Android AppiOS App

زبان

  جمعرات‬‮ 12 جولائی‬‮ 2018  |  14:41

ایک دن میں گوشت کی دکان پر کھڑا اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا،وہاں اور بھی کئی مرد و خواتین گاہک تھے، جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے ہر ایک کو جلدی تھی لیکن گوشت فروش اور اس کا ایک چھوٹا بھائی کس کس کو ہینڈل کرتے ۔اس دوران گاہک اور قصاب کے بیچ جو برجستہ مکالمے ہو رہے تھے میں نے جب اس پر غور کیا تو بہت ہی دلچسپ اور عجیب منظر سامنے آیا.شمیم بھائی پہلے میرا قیمہ بنا

دیجئے،ایک خاتون کہہ رہی تھیں۔ بہن جی آپ فکر ہی نہ کریں ،میں آپ کا ایسا قیمہ گا کہ آپ یاد کریں گی!تو ذرا جلدی کریں نا شمیم بھائی! بس آپ کھڑی رہیں ۔آپ کے کھڑے کھڑے میں آپ کا قیمہ بنا دوں گا

’’قیمہ باریک بناؤں یا موٹا ‘‘باریک ٹھیک رہے گا لیکن میں ذرا جلدی میں ہوں۔بہن جی یہ غفور بھائی کا قیمہ ہے یہ والا جو میں کوٹ رہا ہوں ،اس کے بعد انشاء اللہ آپ کا قیمہ بنے گا،ایک صاحب جھنجلا کر التجا کرتے ہیں."شمیم بھائی میرے گردے کا کیا ہوا؟ مجھے فارغ کر دیتے تو اچھا تھا، میری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے "’یہ والا! ‘‘ شمیم کا چھوٹا بھائی جو شکل سے ہیرو لگتا ہے گردہ فضا میں بلند کرتے ہوئے کہتا ہے آپ ہی کا گردہ ہے ابھی نکالے ہیں بنا کر دیتا ہوں ۔

آپ اطمینان رکھیں. اور ہاں! گھر جا کر آرام کرلینا اور میری ران یہ رہی آپ کی ران بالکل نرم اور تازہ تازہ اور میرا ا دست ؟ابھی توڑتا ہوں ،ایک خاتون بے تابی سے بولی." بھیا ذرا میری زبان تو نکال دو.. "آپا آپ صبر کریں. تھوڑی دیر لگے گی کیونکہ آپ کے شوہر صبح مجھ سے فرمائش کر کے گئے ہیں کہ بوٹی چھوٹی چھوٹی اور نفاست سے کرنا۔ ارے شمیم بھائی! میرے بھیجے کا نمبر کب آئے گا؟ "کسی نے شکایتی لہجے میں کہا." بس حاجی صاحب! حکیم جی کے دل اور کلیجی نکال دوں اس کے بعد آپ کو بھی نپٹا دوں گا "شمیم بھائی نے چھری پر چھری تیزی سے پلٹاتے ہوئے مسکرا کر کہا.

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎