مجھے کوئی نا روکے ، کوئی نا ٹوکے

  ہفتہ‬‮ 18 اگست‬‮ 2018  |  18:25

میری بہت سی اچھی عادتوں میںایک عادت ہے ، بلاوجہ ”خوش رہنا“زندگی بہت مختصر ہے خوش رہنے ، خوشیاں منانے اور بانٹنے کے لیے پھر لوگ نجانے کیوں خوشی کے موقع پر بھی اداسی کی کوئی نا کوئی وجہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔سمجھ میں نہیں آتا اداسی لوگوں کے اندر رہتی ہے یا وہ اداسی میں رہتے ہیں۔۔؟مجھے لگتا ہے جب ہم ارادہ کر لیتے ہیں ہر حال میں خوش رہنے کا ، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا تو پھر وجہ بھی اللہ تعالیٰ بنا ہی

دیتےہیں۔”خوشی“ ایک ایسا موضوع ہے جس پہ

میں لکھنا شروع کرتی ہوں تو جی چاہتا ہے صبح سے شام ہو جائے ، شام سے پھر رات ہو جائے اور میں لکھتی رہوں۔۔مجھے کوئی نا روکے ، کوئی نا ٹوکےمیں نے جب زندگی کی حقیقت جان لی تو مجھے احساس ہوا اِس جیسا بے اعتبار و بے وفا کوئی نہیں پھر میں نے فیصلہ کیا کہ اسے صرف گزارنا نہیں بلکہ اس کے لمحے لمحے سے لطف کشید کرنا ہے۔نجانے کیوں میں ایک لفظ یا ایک جملہ بھی لکھنے لگوں تو اس میں ”خوشی“ کا ذکر ضرور آ جاتا ہے۔اور جب میں یہ کہتی ہوںخوش رہا کریں!

تو دراصل میں یہ آپ کو نہیںخود کو کہنا چاہتی ہوں۔۔”مجھے خوش رہنا ہے ، مجھے خود کو ہر پل ہر لمحہ خوش رکھنا ہے۔“میں نہیں جانتی میں یہ سب کیوں کہہ رہی ہوںمیںیہ بھی نہیں جانتی میں آپ سے کیوں کہہ رہی ہوں۔میں بس اتناا جانتی ہوں کہ یہ سب بول کر ہلکا پھلکا محسوس کرتی ہوں۔۔۔میں یہ اس لیےکرتی ہوں کہ مجھے اس سے ”خوشی“ ملتی ہے۔۔۔اور میں پرواہ نہیں کرتی کہ میرے یہ سب لکھنے ، بولنے پہ کوئی کیا کہےگا؟کیونکہ میں سمجھتی ہوں میں بہت سارےے لوگوں کو خوش نہیں کر سکتی لیکن میرے لیے خود کو خوش رکھنا بہت آسان ہے۔اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ مجھے آسانیاں پسند ہیں۔مجھے مشکل کام کرنا بھی پسند ہے اگر ان کاموں سے مجھے ”خوشی“ ملے۔خوشگوار اور حسین زندگی ہر انسان کا خواب ہے‘

وہ آگے بڑھنا چاہتا ہے‘ترقی کرنا چاہتا ہے اور آسائشات سے بھرپور حیات گزارنا چاہتا ہے۔ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں ‘ ایک وہ جوزندگی کے لیے جیتے ہیں ‘ وہ ہر پل بہتر زندگی کے لیے تگ و دو کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کوزندگی کی بڑی خوشی جان کر آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے لوگ صرف قسمت کو زندگی سمجھ لیتے ہیں یا پھر انہونی کے انتظار میں رہتے ہیں‘ خیالی دنیا کے محل بناتے ہیں‘ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر ہوائیکے خواب دیکھتے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے خوبصورت زندگی اتنی آسان نہیں کیونکہ بیچ کو کھلنے اور خوشبو بکھیرنے کی منزل تک پہنچنے کیلئے پہلے مٹی میں غرق ہونا پڑتا ہے اور ہم محنت کے بغیر آسمان کو ہاتھ ڈالناچاہتے ہیں جو ناممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زندگی بدلنے کا بڑی حد تک اختیار ہمارے ہاتھ میں بھی دے رکھا ہے‘ ہم تھوڑی سی توجہ‘ تھوڑی سی کوشش سے چند برسوں میں کامیابی کی منزل پا سکتے ہیں

لیکن  ہمیں کچھ بنیادی چیزوں کو اپنانا ہو گا ۔ ہم چھ ایسی تجاویز آپ کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر آپ ترقی کا راز پا سکتے ہیں اورآپ بوجھل زندگی کو خوشحال بنا سکتے ہیں۔وقت مٹھی میں باندھ لیں: کہا جاتا ہے وقت جس کے ہاتھ میں ہے زمانے اس کے قدموں میں ہے۔ہم اگر تاریخ انسانی اٹھا کر دیکھیں اور اس میں دنیا کے 100کامیاب ترین انسانوں کی فہرست نکالیں اور ان کی شبانہ روز زندگی کا مطالعہ کریں تو 95فیصد لوگوں میں ایک شے مشترک ہو گی اور وہ ہے وقت کی قدر۔ جو لوگ وقت کا استعمال سیکھ گئے یا جنہوں نے وقت کی اہمیت کو پا لیا وہ کامیابی کے ٹریک پر آ گئے اور رفتہ رفتہ کامیاب انسانوں کی صف میں شامل ہو گئے۔ مثلاََآپ ڈاکٹر اور انجینئر بننا پسند کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے اس کے لیے وقت صرف کرنا اہم ہے‘ ایک ڈاکٹر یا ایک انجینئر کواس مقام تک پہنچنے کیلئے روزانہ 20, 20گھنٹے مطالعہ کرنا پڑتا ہے اور تب کہیں جا کر وہ ڈاکٹر یا انجینئر بنتا ہے۔ آپ آج سے تہیہ کر لیں وقت کو ضائع نہیں کرنا‘ گھنٹو ں انٹر نیٹ پر بیٹھ کر دوستوں سے فضول گپ شپ نہیں کرنی‘ ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر گھنٹوں ڈرامے‘ فلمیں اور کھیلوں سے لطف اندوز نہیں ہونا‘ یہ صرف وقت کا ضیاع ہے۔ فون پر دوستوں‘ عزیز رشتے داروں سے گھنٹوں گفتگو نہیں کرنی‘ چوکوں‘ چوراہوں اور تھڑوں پر دوستوں کے ساتھ مل کر گل چھرے نہیں اڑانے بلکہ اس وقت کو مثبت سرگرمی میں صرف کرنا ہے۔ آپ ارادہ کر لیں آپ یہ وقت کوئی کام سیکھنے‘ مطالعہ کرنے‘ تحقیق کرنے اور کچھ نہ کچھ تخلیق کرنے میں صرف کر یں گے۔ یقین کیجئے آپ کا یہ ارادہ آ پ کو روشنی کی طرف لے جائے گا۔

جوہر کی تلاش: کامیاب زندگی کے راستے کی دوسری رکاوٹ جوہر کی عدم تلاش ہے۔ یہ جوہرہے کیا؟ یہ انسان کے اندر چھپی وہ خوبی ہے جس تک رسائی ہر انسا ن کے بس کی بات نہیں۔ اللہ تعالی نے ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی کمال ضرور رکھا ہے‘ دنیا کا کوئی انسان صفات سے خالی نہیں‘ اسی طرح دنیا کا ہر انسا ن اپنے اندر ایک ایسی خوبی رکھتا ہے اگراسے اس خوبی کا علم ہو جائے‘ وہ اس خوبی کو تلاش کر لے اور پھر اس کو زندگی کا نصیب العین بنالے تو یقین کیجئے وہ کبھی گم نام زندگی نہیں گزار سکتا ۔ مثلاََ ہمارے نوجوان بہترین آرٹسٹ ہوتے ہیں‘ بہترین رائٹر ہوتے ہیں‘ ٹیکنیکل ذہن رکھتے ہیں‘ وہ جانے انجانے میں یہ شوق پورا کرتے رہتے ہیں لیکن جب یہ عملی زندگی میں قدم رکھنا چاہتے ہیں تو پہلے ان کو کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی‘ اگر راہ مل بھی جائے تو یہ کسی اور راہ کا انتخاب کر لیتے ہیں لیکن اگر یہ اپنی اس خوبی کو تلاش کر لیں اور اسی کو زندگی کا مقصد بنا لیں تو یہ بہت کم عرصے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

بے کار چیزیں ٹھکانے لگا دیں: ہماری زندگی بکھری پڑی ہوتی ہے‘ ہم بیک وقت گھر میں‘ دفتر میں‘ شاپ پر‘ شہر میں‘ جنرل سٹور پر‘ ہسپتال میں اور شادی بیاہ میں موجود ہوتے ہیں‘ ہم بیٹھے آفس میں ہوتے ہیں لیکن ہمارا دماغ کہیں اور گھوم رہا ہوتا ہے۔جس طرح چیزیں بکھری ہوں تو کمرہ بدنما لگتا ہے بالکل اسی طرح اگر ہماری زندگی مختلف الخیال چیزوں میں الجھی ہوگی تو ہماری زندگی خوبصورت نہیں ہو سکتی ‘ یہ بوجھل اور مصائب کا مجموعہ لگے گی۔ اس کیلئے ضروری یہ ہے آپ سب سے پہلے اپنے دماغ کو خالی کر لیں‘ میں یہ کروں گا‘ میں یہ کر سکتا ہوں‘نہیں میں یہ بھی کر سکتا ہوں‘ نہیں نہیں فلاں نوکری، فلاں کاروبار زیادہ بہتر رہے گا۔ آپ ان خیالات کو چند منٹوں کیلئے ذہن سے جھٹک دیں اور خالی ذہن ہو کر کسی ایک کام پر فوکس کریں۔یاد رکھیں دنیا کا کوئی کام بُرا نہیں ہوتا‘ یہ ہمارے رویے ہوتے ہیں جو ہمیں برا بنا دیتے ہیں۔ آپ چھوٹے سے چھوٹا کام شروع کر لیں لیکن اپنی تمام تر توجہ اس کام پر رکھیں‘ اپنی پوری محنت اور لگن سے کام کریں‘زندگی چندقدم کے فاصلے پر آپ کو مسکراتی ہوئی ملے گی ۔

کام اپناکام: ہمارے ہاں ایک رویہ بہت بُرا ہے‘ ہم سمجھتے ہیں ہم جہاں کام کر رہے ہیں وہ ادارے یاکمپنی کے لیے کر رہے ہیں‘ ہمارے دماغوں میں یہ خلل بھی رہتا ہے ہم کام کر کے کمپنی کو فائدہ پہنچا رہے ہیں یا بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کمپنی دن بدن ترقی کر رہی ہوتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں ہمیں اس ترقی کی بہ نسبت اجرت نہیں ملتی لیکن یہ طرز‘ یہ سوچ انتہائی غلط ہے۔ اصل بات یہ ہے آپ کا کام آپ کی پہچان ہے‘ آپ جس ادارے کیلئے کام کرتے ہیں بنیادی طور پر یہ آپ اپنی ذات کے لیے کر رہے ہوتے ہیں‘آپ اپناکیرئر بنا رہے ہوتے ہیں۔ آپ دوسروں کی کرسی‘ دوسروں کی چھت‘ دوسروں کی بجلی اور دوسروں کی اشیاء استعمال کر کے اپنی زندگی کو سنوار رہے ہوتے ہیں لہٰذا اگر زندگی میں کامیابی عزیز ہے تو آپ کام کو اپنا کام سمجھ کر کریں۔ ہمارا یقین ہے وقت آپ کوکامیاب زندگی کی دہلیز پر لا کھڑا کرے گا۔

محنت شاقہ اور اخلاص: محنت کے علاوہ دنیا میں ترقی کا خوبصورت ترین راستہ کوئی نہیں‘ آپ کسی بھی فیلڈ میں ہیں‘ آپ محنت کو زندگی کا جزو بنا لیں‘ اگر آپ 8گھنٹے کام کے بعد بھی کامیاب زندگی سے دور ہیں تو آپ کو 16گھنٹے کام کرنا چاہیے لیکن اس میں ایک احتیاط لازم ہے‘ صحت آپ کی زندگی ہے‘ صحت کے بغیر آپ کچھ بھی نہیں کرسکتے‘ صحت کا خیال رکھیں اور اس کے ساتھ ساتھ جانفشانی سے کام میں جت جائیں‘ دیانت اور اخلاص کو اپنا اصول بنا لیں‘ جو کام بھی کریں کوشش کریں اس میں خلاء نہ ہو‘ کام کو سرسے اتا رنے والے لوگوں کو ‘کام سر سے اتار دیتا ہے۔ آپ محنت سے، شوق سے کام کریں ‘ اس کا صلہ آپ کو خوش گوار زندگی کی صورت میں ملے گا۔

وژن یا ٹارگٹ: محنت کے ساتھ وژن یا ٹارگٹ کا ہونا بھی لازم ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں لوگ سارا سارا دن کام کرتے ہیں لیکن ترقی نہیں کر پاتے۔مثلاََ مزدور سارا دن بھاری بھر کم کام کرتا ہے‘ کدالیں اور بیلچے چلاتا ہے لیکن شام کو اسے اس محنت کے عوض چار‘ پانچ سو روپے ہی مل پاتے ہیں اور وہ ساری عمر کدالیں چلاتے چلاتے گزار دیتا ہے ‘کیوں؟ کیونکہ اس کا ہدف کوئی نہیں ہوتا۔ اس کی سوچ صرف وہ500روپے ہوتی ہے جس سے اس کا کچن چل جائے لیکن اگریہی مزدورتھوڑا سا وژن بڑا کر لے‘ ہدف کا تعین کر لے‘ وہ ارادہ کر لے میں اب محض بیلچہ نہیں چلاؤں گا بلکہ میں اب یہ کام ٹھیکے پرلوں گا‘

روزانہ گھنٹہ زیادہ کام کروں گاتو اس کی زندگی میں تبدیلی آنا شروع ہو جائے گی۔وہ ارادہ کر لے میں محض مزدور نہیں رہوں گا میں میسن ‘ کارپنٹر ‘ پلمبر اور الیکٹریشن کا کام بھی کروں گا‘ وہ روزانہ ایک ایک قدم آگے بڑھنا شروع کر دے تو یقین کیجئے ایک دن وہ انجینئربن جائے گا۔ اسی طرح زندگی کا ہر شعبہ ہے۔ آپ جس شعبے میں بھی ہیں آپ فیصلہ کر لیں ہم نے کولہو کے بیل بن کر کام نہیں کرتا‘ہم نے سیکھناہے‘ہم نے آگے بڑھنا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتی۔ اصل؂ میں جب انسان یہ سمجھ لے کہ بس یہی کام اس کی پہچان ہے‘ اب مزید مشقت نہیں کرنی تو سمجھ لیجئے آپ کی زندگی کی گاڑی کوبریک لگ جائے گی اور آپ مینڈکوں کی طرح ایک ہی تالاب کے باسی بن کر رہ جائیں گئے۔ کامیاب ہونا ہے توحوصلہ رکھنا ہوگا ، آگے بڑھنا ہو گا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎