تبرک

  منگل‬‮ 5 جون‬‮ 2018  |  12:38

یہ 2015ءکا واقعہ ہے‘ منظر بہت دلچسپ تھا‘ بلاول بھٹو زلزلہ زدگان سے ملاقات کےلئے پشاور گئے‘ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور شیری رحمان بھی ان کے ساتھ تھیں‘ ہمایوں خان کے گھر دعائیہ تقریب تھی‘ قائم علی شاہ اور شیری رحمان دونوں بلاول بھٹو سے پہلے وہاں پہنچ گئے‘ لوگ جمع تھے‘ لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا‘ لوگوں میں ایک جیالا بھی شامل تھا‘ جیالا آگے بڑھا اور اس نے قائم علی شاہ کے سر پر سندھی ٹوپی رکھ دی اور ان کے گلے میں اجرک ڈال دی‘ لوگوں نے جئے بھٹو کے

نعرے لگائے‘ قائمعلی شاہ نے اس کے بعد میڈیا سے گفتگو کی‘اس ساری کارروائی کے بعد مہمان اور میزبان دونوں خاموش بیٹھ گئے

‘ میڈیا میں سے کسی رپورٹر نے شیری رحمان سے پوچھا ”بلاول بھٹو کب آئیں گے“ شیری نے جواب دیا ”وہ تھوڑی دیر میں پہنچ جائیں گے“ یہ گفتگو سید قائم علی شاہ کے سر پر ٹوپی رکھنے والا بھی سن رہا تھا‘ وہ فوراً اپنی جگہ سے اٹھا‘ تیر کی طرح قائم علی شاہ کے پاس گیا‘ ایک ہاتھ سے ان کے سر سے ٹوپی اتاری‘ دوسرے ہاتھ سے کندھے سے اجرک کھینچی اور اونچی آواز میں بولا ” سائیں معذرت کے ساتھ یہ دونوں بلاول بھٹو کےلئے ہیں“ شاہ صاحب جیالے کی شکل دیکھتے رہ گئے۔یہ جیالا ہمارے معاشرے میں تنہا نہیں‘ آپ اگر اپنے دائیں بائیں دیکھیں تو آپ کو ایسے ہزاروں لاکھوں لوگ ملیں گے جنہیں جب یہ معلوم ہوتا ہے‘ وزیراعلیٰ کا باس آ رہا ہے تو یہ قائم علی شاہ کے سر سے ٹوپی اور کندھے سے اجرک اتارتے دیر نہیں لگاتے‘

یہ عملی لوگ ہیں‘ ان کا عمل صرف یہاں تک نہیں رہتا‘ یہ لوگ بعد ازاں قائم علی شاہ کے سر سے اتاری ہوئی ٹوپی اور اجرک بلاول بھٹو کے کندھوں اور سر پر رکھتے ہیں‘ جئے بھٹو کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہیں اور اگلے دن جیالے کی مسکراتی ہوئی تصویر اخبارات میں شائع ہو جاتی ہے‘ مجھے یقین ہے‘ بلاول بھٹو نے جب رخصت ہوتے وقت وہ اجرک اور وہ ٹوپی اتاری ہو گی تو اسی جیالے نے ان سے بطور تبرک یہ دونوں واپس اچک لی ہوں گی اور یہ اب مستقبل میں آصف علی زرداری کے استقبال میں کام آئیں گی‘ یہ واقعہ صرف قائم علی شاہ کے ساتھ پیش نہیں آیا‘ ملک کے زیادہ تر سیاستدان‘ فوجی جرنیل‘ بیوروکریٹس اور میڈیا پرسنز اکثر اوقات ایسے حالات سے گزرتے رہتے ہیں۔ نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎