Android AppiOS App

یتیموں کی مدد کا ثواب

  ہفتہ‬‮ 18 اگست‬‮ 2018  |  17:58

ظہیر صاحب کراچی کے بڑے بزنس مین ہیں، آج سے 22 سال قبل ان کا اکلوتا بیٹا حادثے کا شکار گیا، بیوی دوسری بار ماں بننے کی صلاحیت سے محروم تھی، ظہیر صاحب کے پاس دو آپشن تھے، یہ نئی شادی کرتے یا پھر باقی زندگی اولاد کے بغیر گزار دیتے لیکن ظہیر صاحب تیسرے آپشن کی طرف چلے گئے،یہ ایک دن کراچی کے بڑے یتیم خانے میں گئے، اپنے مرحوم بیٹے کا ہم عمر تلاش کیا، بچہ گود لیا، گھر لائے، بچے کا نام بدل کر اپنے مرحوم بیٹے کا

نام رکھ دیا اور بچے کو اسی اسکول میں داخل کرا دیا۔جس اسکول میں ان کا بیٹا پڑھتا تھا، نیا بیٹا سال گزرنے کے بعد ان کا پورا بیٹا بن گیا، یہ دونوں میاں بیوی مرحوم

بیٹے کو بھول گئے، ظہیر صاحب کا لے پالک بیٹا جوان ہوا، اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور سارا کاروبار سنبھال لیا، یہ بیٹا شائستہ بھی ہے، مہذب بھی، خوف خدا سے مالامال بھی اور خدمت گزار بھی۔ آپ نے اگر کسی بیٹے کو ماں باپ کے پاؤں دھو کر پیتے دیکھنا ہو تو آپ ظہیر صاحب کے لے پالک بیٹے کو دیکھئے،ظہیر صاحب کے بیٹے نے والدین کی محبت اور اطاعت میں مثال قائم کر دی،

 ظہیر صاحب اور ان کی اہلیہ آج اپنے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک بیٹا لے کر انھیں پہلے سے بہتر بیٹا دے دیا، دوست ظہیر صاحب کے اس فیصلے کو ظہیر ماڈل کہتے ہیں۔ہماری دنیا میں کامیاب ہونے والے 82 فیصد لوگ یتیم، طلاق یافتہ والدین کے بچے یا پھرسنگل پیرنٹس کی اولاد ہوتے ہیں،سائنسی تحقیق نے ثابت کیا، یتیمی انسان کے اندر ایک عجیب فورس پیدا کرتی ہے، یہ فورس انسان کو کہیں سے کہیں لے جاتی ہے، آپ آج دنیا کے 20 بڑے شعبوں کے بیس کامیاب ترین لوگوں کی فہرست نکالیںاور ان کے پروفائل پڑھیں، آپ کو میری بات پر یقین آ جائے گا، اگریتیمی بڑی طاقت نہ ہوتی تو اللہ کے آخری نبیؐ یتیم نہ ہوتے، یتیمی میں کوئی نہ کوئی ایسی طاقت تھی۔

جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی کو یتیم پیدا کیا اور پھر چھ سال کی عمر میں ان کے سر سے والدہ کا سایہ بھی اٹھا لیا، آپ تاریخ کا مطالعہ کریں، آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے، دنیا کے زیادہ تر بڑے لیڈر، بڑے سپہ سالار بچپن میں یتیم ہو گئے تھے، وہ یتیمی میں بڑے ہوئے اور پھر جوان ہو کر پوری دنیا کی شکل بدل دی، محرومی شاید انسان کی صلاحیتوں کے لیے کک ثابت ہوتی ہے اور یتیم کیونکہ اپنی زندگی کے ابتدائی حصے میں دنیا بھر کی محرومیاں دیکھ لیتا ہے چنانچہ یہ جوان ہونے تک زمانے کی تمام گرم ہواؤں کا ذائقہ چکھ لیتا ہے،ہم دوست اپنے دوستوں کو مشورے دیتے ہیںآپ زندگی میں کم از کم ایک بچہ یا بچی ضرور گود لیں، یہ بچی یا بچہ آپ کے اپنے بچوں سے بہتر ثابت ہو گا ،

ہمارے جن دوستوں نے ظہیر ماڈل پر کام کیا وہ آج جھولی پھیلا کر دعائیں دے رہے ہیں۔پشاور کا واقعہ پاکستانکی تاریخ کا المناک ترین واقعہ تھا، دہشت گردوں نے 16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک اسکول کے 132 بچوں کو قتل کر دیا، اس واقعے نے پوری دنیا کے انسانوں کو اندر سے ہلا کر رکھ دیا، پوری دنیا پاکستان کے ساتھ اس وقت مغموم ہے، ہم لوگ کوشش کے باوجود اپنے اندر سے دکھ نہیں نکال پا رہے، ہم اس غم میں دوسری اور تیسری صف کے لوگ ہیں، آپ ان والدین کی حالت کا اندازہ لگائیے جو صبح خود اپنے بچوں کو اسکول چھوڑ کر آئے اور سہ پہر اور شام کے وقت انھیں بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں ملیں، یہ اپنے مرے ہوئے بچوں کے چہرے تک نہ دیکھ سکے، یہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ عملاً فوت ہو چکے ہیں، یہ اب نفسیاتی لحاظ سے کبھی بحال نہیں ہو سکیں گے۔میری ان والدین سے درخواست ہے آپ اگر ظہیر ماڈل پر چلے جائیں،

 آپ اگر ملک کے مختلفیتیم خانوں سے اپنے بچوں کے ہم عمر اور ہم نام تلاش کرلیں، آپ ان بچوں کو گود لیں،آپ انھیں اسی اسکول میں پوری مراعات کے ساتھ داخل کرائیں اور آپ ان یتیم بچوں کے وہ سارے نخرے برداشت کریں جو آپ اپنے بچوں کے برداشت کرتے تھے تو یقینا آپ کے غم میں کمی آ جائے گی، یہ حقیقت ہے ہمارے بچے ہمارے جگر کا ٹکڑا ہوتے ہیں اور آپ کسی دوسرے کے جگر کے ٹکڑے کو اپنے جگر کا حصہ نہیں بنا سکتے لیکن اللہ تعالیٰ نے یتیم بچوں میں ایک عجیب صلاحیت رکھی ہے، انسان جب کسی یتیم بچے کو اپنے بچے کی جگہ دیتا ہے

 تو یتیم بچہ نہ صرف جلد مرحوم بچے کی جگہ لے لیتا ہے بلکہ یہ انسان کی زیادہ محبت اور زیادہ توجہ کھینچ لیتا ہے چنانچہ مجھے یقین ہے اگر مرحوم بچوں کے والدین ظہیر ماڈل پرآ جائیں تو انھیں اپنے کھوئے ہوئے بچے بھی واپس مل جائیں گے، ان کی نفسیاتی بحالی کا عمل بھی تیز ہو جائے گا اور یہ غم اور دکھ سے بھی جلد چھٹکارہ پا جائیں گے۔ (جاوید چودھری کے کالم سے اقتباس ) ۔نوٹ: ملک کی تازہ ترین صورتحال اور سنسنی سے پاک خبریں اور ملک کے مایاناز صحافیوں اور لکھاریوں کی شاندار تحریریں پڑھنے اور اپنے آپ کو اپ ڈیٹ رکھنے کے لیے ہمارا پیچ لائیک کریں اور اپنے دوستوں کو بھی بتائیں ۔ شکریہ

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎