Android AppiOS App

نیوزی لینڈ میں مساجد پرحملہ !وزیراعظم عمران خان نے اہم پیغام جاری کر دیا

  جمعہ‬‮ 15 مارچ‬‮ 2019  |  16:18

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے نیوزی لینڈ میں مساجد پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ (نیوزی لینڈ)میں مسجد پر دہشت گرد حملہ نہایت تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے۔وزیراعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ میں مساجد پر ہونے والے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ میں مساجد پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی خبر سے دھچکا لگا ہے

جس پر صدمے میں ہوں اور اس کی پر زور مذمت کرتا ہوں، یہ حملہ ہمارے اس موقف کی تصدیق کرتا ہےجسے ہم مسلسل دہراتے آئے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، حملے میں شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ اور متاثرین کے لیے دعا گو ہوں۔وزیراعظم عمران خان

نے کہا کہ مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے پیچھے 9/11 کے بعد تیزی سے پھیلنے والا اسلاموفوبیا (اسلام سے نفرت) کارفرما ہے جس کے تحت دہشت گردی کی ہرواردات کی ذمہ داری مجموعی طور پر اسلام اور سوا ارب( 1.3 بلین)مسلمانوں کے سر تھوپنے کا سلسلہ جاری رہا، نیز مسلمانوں کی جائز سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی یہ حربہ آزمایا گیا۔وزیراعظم عمران خان کے علاوہ دیگر سیاسی رہنماں نے بھی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا پوری دنیا کو دہشت گردی کے خلاف ایک صفحہ پر آنا ہوگا،

دہشت گردی ایک ناسور ہے جسے ختم کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ میں واقع دو مساجد میں نماز جمعہ کے دوران اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 40 نمازی شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اس حملے کو دہشت گردی کا واقعہ اور ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قراردیا ہے۔قبل ازیں پاکستان ، ترکی اور انڈونیشیاء سمیت دنیا بھر کے نے نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا یہ واقعہ دنیا بھر میں پھیلنے والے مسلمان مخالف جذبات کا شاخسانہ ہے ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے اسے 11 ستمبر کے حملے کے بعد دنیا بھر میں پھیلنے والے مسلمان مخالف جذبات (اسلامو فوبیا)کا شاخسانہ قرار دیا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ہمارے موقف کی تائید کرتا ہےکہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔اس کے ساتھ ان گھنانے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے معصوم جانوں کے زیاں پر تعزیت بھی کی اور اہلِ خانہ سے ہمدری کا اظہار کیا۔دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پربیان دیتے ہوئے کہا کہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوزی لینڈ میں ہونے والے افسوسناک دہشتگردی کے واقعے کی سخت مذمت کی۔ترجمان دفتر خارجہ نے نیوزی لینڈ میںموجود پاکستانیوں کی خیریت کے بارے میں جاننے کے لیے اہلِ خانہ کو پاکستانی ہائی کمیشن میں سید معظم شاہ سے رابطہ نمبر +64 21 779 495 پر رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔جبکہ اس حوالے سے میڈیا معلومات کے حصول کے لیے اسلام آباد میں موجود ترجمان سے رابطہ کرنے کا کہا ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ہمارا ہائی کمیشن مقامی انتظامیہ سے رابطے میں ہے۔نیوزی لینڈ کی مساجد پر ہونے والے حملے کی مذمت سامنے آرہی ہےجس میں دنیا کی سب سے زیادہ مسلمان آبادی والے ملک انڈونیشیا نے بھی حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ترکی کے صدر طیب اردوان نے بھی اس حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ متاثرین پر رحم کرے اور زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے۔صدر طیب اردوان نے اس افسوناک واقعے پر مسلم دنیا سے تعزیت کی اور اسے اسلاموفوبیا کا نتیجہ قرار دیا۔انڈونیشیا کی وزیر خارجہ ریٹنو مرسودی کے مطابقحملے کے وقت 6 انڈونیشی النور مسجد میں موجود تھے جن میں سے 3 افراد فائرنگ سے محفوظ رہے جبکہ ہم دیگر 3 افراد کو تلاش کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ویلنگٹن میں موجود انڈونیشیئن سفارتخانہ مقامی حکام کے تعاون سے ایک ٹیم کرائسٹ چرچ روانہ کردی،

انہوں نے بتایا کہ کرائسٹ چرچ شہر میں مجموعی طور پر 330 انڈونیشی شہری موجود ہیں جس میں 130 طالبعلم ہیں۔برطانوی سیکریٹری خارجہ جرمی ہنٹ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے مساجدمیں ہونے والے حملوں پر نیوزی لینڈ کی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔اس کے علاوہ ملائیشیا کی سب سے بڑی حکومتی اتحادی جماعت نے اس حملے میں ایک ملائیشین شہری کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے انسانیت اور عالمی امن کے لیے سیاہ سانحہ قرار دیا۔دوسری جانب بھارت کے آل انڈیا مسلم کونسل کے بانی کمال فاروقی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمان مخالف رجحان قرار دیا۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کےشہر کرائسٹ چرچ میں موجود 2 مساجد النور مسجد اور لین ووڈ میں حملہ آوروں نے اس وقت داخل ہو کر فائرنگ کردی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے

پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اس افسوسناک واقعے میں 40 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کے بعد 4 حملہ آوروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن میں 3 مرد اور ایکخاتون شامل ہے۔فائرنگ کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی تاہم فائرنگ کی آواز سن کر بچ نکلنے میں کامیاب رہی اور واپس ہوٹل پہنچ گئی۔مذکورہ واقعے کے بعد کرائسٹ چرچ میں بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہفتے کو ہونے والا تیسرا ٹیسٹ منسوخ کردیا گیااور بعد ازاں بنگلہ دیش نے فوری طور پر نیوزی لینڈ کا دورہ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔مسجد میں فائرنگ کرنے والے ایک شخص نے حملے کی لائیو ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر نشر کی جسے بعد میں نیوزی لینڈ حکام کی درخواست پر دل دہلا دینے والی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎