حضرت عمرؓ کا معافی مانگنا

  بدھ‬‮ 27 جون‬‮ 2018  |  13:13

ایک مرتبہ سیدنا بلالؓ بیٹھے ہوئے تھے، کوئی بات چلی تو عمرؓ نے کوئی سخت لفظ استعمال کر دیا، جب عمرؓ نے سخت لفظ استعمال کیا تو بلالؓ کا دل جیسے ایک دم بجھ جاتا ہے اس طرح سے ہو گیا اور وہ خاموش ہو کر وہاں سے اٹھ کر چلے گئے، جیسے ہی وہ اٹھ کر گئے، عمرؓ نے محسوس کر لیا کہ انہیں میری اس بات سے صدمہ پہنچا ہے، چنانچہ عمرؓ اسی وقت اٹھے، بلالؓ کو آ کر ملے، کہنے لگے:

اے بھائی! میں نے ایک سخت لفظ استعمال کر لیا، آپ مجھے اس

کےلیے معاف کر دیں، انہوںکہا، جی جی مگر عمرؓ کوتسلی نہیں ہو رہی تھی اس لیے کہ وہ ذرا خاموش خاموش تھے، دل جو دکھا تھا تو جب عمرؓ نے دیکھا کہ بلال کا دل خوش نہیں ہو رہا تو بات کرنے کے بعد بلالؓ کے سامنے زمین پر لیٹ گئے اور کہا: بھائی! میرے سینے پر اپنے قدم رکھ دو! میری غلطی کو اللہ کے لیے معاف کر دو! بلالؓ کی آنکھوں سے آنسو آ گئے، امیر المومنین! میں ایسی حرکت کیسے کر سکتاہوں؟ جو بڑے حضرات تھے اپنی زندگی کے معاملے کو ایسے سمیٹا کرتے تھے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎