جنرل ضیاء الحق نے ایک جانب جی ایم سید کی عیادت کے بہانے اس سانپ کا سر کچلا

  ہفتہ‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2018  |  13:35

جنرل ضیاء الحق نے ایک جانب جی ایم سید کی عیادت کے بہانے اس سانپ کا سر کچلا تو دوسری جانب کرکٹ ڈپلومیسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہلی جا پہنچے۔ واپسی پر جب بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی ائیر پورٹ الوداع کرنے آئے تو الوداعی مصافحہ کرکے ضیاء الحق نے راجیو سے رازدارنہ انداز میں پوچھا بھارت کے پاس کتنے ایٹم بم ہوں گے۔ بھارتی وزیراعظم نے کہا چار یا پانچ۔ ضیاء الحق نے کہا اتنے ہی

ہمارے پاس بھی ہیں اگر بھارت نے پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم سارے بھارت کو راکھ کا

ڈھیر بنا دیں ڈھیر بنا دیں گے۔ یہ دھمکی اس قدر کارگر ثابت ہوئی کہ سرحدوں پر حملے کے لیے تیار بھارتی فوج کو اسی وقت واپس آنے کا حکم مل گیا۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتی دفاعی ماہرین کے یہ الفاظ تاریخ کا حصہ ہیں کہ جنرل ضیاء الحق کی زبان سے نکلنے والے چند الفاظ نے بھارتی حکمت عملی کو زیرو بنا دیا۔

انہیں روضہ رسولؐ کے اندر پہنچ کر غلاف روضہ نبی کریمؐ کو پکڑ کر لوگوں نے زار و قطار روتے اور پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا کرتے ہوئے دیکھا۔ جب وہ ایک فضائی حادثے کا شکار ہوکر دنیا سے رخصت ہو گئے تو قائداعظم اور نوابزادہ لیاقت علی خان کے بعد وہ تیسرے سربراہ مملکت تھےجن کو درود سلام کی گونج میں سرکاری اعزاز کے ساتھ فیصل مسجد کے صحن میں کچھ اس طرح دفن کیا گیا کہ جنازے میں پندرہ لاکھ انسان موجود تھے۔

جنرل ضیاء الحق کو تو اللہ نے شہادت جیسے عظیم مرتبے پر فائز فرمایا تھا۔ شہادت کے بعد ملک احمد سرور نے ایک رات خواب دیکھا کہ وہ ایک سڑک کے کنارے کھڑے ہیں یہ سڑک رنگ بھرے خوشبودار پھولوں سے آراستہ ہے ٗ اچانک میں ایک خوبصورت بگھی میں جنرل ضیاء الحق بیٹھے نمودار ہوئے۔ یقیناً وہ جنت کا ہی کوئی گوشہ ہو گا۔ کیا ایسی خوبیوں اور صلاحیتوںکا حامل شخص آمر یا منافق ہو سکتا ہے۔ جو شخص انہیں منافق کہتا ہے وہ آئینے میں اپنی ہی تصویر دیکھتا ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎