Android AppiOS App

’’میری 100سالہ دادی اور بہنیں ناگن تھیں اس لیے انہیں قتل کر دیا‘‘ بات یہیں نہیں ختم ہوئی جانتے ہیں قلعہ دیدار سنگھ کا یہ نوجوان دراصل کون ہے ؟ اہل علاقہ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ حیرت انگیز تفصیلات سامنے آگئیں

  پیر‬‮ 11 جون‬‮ 2018  |  18:03

’’میری 100سالہ دادی اور بہنیں ناگن تھیں اس لیے انہیں قتل کر دیا‘‘بات یہیں نہیں ختم ہوئی جانتے ہیں قلعہ دیدار سنگھ کا یہ نوجوان دراصل کون ہے ؟اہل علاقہ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ حیرت انگیز تفصیلات سامنے آگئیں ۔گوجرانولہ کےرہائشی نے اپنے دادی اور بہنوں پر ایسا الزام لگا دیا کہ پوری علاقے لوگوں میں خوف ہراس پھیل گیا ۔ خبر کی تفصیل کے مطابق گوجرانولہ کےایک شخص نے اپنے دادی اور بہنوں پر الزام لگایا کہ وہ ناگن ہیں، شخص نے ان پر نڈے برسائے اور ان پر لعن طعن بھی کرتا رہا ۔

 اہل علاقے نے بتایا ہے کہ ملزم اپنی100سالہ دادی اور بہنوں پر ناگن ہونے کا الزام لگاتاجاتا اور ساتھ ساتھ ان پر ڈنڈے بھی برساتا رہا ایسے

میں وہ کہتا رہا کہ میں جلال الدین اکبر باداشاہ ہوں ، مجھے بادشاہ مانو۔ جبکہ وہ شخص اس بات کا دعویٰ بھی کرتا کہ میرے اندر جلال الدین اکبر بادشاہ کی روح موجود ہے ۔ اہل علاقہ نے بتایا ہے کہ ملزم نے رات کے اندھیر میں ٹی وی کا آواز اونچا کر کے اپنی بوڑھی داد ی اور بہنوں پر ڈنڈوں کی بارش کرکے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا ۔اہل علاقہ نے 100سالہ دادی اور پوتیوں کی لاشوں کو خون میں لت پت پایا اور سدرہ نامی بچی کو تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچایا جہاں

اس کا علاج کیا جارہا ہے ۔ پولیس کو موقع پر اطلاع دی گئی جس کی بروقت کاروائی سے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ۔ جیل میں قید ملزم کا کہنا ہے کہ میں جلال الدین بادشاہ ہوں اور اسے ایک راز ہی رہنے دیا جائے ۔ ملزم کا کہنا تھا کہ شاہی قلعہ پر لکھا ہوا ہے ، پُر اسرار مُسکراہٹ کے ساتھ ملزم نے کہا کہ وہ میں ہی ہوں۔جبکہ ملزم نے مزید بات سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں مزید کچھ بھی بتانے سے قاصر ہوں ، مجھ پر شیطانی عمل کیا گیا ہے جب وہ ٹوٹے گاتوہی میں مزید کچھ بیان کر سکوں گا ۔ ملزم حیرت انگیز دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بہنیں اور100سالہ دادی شیطانی عمل سے ناگن کی حالت میں تھیں اور گستاخی کرتیں تھیں میں انہیں نماز پڑھنے سے روکتا تھا ۔ ان کے نماز پڑھنے سے میرے اوپر بوجھ بڑھتا چلا جاتا تھا اس لیے میں انہیں مار کر قتل کر دیا ۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎