جیسی روح، ویسے فرشتے

  بدھ‬‮ 19 ستمبر‬‮ 2018  |  19:11

یہ 1945ء کا واقعہ ہے، قیامِ پاکستان سے قبل ہمارا آبائی گائوں، ساہو چک، تحصیل پٹھان کوٹ، ضلع گورداس پور،دریائے راوی کے کنارے آباد تھا۔ برسہا برس سے ایک ساتھ رہنے والے یہاں کے لوگ ایک کنبے کی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ گائوں کا نمبردار نہایت سادہ، اَن پڑھ اور منکسرالمزاج آدمی تھا۔ اس کی بیوی ذہین اور سمجھ دار ہونے کے ساتھ انتظامی امور سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی تھی، زمینوں کا سارا نظام اسی نے سنبھالا ہوا تھا۔ گائوں میں صرف میرے والد، چوہدری

عبدالوہاب پڑھے لکھے آدمی تھے، وہ اسکول ٹیچر تھے،

اکثر کسی کام جب سرکاری اہل کار وہاں آتے، تو سب سے پہلے والد صاحب ہی سے ملاقات کرتے، اور ان کے مشوروں سے اقدامات کرتے ۔ موسمِ برسات ہمارے لیے خاصا تکلیف دہ ہوتا تھا، لگاتار بارشوں سے جہاں ایک طرف فصلوں کے نقصان کا اندیشہ لاحق رہتا، وہیں دریا کے بپھرنے اور کٹائو کے باعث سیلاب کا خطرہ بھی سر پر سوار رہتا۔ غریب لوگ دعائیں مانگ مانگ کر وقت گزارتے تھے۔ ہمارے گائوں سے چندگائوں چھوڑ کر پیر سیّد محفوظ علی شاہ کا ڈیرہ تھا۔ وہ اپنے علاقے میں ’’ڈھاواں والے پیر‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ ہمارے والد صاحب ایک دو بار اپنے کسی کام کے سلسلے میں ان کے پاس گئے، تو ان کی شخصیت سے اتنے مرعوب ہوئے کہ ان کے ہاتھ پر بیعت ہوگئے۔ پیر ڈھاواں والے، عورتوں کو بیعت نہیں کرتے تھے، نہ عورتوں کو آستانے پر آنے کی اجازت تھی۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎