Android AppiOS App

ذاتی کاروبار

  منگل‬‮ 21 مئی‬‮‬‮ 2019  |  10:53

کوئی بھی کامیاب نیا کاروبار شروع کرنے کے لیے سب جانتے ہیں کہ انویسٹمنٹ، بزنس پلان اور ایک منفرد آئیڈیہ درکار ہوتے ہیں۔ کوئی ایسا کام تلاش کرنا جو کوئی اور نہ کر رہا ہو۔مگر ان تینوں بنیادی چیزوں کے علاوہ یہ بہت ضروری ہے کہ جو انسان بزنس شروع کر رہا ہے اس کی شخصیت میں یہ دس خوبیاں لازمی طور پر موجود ہوں۔’لیسا مرے ‘نے بزنس نیوز ڈیلی کو بتایا کہ

اس کے لیے سب سے پہلے انسان میں بہت زیادہ توانائی کا ہونا ضروری ہے۔ وہ ہر وقت نت نئے کام کے لیے تیار رہے۔ وہ دن کے کسی بھی وقت میں کام کرنے کو تیار ہو۔رات دن، موسم ، حالات و واقعات اس کے لیے اہم نہیں ہوتے۔ نینسی ایک معروف اور کامیاب

بزنس کوچ ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ دوسری چیز جو ایک انسان میں لازمی ہے وہ ہے اس کا لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا۔ وہ جو بھی بات کرے و ہ لوگوں کی توجہ خود پر مرکوز رکھنا جانتا ہے۔ اس کو اپنی بات منوانے کا گر آتا ہے۔ زیادہ تر بین الاقوامی بزنس صرف ایسے لوگوں نے بہت کامیاب بنا لیے جن میں پراڈکٹ حقیقی طور پر ان کی زندگی کے لیے ضروری نہیں تھے۔ مگر ایک بزنس مین کو خوب اچھی طرح گر آتا ہے کہ

کیسے اپنی بنائی ہوئی پراڈکٹ کی مارکٹنگ کرنی ہے۔ وہ آپ کو قائل کر لیتے ہیں کہ ان کا پراڈکٹ آپ کی زندگی گزارنے میں آسانی پیدا کرتا ہے اور آپ اس کو ایک خواہش کے بجائے اپنی ضرورت سمجھنے لگتے ہیں۔ رابن سیمورہ ایک پی آر کنسلٹنٹ ہے اور اپنی کامیاب فرم کی مالک ہے۔ اس کے مطابق تیسری لازمی خوبی ہے انفرادیت، جدت اور ذہانت۔ جو انسان اپنا ہر مسئلہ دنیا سے ہٹ کر حل کرتا ہے وہ بہت اچھا بزنس مین بن سکتا ہے۔ کچھ لوگ بچپن سے اپنے ہر مسئلے کو باقیوں سے مختلف انداز سے سلجھاتے ہیں۔ وہ دنیا کے پیچھے نہیں چلتے۔ ان کی مختلف سوچ اور جدت پسندی ان کا موذی ہتھیار ہوتا ہے۔ لوگ ان سے متاثر ہو کر ان کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔

جس انسان میں دنیا سے ہٹ کر ہر کام کرنا نظر آتا ہو، وہ با آسانی ایک اچھا کاروبار شروع بھی کر سکتا ہے اور اسے چلا بھی سکتا ہے۔ان کا دماغ ہر وقت خیالات کی آماج گاہ بنا رہتا ہے۔ چوتھی خوبی ہے ناکامی سے سبق حاصل کرنا۔ یہ لوگ کسی صورت ہار نہیں مانتے۔ ان کا خود میں پختہ یقین ہوتا ہے کہ ان کا سب کچھ لٹ پٹ کا برباد ہو جائے تو بھی ان کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نئے سرے سے سب کچھ پھر سے بنا لیں گے۔ یہ لوگ ناکام ہو کر باقی لوگوں سے کم روتے ہیں۔ یہ ناکامی کو بہت موثر استاد سمجھتے ہیں۔ اپنی غلطیاں دہراتے نہیں ہیں۔پانچویں خوبی رسک لینے کی ہے۔ یہ رسک لینے سے ہرگز نہیں ڈرتے۔ کوئی ایسا انسان جو ایک وقت میں سو رسک لے سکتا ہو اور سب گنوا کر بھی حوصلہ نہ ہارے۔

کاروبار میں بہت سی ناگہانی آفات آنا ایک فطری عمل ہے۔ ایسے میں اگر ان کے ہاتھ پیر پھولتے نہیں ہیں تو یہ ایک اچھے بزنس مین کی نشانی ہے۔ ساتویں نشانی ان کا کسی بھی حالت میں اور کسی بھی حادثے سے فائدہ مند مواقع کرید لینا ہے۔ یہ نہ صرف مواقع پہچان لیتے ہیں بلکہ ان کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ آٹھویں نشانی نادیہ نے بیان کی ہے۔ نادیہ نیو یارک کی ایک بہت کامیاب شادی فرم کی مالک ہے۔ نادیہ کے مطابق ان لوگوں میں غلطیوں سے سیکھنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ یہ اپنی ہر خطا بلا تکلف دنیا جہان کے آگے با آسانی مان لیتے ہیں۔ ان کو اپنی غلطی کا اعتراف کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔ان کا رویہ دیکھ کر باقی لوگ ان سے متاثر ہوتے ہیں اور پورا ماحول ایسا بن جاتا ہے کہ

لوگ بناوٹی لیاقت کا اظہار بند کر دیتے ہیں اور ایک دوسرے سے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ یہ معافی مانگنے میں بھی کوئی خار محسوس نہیں کرتے۔اس طرح سب لوگ ایک دوسرے سے سوالات کر کے پوچھتے اور سیکھتے رہتے ہیں۔آئی ٹی ہارویسٹ کے چیف رچرڈ کے مطابق ان کا دماغ چوبیس گھنٹے چلتا رہتا ہے۔ وہ خیالات کی آماج گاہ ہوتا ہے۔ یہ اپنا دماغ بند نہیں کر سکتے۔ ہر بات کو زیادہ سوچتے ہیں۔ ایسے میں جس چیز میں کسی کو کوئی موقع نظر نہیں آتا، یہ ادھر سے بھی اپنے لیے سود مند ذریعہ بنا لیتے ہیں۔نواں اصول جو ان کی شخصیت کا فطری حصہ ہے وہ ان کا جلدی جلدی بات کر کے دوسرے کو فارغ کرنا ہے۔ یہ تیز تیز بولتے ہیں اور دو منٹ میں دس باتیں کر کے جلدی فون بند کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔

یہ عموماً تیز تیز بولتے ہیں اور صرف کام کی بات کرتے ہیں۔ ان میں فطری طور پر بات جلدی ختم کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ یہ بچپن سے یہ سمجھتے ہیں جیسے وقت کے کسی گھوڑے پر سوار ہوں اور اگر جلدی بات مکمل نہ کی تو وقت ضائع ہو جائے گا۔ دسویں خوبی ان کا ہمت نہ ہارنا ہے۔ یہ فائٹر ہوتے ہیں اور میدان چھوڑ کر نہیں بھاگتے۔ یہ گر کر پھر اٹھ بیٹھتے ہیں۔ بہترین بزنس مین وہ ہے جو سب کے گر جانے کے بعد بھی میدان میں اکیلا کھڑا رہے۔ان کی فطرت میں بیک اپ کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔ یہ کبھی حقیقی طور پر اکیلے نہیں ہوتے۔ جب مخالف ان کو مات دے دے تو یہ بیک اپ استعمال کر لیتے ہیں۔ ان کے ہمیشہ سپورٹر موجود رہتے ہیں۔ یہ کبھی کسی ایک انسان یا کمپنی پر پورا تکیہ کر کے نہیں بیٹھتے۔تیاری کر کے واپس میدان میں اترتے ہیں اور بغیر کسی وارننگ کے مخالف کو آلیتے ہیں۔