پاک فوج مارشلاء کیوں لگاتی رہی۔۔۔؟

  ہفتہ‬‮ 18 اگست‬‮ 2018  |  17:24

آج پاکستان کی اکثریت نے نہ بھٹو کو دیکھا ہے نہ بھٹو کا دور، صرف پیپلز پارٹی کو جانتے ہیں۔وطن کے بزرگوں نے 65 ءکی جنگ میں بھٹو کی غداری کی بھی دیکھی اور تاشقند معاہدے میں اس کی خیانت بھی۔71ءکی جنگ میں بھٹو کا ناپاک کردار کہ جس کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوا۔ ”یہاں ہم، وہاں تم“ کا نعرہ لگانے والا بھٹو کہ جس نے الیکشن میں ہارنے کے بعد یہ فیصلہ کرلیا کہ کسی صورت میں بھی اقتدار مجیب کے حوالے نہیں کرے گا چاہے اس کے لیے

ملک ہی کیوں نہ توڑ دیا

جائے۔ وہ دوسری بات ہے کہ مجیب خود غدار تھا۔ ایسا بھی دور آیا کہ جب بھٹو خود چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بھی تھا۔ فیڈرل سیکورٹی فورس کے نام سے بھٹو نے اپنی ایک ذاتی دہشت گر د تنظیم بنائی کہ جس کا مقصد اپنے سیاسی مخالفین کو اغواءاور قتل کروا کر اپنی ساکھ کو مظبوط کرنا تھا۔ہزاروں کی تعداد میں مخالفین کو پورے پاکستان سے اٹھایا جانے لگا، دہشت گردی کے مراکز میں اذیتیں دی جاتیں اور قتل کرکے لاشیں ویرانوں میں پھنکوا دی جاتیں۔اپنے بڑوں سے پوچھیں انہوں نے آزاد کشمیر میں قائم ”دولائی کیمپ“ کا نام ضرور سنا ہوگا۔

یہ وہ بدنام زمانہ عقوبت خانہ تھا کہ جہاں سینکڑوں کی تعداد میں بے گناہ لوگوں کو لاکر اذیت کا نشانہ بنایا جاتا۔ اسی فیڈرل سیکورٹی فورس نے مشہور وکیل احمد رضا قصوری کے والد کو قتل کرنے کیلئے لاہور میں ان پر حملہ کیا۔ یہی وہ قتل بعد میں بھٹو کی پھانسی کا باعث بھی بنا۔ فیڈرل سیکورٹی فورس کے تمام افسران بھٹو کے خلاف گواہ بن گئے اور انہی کی شہادتوں پر احمد رضا قصوری نے بھٹو کے خلاف مقدمہ لڑا اور سزائے موت دلوائی۔ احمد رضا قصوری آج بھی زندہ ہیں اور اسلام آباد کے مشہور و کیل ہیں۔ ان کے جسم میں آج بھی وہ گولیاں پیوست ہیں کہ جو بھٹو کے حکم پر فیڈرل سیکورٹی فورس کے دہشت گردوں نے ان پر چلائی تھیں۔

 لہذا اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ بھٹو کا عدالتی قتل ہوا اور وہ بے گناہ تھا تو وہ صرف ایک فحش اور جھوٹ کلمہ ادا کرتا ہےجس کے زریعے سادہ عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ بھٹو نے پاکستان بھی توڑا، پاکستان سے غداری بھی کی ، ہزاروں لوگوں کو قتل بھی کروایا ، ہزاروں کو اغواءبھی کروایا، دولائی کیمپ جیسے دہشت گردی کے مراکز بھی بنائے اور پھر جب وہ اللہ کے عذاب میں آیا تو ایک قتل اس کی پھانسی کا باعث بن گیا۔ بے شک اس کو ایک مقدمے میں سزائے موت ہوئی مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کو ہزاروں بے گناہ افراد کے قتل پرہزاروں دفعہ لٹکانا چاہتے تھے۔70 ءکی دہائی کا آغاز پاکستان ٹوٹنے سے ہوا تھا۔ پھر بھٹو کا دور حکومت شروع ہوا،

 اور ساتھ ہی فحاشی اور عریانی کے ایک ایسے دور کا آغاز ہوتا ہے کہ الامان الحفیظ! شرم، حیائ، دین اور شریعت کو بحیرہ عرب میں غرق کردیا گیا۔ پورے ملک میں گلی گلی شراب خانے کھولے گئے، زناءاور بدکاری کے اڈے قائم کیے گئے، آج بھی بزرگ جانتے ہیں کہ پی ٹی وی کے اوپر رات دس بجے کے بعد فحش فلموں کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ آج بھی کراچی کے ساحل پر مشہور سند باد کے نام سے بچوں کا پلے لینڈ ہے۔ یہ بھٹو کے دور میں ایشیاءکا سب سے بڑا جوا خانہ بن رہا تھا، کہ جو بعد میں اس کے دفعہ ہونے کے بعد بچوں کے پارک میں تبدیل کردیا گیا۔نظریاتی طور پر بھٹو ایک لادین مکتبہءفکر سے تعلق رکھتا تھا،

کہ جو ہر صورت میں مذہب کو سیاست اور ریاست سے دور رکھتے ہوئے ملک کو مکمل طور پر ایک سیکولر ریاست بنا رہا تھا۔ اس کا مشہور نعرہ تھا ”اسلام ہمارا مذہب ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے اور سوشلزم ہماری معیشت“۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں نظریہءپاکستان اور اسلام کو مکمل طور پر دفن کردیا گیا تھا، اور معاشرے کے ہر طبقے میں کرپشن، بدکاری، شراب اور زناءمکمل طور پر فروغ پاچکا تھا۔ ایک ایسی قوم کہ جو چند سال پہلے ہی اللہ کے عذاب میں گرفتار ہو کر آدھے ملک سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی، اب ایک عذاب سے نکل کر دوسرے عذاب میں گرفتار ہوچکی تھی۔یہی وجہ تھی کہ 1977 ءمیں جب بھٹو کے خلاف تحریک چلی تو اس کا نام ”نظام مصطفی تحریک“ تھا۔

پوری قوم اس لادینیت، بے حیائی اور بے غیرتی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اسی آخری دور میں کہ جب بھٹو کو اپنے اقتدار کی کرسی ڈوبتی ہوئی نظر آئی تو اس کے عوام کے غم و غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے شراب پر پابندی لگائی اور جمعے کی چھٹی کا اعلان کیا، ورنہ اس سے پہلے وہ اپنی مشہور تقریر میں پوری قوم کے سامنے اپنی شراب نوشی کا اقرار ان الفاظ میں کرچکا تھا کہ ” تھوڑی سی پیتا ہوں کوئی زیادہ تو نہیں پیتا“۔اپنے نظریات کی وجہ سے بھٹو نے پاکستان کی تمام تر صنعت کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب پاکستان میں بڑے بڑے کارخانے کام کررہے تھے، جدید ملیں لگائی جارہی تھیں، اور صنعتی اعتبار سے پاکستان بہت ترقی کررہا تھا۔

ایک دو سال کے اندر اندر ہی تمام منافع بخش کارخانے کھنڈر بن کر یا تو بند ہوگئے یا نقصان میں چلنے لگے۔ ملکی معیشت کو اس سے زیادہ کاری ضرب اور نہیں لگائی جاسکتی کہ جتنی بھٹو نے لگائی۔ اس دن سے لیکر آج تک پاکستان صنعتی میدان میں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکا۔ اس نے اپنا لباس بھی’’ ماوزے تنگ‘‘ جیسا بنا لیا تھا۔اس دور میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان فسادات شروع ہوگئے تھے اور بھٹو کو مجبوراً پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو بلا کر ان کا موقف پوچھنا پڑا۔

جب قادیانیوں نے پوری پارلیمان کے سامنے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا تو جذبات بہت زیادہ بھڑک گئے اور بھٹو کیلئے ممکن نہ رہا کہ وہ عوام کے جذبات کے سامنے کوئی مزاحمت کرسکتا۔ لہذا مجبوراً پوری پارلیمان کے فیصلے کے مطابق اسے قادیانیوں کو کافر قرار دینا پڑا،1977 ءکے الیکشنز میں دھاندلی کے بعد بھٹو کے خلاف نظام مصطفیٰ تحریک چل پڑی۔ بھٹو نے اپنی مخالفت کو دبانے کیلئے فیڈرل سیکورٹی فورس کے غنڈوں کے ذریعے بے دریغ طاقت کا استعمال کیا۔ سینکڑوں لوگوں کو شہید اور زخمی کیا گیا اور ہزاروں کو گرفتار۔ مگر مظاہرے بڑھتے ہی رہے ۔ پھر فوج کو

بلا لیا گیا۔ بھٹو نے فوج کو براہ راست حکم دیا کہ عوام پر گولیاں چلائے۔ لاہور میں چار بریگیڈیئروں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کردیا اور فوج میں بغاوت پھیل گئی۔ اب صورتحال بہت نازک ہوچکی تھی۔ فوج کا ڈسپلن ٹوٹ رہا تھا، پورے ملک میں مظاہرے ہورہے تھے، اور بھٹو بضد تھا کہ فوج اپنے ہی عوام کا قتل عام کرے۔ یہ وہ موقع تھا کہ جب مجبوراً اس وقت کے سپہ سالار جنرل ضیاءالحق کو ملک میں مارشل لاءلگانا پڑا۔ لوگ ضیاءالحق کو مارشل لگانے پر تو گالیاں دیتے ہیں مگر کوئی ان اسباب کا ذکر نہیں کرتاکہ ایسا کرنے کی نوبت کیوں پیش آئی۔آج نہ کوئی بھٹو کے جرائم کی بات کرتا ہے کہ جن کی وجہ سے فوج مجبور ہوئی کہ عوام کو بچانے کیلئے مارشل لاءلگائے۔وطن عزیز سے ہر قسم کے فتنے کو دفن کرنا ہم سب پر لازم ہے ،اور ہم کامیاب ہوں گے، ان شاءاللہ۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎