Android AppiOS App

ایک ماہ کی بچی مبینہ طور پر نیسلے کا دودھ پینے سےچل بسی ،والدین غم سے نڈھال ،والد عدالت گیا تو اس پر کس طرح کے الزامات لگائے گئے؟متاثرہ فیملی انصاف کی منتظر

  جمعرات‬‮ 11 اپریل‬‮ 2019  |  15:06

ایک ماہ کی بچی مبینہ طور پر نیسلے کا دودھ پینے سےچل بسی ،والدین غم سے نڈھال ، تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی بول نیوز میں متاثرہ بچی کے والد عثمان کو بلایا گیا جس میں انہوں نے اپنے اوپر بیتی ساری روداد بیان کی ۔عثمان نے اپنی بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ میری مسز کی طبیعت خراب تھی ۔ ڈاکٹرز نے ریکمنڈ کیا کہ یہ دودھ پلائیں جس کی وجہ سے میں نے مقامی دکان سے نیسلے کا دودھ ’’لیکٹوجن ‘‘خریدا،جب میں نے اسے اپنی بچی کو پلایا تو اس کی حالت خراب ہوگئی ،

میں نے سوچا کہ شاید یہ موسم کی وجہ سے ہے ، میں نے اس بات کو نظر انداز کردیا،اگلی صبح جب میں نے یہ دودھ دوبارہ بچی

کو پلایا تو اس کی حالت مزید بگڑ گئی میں اسے لیکر لاہورجنرل ہسپتال گیا وہاں اس کا علاج ہوتا رہا لیکن بچی بچ نہ سکی۔میرے لئے یہ بڑا مشکل تھا جب میں نے دستاویزات پر دستخط کئے اور میت لیکر گھر آگیا۔یہ میرے لئے بہت بڑا صدمہ تھا مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں؟ تعزیت کیلئے رشتے دار گھر آنا شروع ہوگئے ۔وہیں ایک رشتہ دار نے کہا کہ میرے بچے کو دودھ کی ضرورت ہے یہ میں لے لوں تو میں نے کہا کہ یہ ڈبہ میرے کسی کام کا نہیں ، لیکن جونہی یہ دودھ بچے کو پلایا تو اس کی حالت بھی اسی طرح ہوگئی جس طرح میری بچی کی ہوگئی تھی ۔تو میرے دماغ میں بات آئی کہ شاید یہ دودھ کا مسئلہ ہے ، میں نے آصف صاحب کو بتایا جن کی عمر تقریباً45سال تھی جب انہوں نے پانی میں ملا کر

یہ دودھ پیا تو ان کا گلا گھٹنے لگا اور سانس کی تکلیف ہونا شرو ع ہوگئی ۔ میں نے ایک دودن بعد نیسلے والوں کو فون کیا تو آگے سے فرحانہ سلطان نامی خاتون نے کہا کہ آپ ہمیں وقت دیں ہم آپ سے ملنا چاہتے ہیں ،اگلے دن نیسلے کی ٹیم ہمارے گھر آئی انہوں نے ہم سے وہ دودھ کا ڈبہ مانگا لیکن میں نے دینے سے انکار کردیا اور صرف سیمپل دیا، انہوں نے 3دن کا وقت مانگا ،لیکن انہوں نے 3دن کے بجائے 6دن بعد رابطہ کیا کہ ہمیں اور ٹائم چاہئے ۔اسی دوران انہوں نے مارکیٹ سے سارا سٹاک اٹھوالیا، 9دن بعد انہوں نے فون کر کے ہمیں کہا یہ دودھ ہماری کمپنی کا نہیں ہے ۔آپ نے جو کرنا ہے کر لو۔ جس پر میں عدالت گیا تو مجھ پر بہت الزامات لگائے گئے کہ میں پیسے لینا چاہتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔متاثرہ بچی کے والد نے متعلقہ حکام سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎