Android AppiOS App

بیٹے کی قربانی

  جمعرات‬‮ 12 جولائی‬‮ 2018  |  13:18

ایک خفیہ مجاہد کی ناقابل یقین داستان یہ کہانی شہید کیپٹن قدیر کے استاد محترم میجر علی کی ہے میجر علی جن کا اصل نام کچھ اور ہے جو اس وقت بھی وطن عزیز کی حفاظت کی خاطر ایک خفیہ مشن پر موجود ہیں مشن کی حساسیت کی وجہ سے میجر صاحب کا اصل نام تبدیل کر دیا ہے کیپٹن قدیر کی طرح میجر علی کا تعلق بھی ایک بہت امیر گھرانے سے ہے میجر علی کا تعلق پنجاب کے ایک سیاسی گھرانے سے تھا

میجر علی کے والد صاحب متعدد بار ایم پی اے ایم این اے رہے تھے علی اپنے باپ کی واحد اولاد ہیں میجر علی کے والد چند سال پہلے وفات پا چکے ہیں میجر علی کے والد میجر صاحب کو سیاست میں

آنے کا کہتے ہیں اور کہتے ہیں ایم پی وغیرہ بن کر سیاست کرو آرام سے کھاؤ پیو اور ملک کی خدمت کرومیجر علی جو سیاست سے نفرت کرتے ہیں یکسر انکار کر دیتے ہیں اور اپنے والد کو کہتے ہیں ملک کی خدمت کروں گا مگر فوجی بن کر اپنے وطن عزیز کی خاطر سب کچھ قربان کر دونگا دھن کا پکا یہ نوجوان فوج میں سیکنڈ لیفٹینٹ بھرتی ہوجاتا ہے اور اپنی قابلیت اور جذبے کی بنا پر خفیہ ایجنسی میں سیلیکٹ ہوجاتا ہے

جیسے ہی علی فوج میں سیکنڈ لیفٹینٹ بھرتی ہوتا ہے تو اس کی شادی کر دی جاتی ہے میجر علی ترقی کرتے کرتے میجر کے عہدے تک پہنچ جاتے ہیں شادی کے کئی سال گزر جانے کے بعد بہت مَنتوں مرادوں کے بعد میجر علی کے گھر اللہ پاک چاند سا بیٹا عطا فرماتا ہے تو میجر علی خوشی سے پھولے نہی سماتے ہیں اور اس دن ان کی یونٹ میں جشن کا سما ہوتا ہے وقت گزرتے پتہ نہی چلتا اور پانچ سال کا عرصہ بیت جاتا ہے میجر علی کا بیٹا پانچ سال کا ہوجاتا ہےجب بلوچستان کے حالات بہت زیادہ خراب ہوجاتے ہیں تو میجر علی کیپٹن قدیر اور اپنی باقی مارخوروں کی ٹیم کے ساتھ وطن عزیز کے دشمنوں کو ختم کرنے کے لئے مختلف خفیہ روپوں میں بکھر جاتے ہیں کیپٹن قدیر اپنے لئے کوڑا اکٹھا کرنے والے کا روپ چنتا ہے

جیسا کہ کیپٹن قدیر کی سابقہ کہانی میں بتایا تھا میں نے آپ دوستوں کو میجر علی ایک الگ اور انتہائی حساس روپ میں دشمنوں کی صفوں میں شامل ہو جاتے ہیں میجر علی اہم معلومات پہنچا رہے تھے میجر علی کی ان معلومات کی وجہ سے سیکورٹی فورسز بہت بڑے بڑے حملوں کو ناکام بنا رہی تھیں بلوچستان کا امن بحال ہورہا تھا یاد رہے دوستو جب کوئی مارخور کسی خفیہ مشن پر ہو تو اس کا اپنی فیملی اہل خانہ سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوتا ہے اس مشن کے دوران میجر علی کا بیٹا شدید بیمار ہوجاتا ہے اور اسے ہسپتال منتقل کر دیا جاتا ہے میجر علی کی بیوی روازانہ اپنے شوہر کو اطلاع دینے کے لئے کال ملاتی ہے مگر آگے سے نمبر بند ملتا ہے بیٹا بابا بابا پکارتا رہتا ہے جب ماں اپنے بچے کی حالت برداشت نہی کر پاتی ہے تو جی ایچ کیو راولپنڈی رابطہ کرتی ہےاور ان سے فریاد کرتی ہے میجر علی تک یہ اطلاع پہنچائی جائے اور خدارا اسے گھر چھٹی پر بھیجا جائے ہمارا ایک بیٹا ہے

جو ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمش میں ہے فوجی ہیڈکوارٹر میں موجود فوجی افسران کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں فوری طور پر کیپٹن قدیر کے ذریعے میجر علی تک اطلاع پہنچائی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ میجر علی اپنا مشن ادھورا چھوڑ کر ہسپتال پہنچ کر بیٹے کی جان بچائیں دوسری طرف ہسپتال میں معصوم بچہ بیماری سے تڑپ رہا ہوتا ہے اور وہ بچہ کھانے پینے سے انکار کر دیتا ہے اس معصوم کے ہونٹوں پر بس ایک لفظ ہوتا ہےمما میرا بابا لا دو بابا بابا لا دو بےبس ماں معصوم بچے کو گلے لگاتی رہتی ہے زارو قطار روتے ہوئے جھوٹے دلاسے دیتی ہے مگر بچہ کسی دلاسے میں نہی آتا ہے بس ایک ہی لفظ بابا بابا لا دو کیپٹن قدیر کوڑا چنتے کے بہانے دشمن کے اس خفیہ ٹھکانے تک پہنچ جاتا ہے جدھر میجر علی موجود ہوتا ہے

کیپٹن قدیر میسج دیتا ہے کہ سر آپ مشن چھوڑ کر گھر پہنچیں آپ کے بچے کی زندگی خطرے میں ہے وہ ہسپتال منتقل ہے میجر علی یہ خبر سن کر اندر سے تو تڑپ جاتا ہے مگر اپنے اعصاب کو مضبوط کرتے ہوئے ایک تاریخی جملہ ادا کرتا ہے اور کہتا ہے کیپٹن قدیر ہم نے وطن عزیز کی حفاظت کی قسم کھائی ہے میں اپنے ایک بیٹے کی خاطر باقی ملک کے لاکھوں بیٹوں کی زندگیاں خطرے میں نہی ڈال سکتا ہوں جاؤ واپس میں مشن ادھورا چھوڑ کر نہی آؤں گایہ جملہ سن کر کیپٹن قدیر سکتے میں آجاتا ہے کہ یہ وہی میجر ہے جس نے اولاد کے لئے پتہ نہی کتنے پیروں فقیروں کی مزاروں پر جا کر دعا کروائی اور دس سال بعد ایک بیٹا پیدا ہوا اور وہی بیٹا زندگی اور، موت کی کشمکش میں ہے مگر میجر علی نے گھر جانے سے انکار کر دیا صرف پیارے پاکستان کی خاطر یہ انسان نہی فرشتہ ہے یقینن کیپٹن قدیر واپس آجاتا ہے مگر ٹھیک دو دن بعد کیپٹن قدیر کو اطلاع دی جاتی ہے

کہ میجر صاحب کو کہو اس کا بیٹا اب اس دنیا میں نہی رہا ہے معصوم بچہ ہسپتال میں بابا بابا کرتا مر جاتا ہے میجر صاحب تک جب یہ خبر پہنچتی ہے تو میجر صاحب کی آنکھوں سے آنسو کے چند قطرے گرتے ہیں اور میجر صاحب آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دعا کرتے ہیں اے اللہ گواہ رہنا تیرے کلمے کے نام پر بنے اس مدینہ ثانی ملک کے لئے ہم قربانیاں پیش کر رہے ہیں اللہ اس پاک وطن کو تاقیامت سلامت رکھنا ہماری قربانیوں کو قبول کرنا میں اب سوال کرتا ہوں ان لبرلز سے ان سیاست دانوں سے اور فوج پر تنقید کرنے والے ان تمام کتوں سے جو یہ کہتے ہیں فوجی تنخواہ کے لئے کام کرتے ہیںاوے بکواس کرنے والو کیا تم دے سکتے ہو اپنے واحد اولاد کی قربانی اوے نوازشریف تم کر سکتے ہو ایسا میجر علی کی طرح کلثوم نواز کو چھوڑ کر آجاؤ اور یہ بیان دو کہ میرے وطن عزیز پر میری بیوی کلثوم قربان حسن حسین کی قربانی دے سکتے ہو؟؟

میری فوج پر تنقید کرنے والو تم اس طرح قربانیاں پیش کرو کر سکتے ہو ایسا تو پھر تنقید کا حق ہے تمہیں ورنہ اپنی بکواس بند رکھو نوٹ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم فوج پر نہی فوج کے جنرلز پر تنقید کرتے ہیں تو ان کتوں کو بتا دو فوج میں ڈائیریکٹ جنرل بھرتی نہی ہوتے یہی کوئی بھی جنرل میجر علی کی طرح مختلف قسم کی قربانیاں دے کر آدھی سے زیادہ زندگی فوج کو دے کر ترقی کرکے جنرل بنتے ہے سوشل میڈیا کے نوجوانو میرے محب وطن پاکستانیو خدارا اپنی فوج کی قدر کرو یہ فوجی آپ کی خاطر اپنے بچوں کو گھر بار کو چھوڑ کر گھر سے بےگھر ہوتے ہیں کس لئے صرف اس لیے کہ پاکستان کی عوام اپنے اپنے گھروں میں امن سکون سے رہےفوج تمہارے لئے بیٹے قربان کر رہی ہے

مگر کیا تم اس فوج کی حوصلہ افزائی کے لئے انہیں اپنی محبت کا بھر پور احساس دلانے کے لئے سوشل میڈیا پر چند جملے نہی لکھ سکتے؟؟ اٹھو لکھو کہ ہم پاکستانی قوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں جدھر جدھر کوئی فوجی ملے اسے سیلوٹ مارو ان سے محبت کا بھرپور اظہار کرو فوج تم سے کچھ نہی مانگتی سوائے محبت کے چند جملوں کے اپنے اپنے قلم سے وی لو یو پاک فوج لکھو سوشل میڈیا پر جب بھی کوئی بھی پوسٹ کرو اس کے نیچے پاک فوج زندہ باد لکھنا مت بھول آپ کا یہی جملہ آپ کی فوج کے حوصلے بلند اور دشمنوں کے حوصلے پست کرے گا پاک فوج زندہ باد پاکستان ہمیشہ زندہ باد

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎