اللہ کے وہ محبوب ولی جن کے چہرے پر ایک سو سال کی عمر میں داڑھی نکلی

  ہفتہ‬‮ 18 اگست‬‮ 2018  |  18:10

حضرت سید بہاء الدین گیلانی المشہور بہاول شیر قلندرکا مزار اقدس حجرہ شاہ مقیم میں مرجع خاص و عام ہے ۔ بزرگان دین پر مستندکتاب خزینۃ الاصفیہ میں آپؒ کے بارے میں کئی روایات بیان کی گئی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق آپ ؒ جذب و سکر کی حالت میں رہتے تھے،آپ ؒ دوسرے لوگوں سے بے حد منفرد تھے ،آپؒ کی ریش مبارک نہیں تھی ،یہ نہیں تھا کہ داڑھی کے بال تھے اور داڑھی نہیں رکھی تھی بلکہ چہرے پر بال ہی نہیں تھے ۔روایت ہے کہ جب آپؒ کی عمر

عزیزایک سو برس تک

پہنچی تو آپؒ کو داڑھی نکلآئی اور خوب گھنی ہوئی ۔جب آپ ؒ خلوت نشین ہوتے تو کئی برس تک دنیا کا منہ نہ دیکھتے ۔ روایت کے مطابق تین مرتبہ بارہ بارہ سال کی خلوت میں بیٹھے تھے۔ ایک دفعہ حالت استغراق و جذب و سکر میں اتنا طویل عرصہ ایک غار میں بیٹھے کہ جس پتھر کے ساتھ پشت تکیہ گاہ تھی جب وہاں سے اٹھے تو پشت کا کچھ چمڑہ اس پتھر کے ساتھ لگا رہ گیا ۔حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق بیان فرماتے ہوئے روایت فرماتے ہیں:کریم آقا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات میں اور حسن جمال میں بہت عظیم تھے اور دیکھنے والوں کے لیے معظم تھے،اپکا چہرہ مبارک چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا، آپکا قد مبارک میانہ تھا اور میانہ سے کچھ نکلا ہوا تھا اور شان یہ تھی جب چلتے تھے تو بڑے قد والوں سے بھی بڑا لگتا تھا، جب بال جوڑتے تو کنگھا کیے بغیر مانگ نکلآتی،

پیشانی مبارک سے چمک نکلتی تھی، رخسار مبارک نہایت خوبصورت تھے، دندان مبارک باریک تھے اور موتیوں کی طرح چمک دار تھے، اگر گردن نظر آتی تو چاندی کی طرح چمکتی تھی، جسم فٹ تھا مطلب پتلے بھی نہ تھے اور موٹے بھی نہ تھے، اپکا جسم مبارک روشن تھا، بازو مبارک پر بال زیادہ نہ تھے،انگلیاں لمبی تھیں، جب چلتے تھے قدم مبارک ایسے اٹھتے تو ایسے لگتا تھا اونچائی سے اتر رہے ہیں، جب کسی سے ملتے تو جس طرف وہ شخص ہوتا اس کی طرف مکمل مڑ جاتے تھے ڈاس کو دیکھتے تو سیدھا ہو کر دیکھتے تھے،جب چلتے تو صحابہ کو آگے چلنے کی ترغیب فرماتے، جس سے بھی ملتے سلام کرنے میں ابتدا فرماتے، آپکا کلام مختصر اور آسانی سے سمجھ آنے والا ہوتا،

آپکی طبیعت میں اصلا نرمی تھی، مزاج میں کوئی سختی نہ تھی، اللہ کی نعمت یا کسی کی تھوڑی سی بھلائی پر تعریف فرماتے، حق کی مخالفت اور باطل کو برداشت نہ کرتے، اپنے نفس اور اپنی جان کے لیے کھبی غصہ نہ فرماتے، اور اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہ لیتے، گفتگو میں ہاتھوں سے اشارہ فرماتے، خوشی کے عالم میں چہرہ نیچے فرماتے اور مسکراتےے چینی بھی ایک بڑا روگ بن چکی ہے۔کسی کو رزق میں فراوانی کے باوجود بے چینی ہے اور تسکین قلب نہیں.کوئی بچوں کے مستقبل سے خوف کھاتا ہے اور بے چین رہتا ہے.دیکھا جائے تو بے چینی کامطلب ہے کہ انسان کو تسکین قلب میسر نہیں.تسکین قلب ایک نعمت اور رحمت ہے لیکن جب یہ ہی انسان کو میسر نہ آئے تو ایسے جینے میں کوئی لطف نہیں رہتا.تسکین قلب کے لئے اوربے چینی کو ختم کرنے کے لئے رسالت مآب حضور اکرم ﷺ نے ایک دعا تعلیمفرمائیہے جس کے پڑھتے ہی رحمت کانزول شروع ہوجاتا ہے . یہ دعا بہت مجرب ہے جو بھی پریشانی ہو اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کے ساتھ پڑھیں ان شاءاللہ فائدہ ہوگا۔

اللهم رحمتك ارجو فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين ، وأصلح لي شأني كله ، لا إله إلا أنت دعا ایسے موقع کے لئے تیر بہدف کا کام کرتی ہے جب کوئی کام رکا ہوا ہو یا سخت سے سخت پریشانی لاحق ہو .بہتر طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت نماز حاجت پڑھیں اور سلا م کے بعد ۱۱ بار یہی دعا پڑھیں ان شاءاللہ کام ہو جائے گا اول و آخر درود ابراہیمی ضرور پڑھیں .نیز یہ دعا اگر کوئی ہر نماز کے بعد ایک بار پڑھیں تو اس کا کوئی کام رکا نہیں رہے گا۔استاد نے کلاس میں بچوں سے سوال کیایہ بتاؤ کہ وہ کون لوگ ہیں جو نماز ادا نہیں کرتے؟پہلا بچہ: (معصومیت سے) جو لوگ مرچکے ہیں.دوسرا بچہ: (ندامت سے) جنکو نماز پڑھنی نہیں آتی.تیسرے بچے نے بڑا معقول جواب دیا:سر وہ لوگ جو مسلمان نہیں ہیں.

چوتھے بچے نے جواب دیا جو لوگ کافر ہوتے ہیں وہ نماز نہیں پڑھتے ہیں پانچویں بچے نے کہا جو لوگ اللہ پاک سے ڈرتے نہیں ہیں وہ نماز نہیں پڑھتے بچے تو جواب دے کر فارغ ہوگئے  مگر مجھے سوچنے پر لگادیا کہ:میرا شمار کن لوگوں میں ہوتا ہے؟1. کیا میں مرچکا ہوں؟2. کیا مجھےنماز نہیں آتی؟کیا میں مسلمان نہیں ہوں؟کیا مجھے اپنے رب کا خوف نہیں ؟؟کیا میں کافر ہوں جو اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوتا؟؟؟؟حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی نماز کو حقیر جانے گا اس کو الله تعالیٰ کی طرف سے پندرہ سزائیں ملیں گی، ﭽﮭ سزائیں زندگی میں، تین مرتے وقت، تین قبر میں اور تین روز حساب میں- زندگی کی ﭽﮭ سزائیں ١

)۔۔۔ الله اس کی زندگی سے رحمتیں اٹھا لے گا-(اس کی زندگی بد نصیب بنا دے گا) ٢)۔۔۔ الله اس کی دعا قبول نہیں کرے گا-٣)۔۔۔ الله اس کے چہرے سے اچھے لوگوں کی علامات مٹا دے گا- ٤)۔۔۔ زمین پر موجود تمام مخلوقات اس سے نفرت کریں گی- تمام مخلوقات اس سے نفرت کریں گی-٥)۔۔۔ الله اسے اس کے اچھے کاموں کا صلہ نہیں دے گا-٦)۔۔۔ وہ اچھے لوگوں کی دعاؤں میں شامل نہیں ہو گا-مرتے ہوئے تین سزائیں١)۔۔۔ وہ ذلیل ہو کر مرتا ہے-٢)۔۔۔ وہ بھوکا مرتا ہے-٣)۔۔۔ وہ پیاسا مرتا ہے- (اگرچہ وہ تمام سمندروں کا پانی پی لے، پیاسا ہی رہے گا)قبر میں تین سزائیں١)۔۔۔ الله اس کی قبر اتنی تنگ کردے گا جب تک اس کی پسلیاں ایک دوسرے کے اوپرنہ چڑھ جائیں-٢)۔۔۔ الله اسے چنگاریوں والی آگ میں انڈیل دے گا-٣

)۔۔۔ الله اس پر ایسا سانپ بٹھائے گا جو ٰبہادر اور دلیرٰ کہلاتا ہے، جو اسے نماز فجر چھوڑنے پر صبح سے لے کر دوپہر تک ڈسے گا،نماز ظہر چھوڑنے پر دوپہر سے لے کر عصر تک ڈسے گا، اور اسی طرح ہر نماز چھوڑنے پر اگلی نماز تک ڈسے گا، ہر ضرب کے ساﺘﻬ ستر گز زمین کے اندر دھنسے گا-روز حساب کی تین سزائیں١)۔۔۔ الله اسے منہ کے بل جہنم میں بھیج دے گا جو جرم میں شامل ہو گا-٢)۔۔۔ الله اسے غصے سے دیکھے گا جس سے اس کے چہرے کا ماس گر جائے گا-٣)۔۔۔ الله اس کا سخت حساب لے گا اور اسے جہنم میں پھینکنے کا حکم دے گا-جو اپنی نمازوں کو ادا نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔فجر: ان کے چہرے کا نور ختم ہو جاتا ہے-ظہر: ان کی آمدنی سے برکت اٹھا لی جاتی ہے-عصر: ان کے جسم کی مضبوطی اٹھا لی جاتی ہے-مغرب: انہیں اپنے بچوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا-عشاء: ان کی نیند سے سکون ختم ہو جاتا ہے

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎