کے ایک اہم رہنما ہونے کی وجہ سے میرے لئے یہ ممکن نہیں تھا۔ میں نے ملا عمر سے غداری نہیں کی باوجود اس کے کہ امریکیوں نے ان کے پکڑنے پرلاکھوں ڈالروں کے انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔ پاکستان میں مشکل حالات کی وجہ سے میں واپس افغانستان چلا گیا اور گرفتارہوگیا اور مجھ پر ملا عمر کو پناہ دینے کا الزام لگایا گیا۔ ملا جبار نے کہا کہ میں نے اپنی گرفتاری کے دوران امریکیوں اور افغان حکام کو ملا عمر کو پناہ دینے سے متعلق بتایا دیا ۔ انہوں نے کہا کہ کئی سال حراست میں رہنے کے بعد میری رہائی کے بعد جب میں قبرستان گیا تووہاں کا نقشہ تبدیل ہو گیاتھا کیونکہ وہاں مزید قبریں موجود تھیں۔ ملا جبارنے کہا کہ میں نے قبر صرف ملا صاحب کے بیٹے اور بھائی کو دکھائی تھی اور ہم تینوں کے علاوہ کسی کو اس کے بارے میں نہیں بتایا ۔یادر ہے کہ اس سے پہلے ہالینڈ کی ایک خاتون صحافی بیٹاڈام اور ملا عمر کے سابق ترجمان عبد الحئی مطمئن نے اپنی کتابوں میں کہا تھا کہ ملا عمر افغانستان ہی میں وفات پا گئے تھے اور بیٹا ڈان نے افغان حکومت اور ان کے اداروں کو چیلنج کیا تھا کہ وہ ملا عمر کی کراچی میں گرفتاری کے اپنے دعوے کو ثابت کریں تاہم افغان حکومت اس وقت تک اپنا دعوی ثابت نہیں کر سکی ۔ یادر ہے کہ کئی طالبان رہنمائوں کا خیال ہے کہ طالبان کے سابق سربراہ ملا اختر منصورکو ملا عمر کے ملا جبار کے گھر میں موجودگی کا علم تھا۔ اختر منصور بلوچستان میں مئی 2016 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہو ئے تھے۔ ملا عمر کی زندگی میں طالبان متحد رہے تاہم اختر منصور کے امیر بننے کے بعد کئی اہم رہنمائوں نے ان کی بیعت سے انکار کیا تھا جس میں ایک سبب ملا عمر کی وفات کو چھپانا تھاتاہم طالبان کا کہنا ہے کہ چونکہ افغانستان میں 2013 کے دوران غیر ملکی افواج کے خلاف مسلح مزاحمت زور وشور سے جاری تھی اس لئے اس کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ امریکا کے سابق صدر بارک اوبامہ نے 2014 تک افغانستان سے زیادہ فوجیوں کے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎