انسانی روح کا وزن

  بدھ‬‮ 13 جون‬‮ 2018  |  13:30

ڈاکٹرایل جان نے دس سال قبل تجربات شروع کئے ‘ وہ انسانی روح کا وزن معلوم کرنا چاہتا تھا‘ اس نے نیو یارک کے چند ڈاکٹروں کو ساتھ ملایا اورمختلف طریقے وضع کرنا شروع کر دئیے ‘ یہ لوگ بالآخر ایک طریقے پر متفق ہو گئے۔ ڈاکٹر نزع کے شکار لوگوںکو شیشے کے باکس میں رکھ دیتے تھے‘ مریض کی ناک میں آکسیجن کی چھوٹی سی نلکی لگا دی جاتی تھی اور باکس کو انتہائی حساس ترازوپر رکھ دیا جاتا تھا ‘ ڈاکٹر باکس پر نظریں جما کر کھڑے ہو جاتے تھے ‘ مریض آخری ہچکی لیتا تھا‘اس

کی جان

تھی اور ترازو کے ہندسوں میں تھوڑی سی کمی آ جاتی تھی ‘ ڈاکٹر یہ کمی نوٹ کرلیتے تھے ‘ ان لوگوں نے پانچ سال میں بارہ سو تجربے کئے‘ 2004ءکے آخر میں ڈاکٹر ایل جان کی ٹیم نے اعلان کیا”انسانی روح کا وزن 67 گرام ہوتا ہے“ ڈاکٹر جان نے اپنی تھیوری کے جواز میں 12 سو مردوں کی ہسٹری بیان کی‘ اس کا کہنا تھا ان کے باکس میں رکھا شخص جوں ہی فوت ہوتا تھا اس کا وزن 67 گرام کم ہوجاتا تھا لہٰذا وہ بارہ سو تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں انسانی روح کا وزن 67 گرام ہوتاہے۔ اسی قسم کے تجربات لاس اینجلس کے ایک ڈاکٹر ابراہام نے بھی کئے تھے ‘ اس نے انتہائی حساس ترازو بنایا ‘

وہ مریض کو اس ترازو پر لٹاتا ‘ مریض کے پھیپھڑوں کی آکسیجن کا وزن کرتا اور اس کے مرنے کا انتظار کرتا ‘ ڈاکٹر ابراہام نے بھی سینکڑوں تجربات کے بعد اعلان کیا ”انسانی روح کا وزن 21 گرام ہے“ ابراہام کا کہنا تھا انسانی روح اس 21 گرام آکسیجن کا نام ہے جو پھیپھڑوں کے کونوں‘ کھدروں‘ درزوں اور لکیروں میں چھپی رہتی ہے‘ موت ہچکی کی صورت میں انسانی جسم پر وار کرتی ہے اور پھیپھڑوں کی تہوں میں چھپی اس 21 گرام آکسیجن کو باہر دھکیل دیتیہے اس کے بعد انسانی جسم کے سارے سیل مر جاتے ہیں اورانسان فوت ہوجاتا ہے۔ڈاکٹر ایل جان کا تخمینہ درست ہے یا ڈاکٹر ابراہام کی تحقیق ‘ یہ فیصلہ ابھی باقی ہے تاہم یہ طے ہو چکا ہے انسانی روح کا وزن گراموں میں ہوتا ہے اور ہمارے جسم سے 21 یا 67 گرام زندگی خارج ہوتی ہے اورہم فوت ہوجاتے ہیں ‘ میں نے پچھلے دنوں ہالی وڈ کی ایک فلم دیکھی تھی ‘

یہ فلم ڈاکٹر ابراہام کی تھیوری پر بنی تھی اور اس میں بھی انسانی روح کو 21 گرام قرار دیا گیا تھا لہٰذا اگر ہم فرض کرلیں ہمارے جسم میںبھاگنے دوڑنے والی زندگی کا وزن محض 21 گرام ہے توسوال پیدا ہوتا ہے ان 21 گراموں میں ہماری خواہشوں کا وزن کتنا ہے ‘اس میں ہماری نفرتیں ‘ ہمارے ارادے ‘ ہمارے منصوبے ‘ ہماری ہیرا پھیریاں ‘ ہمارے سمجھوتے‘ ہماری چالاکیاں ‘ ہمارے لالچ ‘ ہماری سازشیں اور ہماری ابد تک زندہ رہنے کی تمنا کتنے گرام وزنی ہے ‘ان 21 گراموں میں ہماری یونیفارم ‘ ہمارے ایل ایف او‘ ہماری ڈیل ‘ ہمارے اقتدار ‘ ہمارے الیکشن ‘ ہماری لبرل ازم ‘ہماری آزاد خیالی اور ہماری بہادری کا کتنا وزن ہے ‘ ان 21 گراموں میں ہمارے حوصلے ‘ ہماری قوت برداشت ‘ہماری جرات ‘ ہماری خوشامد ‘ ہماری پھرتیوں ‘

ہماری عقل اور ہماری فہم کا کتنا حصہ ہے‘ان 21 گراموں میں ہماری سمارٹ نس ‘ ہماری الرٹ نس ‘ ہماری فارن پالیسی اور ہماری امریکہ نوازی کا بوجھ کتنا ہے اور ہم لاہور کے سارے پلاٹ ہتھیانا چاہتے ہیں ‘ ہم اپنی اگلی نسل کو بادشاہ بنانا چاہتے ہیں ‘ ہم اپنی ساری دولت سپین شفٹ کرنا چاہتے ہیں اور ہم اگلے بیس پچیس برس تک کرسی پر جلوہ افروز رہنا چاہتے ہیں ‘ہم نے خوشامد کو آرٹ کی شکل دے دی ہے ‘ ہم روزانہ بیسیوں لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں ‘ ہم ایک منٹ میں دس دس مرتبہ اپنے ضمیر کا سودا کرتے ہیں اور ہم صرف اپنا اقتدار بچانے کیلئے چھ چھ سو بے گناہوں کو ظالموں کے حوالے کر دیتے ہیں ‘ ہم داڑھی اور نماز کو خوف کی شکل دے رہے ہیں اور ہم ظالم سے نفرت کرنے والے ہر شخص کو مجرم سمجھتے ہیں‘سوال پیدا ہوتا ہے ہماری ان ساری سوچوں ‘ ہمارے ان سارے خیالات اور ہماری ان ساری خواہشوں کا وزن کتنا ہے اور ان21 گراموں میں ہماری گردن کی اکڑ ‘ ہمارے لہجے کے تکبر اور ہماری نظر کے غرور کا بوجھ کتنا ہے اور ہم ان21 گراموںکی مدد سے قدرت کا کتنی دیر تک مقابلہ کر سکتے ہیں ‘ ہم ان 21 گراموں کی مدد سے قدرت کے فیصلوں سے کتنی دیر تک بچ سکتے ہیں ‘ یہ 21 گرام ہمیں کتنی دیر تک وقت کی آنچ سے بچا سکتے ہیں ‘

یہ21 گرام کب تک ہمارے غرور کی حفاظت کر سکتے ہیں اور یہ 21 گرام ہمارے منصوبوں اور ہماری خواہشوں کی کتنی دیرنگہبانی کر سکتے ہیں۔میں نے کسی جگہ پڑھا تھا تبت کے لوگ 21گراموں کی اس زندگی کو موم سمجھتے ہیں لہٰذا یہ لوگ صبح کے وقت موم کے دس بیس مجسمے بناتے ہیں اور یہ مجسمے اپنی دہلیز پر رکھ دیتے ہیں ‘ ان میں سے ہر مجسمہ ان کی کسی نہ کسی خواہش کی نمائندگی کرتا ہے ‘ دن کو سورج کی تپش میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ مجسمے پگھلنے لگتے ہیں حتیٰ کہ شام تک ان کی دہلیز پر موم کے چند آنسوﺅں کے سوا کچھ نہیں بچتا ‘ یہ لوگ ان آنسوﺅں کو دیکھتے ہیں اور اپنے آپ سے پوچھتے ہیں

”کیا یہ تھیں میری ساری خواہشیں“ اور اس کے بعد ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور وہ کائنات کی اس طاقت کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں جو ان کے 21 گرام کی اصل مالک ہے ‘ جس کے حکم سے ان کی سانسیں چلتیں اور ان کے قدم اٹھتے ہیں ‘ میں نے کسی جگہ پڑھا تھا ہمارے بدن میںایک منٹ میں 87 کروڑ حرکتیں ہوتی ہیں اور ہمارے ذہن میں ایک منٹ میں اربوں خیال آتے ہیں اور ہم ایک منٹ میں ایک لاکھ دس ہزار منصوبے بناتے ہیں لیکن اگلے منٹ یہ سارے خیال ‘ یہ سارے منصوبے اور یہ ساری کروٹیں ہمارے ذہن کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتی ہیں ‘ ہم اپنے خیال بھول جاتے ہیں۔ ہمارے یہ سارے خیال ‘ یہ سارے منصوبے اور یہ ساری حرکتیں بھی انہیں 21 گراموں کی مرہون منت ہیں --اور یہ 21 گرام آگے چل کر موم کے پتلے ثابت ہوتے ہیںلیکن آپ انسان کا کمال دیکھئے ڈیڑھ سو گرام گندم ‘ 8 اونس انگور اور کسی ایک سینیٹر کی خوشامد اس کے 21گراموں کو خدا بنا دیتی ہے۔ یہ خدا کے لہجے میں بولنا شروع کردیتاہے ‘ یہ اپنی ذات کو ملک کی بقا قرار دے دیتا ہے اور یہ خود کو ناگزیر سمجھنے لگتا ہے ‘ہم سب کیا ہیں؟

محض 21 گرام ‘ محض ایک سانس ‘ محض ایک ہچکی ‘ محض ایک چھینک ‘ محض ایک جھٹکا ‘ محض ایک بریک ‘ محض دماغ کا ایک شارٹ سرکٹ اور محض دل کے اندر اٹھتی ہوئی ایک لہر اور بس‘ ہم نے کبھی سوچا 21 گرام کتنے ہوتے ہیں‘21گرام لوبیے کے 14 دانے ہوتے ہیں ‘ ایک ٹماٹر ‘ پیاز کی ایک پرت ‘ ریت کی چھ چٹکیاں اور پانچ ٹشو پیپرہوتے ہیں‘ یہ ہیں ہم اور یہ ہے ہماری اوقات لیکن ہم بھی کیا لوگ ہیں‘ ہم 21 گرام کے انسان خود کو کھربوں ٹن وزنی کائنات کے خدا سمجھتے ہیں‘ ہم 21گرام کے انسان خود کو 21گرام کے کروڑوں انسانوں کا حکمران سمجھتے ہیں‘ہم وقت کو اپنا غلام اور زمانے کو اپنا ملازم سمجھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں بس ذرا سی تپش کی دیر ہے اور ہمارے سارے اختیار‘ ہمارے سارے اقتدار کی موم پگھل جائے گی‘ ہم شام تک موم کا آنسو بن جائیں گے‘ ہمارے 21گرام منوں مٹی میں مل جائیں گے‘ ہم تاریخ کی سلوں تلے دفن ہوجائیں گے اور21 گرام کا کوئی دوسرا خدا ہماری جگہ لے لے گا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎